या ब्लॉगचा उद्देश एकाच ठिकाणी सर्व प्रकारच्या उपयुक्त आणि महत्वपूर्ण माहिती प्रदान करणे आहे.या ब्लॉगची सामग्री सोशल मीडियामधून घेतली आहे.
Showing posts with label سبق آموز قصے. Show all posts
Showing posts with label سبق آموز قصے. Show all posts

Sunday, June 28, 2020

بیوی ایک انمول تحفہ





بیوی کو شادی کے چند سال بعد خیال آیا
کہ اگر وہ اپنے شوہر کو چھوڑ کے چلی جائے
تو شوہر کیسا محسوس کرے گا
یہ خیال اس نے کاغذ پر لکھا
"اب میں تمہارے ساتھ اور نہیں رہ سکتی
میں اب بور ہو گئی ہوں تمہارے ساتھ
میں گھر چھوڑ کے جا رہی ہوں ہمیشہ کے لئے"
اس کاغذ کو اس نے میز پر رکھا
اور جب شوہر کے آنے کا ٹائم ہوا تو
اس کے رد عمل دیکھنے کے لئے بستر کے نیچے چھپ گئی
شوہر آیا اور اس نے میز پر رکھا کاغذ پڑھا
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اس نے اس کاغذ پر کچھ لکھا
پھر وہ خوشی کے مارے جھومنے لگا
گیت گانے لگا، رقص کرنے لگا اور کپڑے بدلنے لگا
پھر اس نے اپنے فون سے کسی کو فون لگایا اور کہا
"آج میں آزاد ہو گیا
شاید میری بیوقوف بیوی کو سمجھ آ گیا
کہ وہ میرے لائق ہی نہیں تھی
لہذا آج وہ گھر سے ہمیشہ کے لئے چلی گئی
اس لئے اب میں آزاد ہوں
اور تم سے ملنے کے لئے میں آ رہا ہوں
کپڑے بدل کر تم بھی تیار ہو کے
میرے گھر کے سامنے والے پارک میں ابھی آ جاؤ"
شوہر باہر نکل گیا
آنسو بھری آنکھوں سے بیوی بستر کے نیچے سے نکلی
اور کانپتے ہوئے ہاتھوں سے کاغذ پر لکھی لائن پڑھی
جس پر لکھا تھا
"بیڈ کے نیچے سے پاؤں دکھائی دے رہے ہیں باولی
پارک کے قریب والی دکان سے بریڈ لے کے آ رہا ہوں
تب تک چائے بنا لینا
میری زندگی میں خوشیاں تیرے آنے سے ہے
آدھی تجھے ستانے سے ہے❤❤
 آدھی تجھے منانے سے ہے❤❤😁😁😁

Sunday, June 14, 2020

نیک سیرت لوہار


عبداللہ طاہر جب خراسان کے گورنر تھے اور نیشاپور اس کا دارالحکومت تھا تو ایک لوہار شہر ہرات سے نیشاپور گیا اور چند دنوں تک وہاں کاروبار کیا۔ پھر اپنے اہل و عیال سے ملاقات کے لئے وطن لوٹنے کا ارادہ کیا اور رات کے پچھلے پہر سفر کرنا شروع کردیا۔ ان ہی دنوں عبد اللہ طاہر نے سپاہیوں کو حکم دے رکھا تھا کہ وہ شہر کے راستوں کو محفوظ بنائیں تاکہ کسی مسافر کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔ 

اتفاق ایسا ہوا کہ سپاہیوں نے اسی رات چند چوروں کو گرفتار کیا اور امیر خراسان (عبد اللہ طاہر) کو اسکی خبر بھی پہنچا دی لیکن اچانک ان میں سے ایک چور بھاگ گیا۔ اب یہ گھبرائے اگر امیر کو معلوم ہوگیا کہ ایک چور بھاگ گیا ہے تو وہ ہمیں سزا دے گا۔ اتنے میں انہیں سفر کرتا ہوا یہ (لوہار) نظر آیا۔ انھوں نے اپنی جان بچانے کی خاطر اس بےگناہ شخص کوفوراً گرفتار کرلیا اور باقی چوروں کے ساتھ اسے بھی امیر کے سامنے پیش کردیا۔ امیرخراسان نے سمجھا کہ یہ سب چوری کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں اس لئے مزید کسی تفتیش و تحقیق کے بغیر سب کو قید کرنے کا حکم دے دیا۔

نیک سیرت لوہار سمجھ گیا کہ اب میرا معاملہ صرف اللہ جل شانہ کی بارگاہ سے ہی حل ہوسکتا ہے اور میرا مقصد اسی کے کرم سے حاصل ہوسکتا ہے لہٰذا اس نے وضو کیا اور قید خانہ کے ایک گوشہ میں نماز پڑھنا شروع کردی۔ ہر دو رکعت کی بعد سر سجدہ میں رکھ کر اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں رقت انگیز دعائیں اور دل سوز مناجات شروع کردیتا اور کہتا۔ ’’ اے میرے مالک! تو اچھی طرح جانتا ہے میں بےقصور ہوں‘‘۔ جب رات ہوئی تو عبد اللہ طاہر نے خواب دیکھا کہ چار بہادر اور طاقتور لوگ آئے اور سختی سے اس کے تخت کے چاروں پایوں کو پکڑکر اٹھایا اور الٹنے لگے اتنے میں اس کی نیند ٹوٹ گئی۔ اس نے فوراً لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ پڑھا۔ پھر وضو کیا اور اس احکم الحاکمین کی بارگاہ میں دو رکعت نماز ادا کی جس کی طرف ہر شاہ و گدا اپنی اپنی پریشانیوں کے وقت رجوع کرتے ہیں۔ اس کے بعد دوبارہ سویا تو پھر وہی خواب دیکھا اس طرح چار مرتبہ ہوا۔ ہر بار وہ یہی دیکھتا تھا کہ چاروں نوجوان اس کے تخت کے پایوں کو پکڑ کر اٹھاتے ہیں اور الٹنا چاہتے ہیں۔امیر خراسان عبد اللہ طاہر اس واقعہ سے گھبرا گئے اور انہیں یقین ہوگیا کہ ضرور اس میں کسی مظلوم کی آہ کا اثر ہے جیسا کہ کسی صاحب علم و دانش نے کہا ہے:
نکند صد ہزار تیر و تبر
آنچہ یک پیرہ زن کند بہ سحر
ای بسا نیزۂ عدد شکناں 
ریزہ گشت از دعاے پیر زناں
یعنی لاکھوں تیر اور بھالے وہ کام نہیں کر سکتے جو کام ایک بڑھیا صبح کے وقت کردیتی ہے۔ بارہا ایسا ہوا ہے کہ دشمنوں سے مردانہ وار مقابلہ کرنے اور انہیں شکست دینے والے، بوڑھی عورتوں کی بد دعا سے تباہ وبرباد ہوگئے۔

امیر خراسان نے رات ہی میں جیلر کو بلوایا اور اس سے پوچھا کہ بتاؤ! تمہارے علم میں کوئی مظلوم شخص جیل میں بند تو نہیں کردیا گیا ہے؟ جیلر نے عرض کیا۔ عالیجاہ! میں یہ تو نہیں جانتا کہ مظلوم کون ہے لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ میں ایک شخص کو دیکھ رہا ہوں جو جیل میں نماز پڑھتا ہے اور رقت انگیز و دل سوز دعائیں کرتا ہے۔

امیر نے حکم دیا: اسے فوراً حاضر کیا جائے۔ جب وہ شخص امیر کے سامنے حاضر ہوا تو امیر نے اس کے معاملہ کی تحقیق کی۔ معلوم ہوا کہ وہ بے قصور ہے۔امیر نے اس شخص سے معذرت کی اور کہا: آپ میرے ساتھ تین کام کیجئے۔
نمبر۱۔ آپ مجھے معاف کردیں۔
نمبر۲۔ میری طرف سے ایک ہزار درہم قبول فرمائیں۔
نمبر۳۔ جب بھی آپ کو کسی قسم کی پریشانی درپیش ہو تو میرے پاس تشریف لائیں تاکہ میں آپ کی مدد کر سکوں۔

نیک سیرت لوہار نے کہا: آپ نے جو یہ فرمایا ہے کہ میں آپ کو معاف کردوں تو میں نے آپ کو معاف کردیا اور آپ نے جو یہ فرمایا کہ ایک ہزار درہم قبول کرلوں تو وہ بھی میں نے قبول کیا لیکن آپ نے جو یہ کہا ہے کہ جب مجھے کوئی مشکل درپیش ہو تو میں آپ کے پاس آؤں، یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا۔

امیر نے پوچھا: یہ کیوں نہیں ہوسکتا؟ تو اس شخص نے جواب دیا کہ وہ خالق و مالک جل جلالہ جو مجھ جیسے فقیر کے لئے آپ جیسے بادشاہ کا تخت ایک رات میں چار مرتبہ اوندھا کر سکتا ہے تو اسکو چھوڑ دینا اور اپنی ضرورت کسی دوسرے کے پاس لے جانا اصولِ بندگی کے خلاف ہے۔ میرا وہ کون سا کام ہے جو نماز پڑھنے سے پورا نہیں ہو جاتا کہ میں اسے غیر کے پاس لے جاؤں۔ یعنی جب میرا سارا کام نماز کی برکت سے پورا ہوجاتا ہے تو مجھے کسی اور کے پاس جانے کی کیا ضرورت ہے۔ 

(ریاض الناصحین ص:۱۰۵،۱۰۴)
صرف آپ ہی پڑھ کر آگے نہ بڑھ جائیں بلکہ اوروں کو بھی شریک کریں, یہ صدقہ جاریہ ہوگا, اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردہ تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو .. جزاک اللہ خیرا کثیرا

Sunday, March 10, 2019

بیٹی


   ایک لڑکی نے مولانا سے کہاکہ ایک بات پوچھوں؟؟

مولانا نےکہا؛ بولو بیٹی کیا بات ھے؟؟

لڑکی نے کہا ہمارے سماج میں لڑکوں کو ہر طرح کی آزادی ہوتی ہے !! وہ کچھ بھی کریں؛ کہیں بھی جائیں، اس پر کوئی خاص روک ٹوک نہیں ہوتی!

اس کے بر عکس لڑکیوں کو بات بات پر روکا جاتا ہے۔ یہ مت کرو! یہاں مت جاو! گھر جلدی آجاؤ !!..٠٠
یہ سن کر مولانا مسکرائے اور کہا !!..

بیٹی آپ نے کبھی لوہے کی دکان کے باہر لوہے کے گودام میں لوہے کی چیزیں پڑیں دیکھیں ہیں ؟ یہ گودام میں سردی ٠گرمی ٠ برسات ٠رات٠ دن٠ اسی طرح پڑی رہتی ہیں ٠٠ اس کے باوجود ان کا کچھ نہیں بگڑتا اور ان کی قیمت پر بھی کوئی اثر نہیں پڑتا٠٠

لڑکوں کی کچھ اس طرح کی حیثیت ہے سماج میں!

اب آپ چلو ایک سنار کی دکان میں۔ ایک بڑی تجوری اس میں ایک چھوٹی تجوری اس میں رکھی چھوٹی سُندر سی ڈبی میں ریشم پر نزاکت سے رکھا چمکتا ہیرا٠۔۔
 کیو نکہ جوہری جانتا ہے کی اگر ہیرے میں ذرا بھی خراش آ گئی تو اس کی کوئی قیمت نہیں رہے گی۔۔

اسلام میں بیٹیوں کی اہمیت بھی کچھ اسی طرح کی ھے🌹🌹🌹
۔ پورے گھر کو روشن کرتی جھلملاتے ہیرے کی طرح ذرا سی خراش سے اس کے اور اس کے گھر والوں کے پاس کچھ نہیں بچتا 

 بس یہی فرق ہے لڑکیوں اور لڑکوں میں ٠

پوری مجلس میں خاموشی چھا گئ اس بیٹی کے ساتھ پوری مجلس کی آنکھوں میں چھائی نمی صاف صاف بتا رہی تھی لوہے اور ہیرے میں فرق ٠٠ 

*آپ سے  التجا ہے کہ یہ پیغام*
*اپنی بیٹیوں بہنوں کو ضرور*
*سنائیں، دکھائیں اور پڑھائیں*

Saturday, May 12, 2018

بد گمانی سے پہلے خوش گمانی کو کچھ وقت دیں

باپ چار بچوں کے ساتھ ٹرین میں سوار ہوا، ایک سیٹ پرخاموشی سے بیٹھ گیا
اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا
بچے؟
بچے نہیں آفت کے پرکالے تھے۔
انہوں نے ٹرین چلتے ہی آسمان سر پر اٹھا لیا
 کوئی اوپر کی سیٹوں پر چڑھ رہا ہے ،تو کسی نے مسافروں کا سامان چھیڑنا شروع کر دیا
 کوئی چچا میاں کی ٹوپی اتار کر بھاگ رہا ہے تو کوئی زور زور سے چیخ کر آسمان سر پر اٹھا رہا ہے
مسافر سخت غصے میں ہیں
کیسا باپ ہے ؟
نہ انہیں منع کرتا ہے نہ کچھ کہتا ہے
 کوئی اسے بے حس سمجھ رہا ہے تو کسی کے خیال میں وہ نہایت نکما ہے
 بلآخر جب برداشت کی حد ہو گئی تو ایک صاحب غصے سے اٹھ کر باپ کے پاس پہنچے اور ڈھاڑ کر بولے
"آپ کے بچے ہیں یا مصیبت ؟ آخر آپ ان کو ڈانٹتے کیوں نہیں؟
 باپ نے ان صاحب کی طرف دیکھا اس کی آنکھیں آنسووں سے لبریز تھیں اور بولا
 'آج صبح ان کی ماں کا انتقال ہو گیا ہے میں ان کو وہیں لے کر جا رہا ہوں۔ مجھ میں ہمت نہیں کہ ان کو کچھ کہہ سکوں۔ آپ روک سکتے ہیں تو روک لیں ۔۔۔۔۔۔
سارے مسافرایک دم سناٹے میں آ گئے۔۔۔
ایک ہی لمحے میں منظر بالکل بدل چکا تھا
وہ شرارتی بچے سب کو پیارے لگنے لگے تھے
سب آبدیدہ تھے
سب انہیں پیار کر رہے تھے،
اپنے ساتھ چمٹا رہے تھے۔
 زندگی میں ضروری نہیں کہ حقائق وہ ہی ہوں جو بس ہمیں نظر آرہے ہوں
بلکہ وہ بھی ہوسکتے ہیں جو ہمیں نظر نہ آ رہے ہو ں،
یاد رکھیئے
رائے بنانے میں وقت لگائیں،
بد گمانی سے پہلے خوش گمانی کو کچھ وقت دیں،
فیصلے سے پہلے ذرا ایک بار اور سوچ لیں،
بس ایک بار اور۔۔۔۔۔
اور بس اپنے ہی درست اور عقل کل ہونے پہ اصرار نہ کریں۔
اللہ بہت محبت سے ہمیں دیکھ رہا ہے
 اور ہم سے اپنے بندوں کے لئے نرمی اور معافی کا طلبگار ہے۔۔۔۔!!!!

Thursday, May 3, 2018

*ایک سے زائد شادیاں*


 *ایک خاتون کادرد بھرا خط*:
لاکھ دفعہ سوچا کہ یہ خط لکھوں یا نہ لکھوں کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ میری یہ باتیں بعض خواتین پسند نہ کریں بلکہ شاید وہ مجھے پاگل سمجھیں لیکن پھر بھی جو مجھے حق سچ لگا باقاعده ہوش وحواس میں لکھ رہی ہوں۔ میری ان باتوں کو شاید وہ خواتین اچھی طرح سمجھ پائیں گی جو میری طرح کنواری گھروں میں بیٹھی بیٹھی بڑھاپے کی سرحدوں کو چھو رہی ہیں۔ بہر حال میں اپنا مختصر قصہ لکھتی ہوں شاید میرا یہ درد دل کسی بہن کی زندگی سنورنے کا ذریعہ بن جائے اور مجھے اس کی برکت سے امهات المؤمنين رضى الله عنهن کے پڑوس میں جنت الفردوس میں ٹھکانہ مل جائے۔
میری عمر جب20 سال ہو گئی👸🏻 تو میں بھی عام لڑکیوں کی طرح اپنی شادی کے سہانے سپنے دیکھا کرتی اور سہانے سہانے خیالات کی دنیا میں مگن رہتی کہ میرا شوہر ایسا ایسا ہو گا۔ ہم مل جل کر ایسے رہیں گے پھرہمارے بچے ہوں گے اور ہم ان کی ایسی ایسی اچھی پرورش کریں گے وغیرہ وغیرہ.
 اور میں ان لڑکیوں میں سے تھی جوزیادہ شادیاں کرنے والے مرد حضرات کو نا پسند کرتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی شدید مخالفت کیا کرتی ہیں کیونکہ میں اسے ظلم سمجھتی تھی.. اگر مجھے کسی مرد کے بارے میں پتہ چلتا کہ وہ دوسری شادی کرنا چاہتا ہے 
تو میں اس کی اتنی مخالفت کرتی کہ اسے نانی یاد آجاتی اور میں اسے بے تحاشا بد دعائیں دینے لگتی اور اس سلسلے میں میری اپنے بھائیوں اور چچا سے بھی اکثر بحث رہتی وہ مجھے زیادہ شادیوں کی اہمیت کے بارے میں بتاتے۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں اور موجودہ حالات کے اعتبار سے سمجھانے کی بہت کوشش کرتے مگر مجھے کچھ سمجھ نہ آتی بلکہ میں انہیں بھی چپ کروا دیتی۔
 اسی طرح دن، ہفتے، مہینے سال گزرتے گئے میری عمر 30 سال سے تجاوز کر گئی اور انتظار کرتے کرتے میرے سر پر چاندی چمکنے لگی👵🏻لیکن میرے خوابوں کا شہزادہ نہ آیا....!!!
یا اللہ ! میں کیا کروں؟جی چاہتا کہ گھر سے باہر نکل کر آوازیں لگاؤں کہ مجھے شوہر کی تلاش ہے۔ جوانی کی ابتدا سے لے کرا ب تک میں نے نفس و شیطان کا کس طرح مقابلہ کیا اس بیہودگی اور بے حیائی کے ماحول میں کیسے بچی رہی میں اسے صرف اور صرف اللہ کا فضل اور والدین کی دعائیں ہی سمجھتی ہوں ورنہ۔۔۔۔۔
اگرچہ گھر والے بھائی وغیرہ سب میری ضروریات کا خیال کرتے۔ ہر طرح کی دل جوئی کرتے میرے ساتھ ہنستے کھیلتے مجبوراً مجھے بھی ان کے ساتھ ہنسی مذاق میں شریک ہونا پڑتا لیکن میری وہ ہنسی کھوکھلی ہوتی.
  مجھے وہ حدیث یاد آتی جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ بغیر شادی کے عورت ہو یا مرد مسکین ہوتے ہیں اور واقعی میں نعمتوں بھرے گھر میں مسکین تھی۔ خوشی يا غمی کی تقریب میں رشتہ دار عزیز و اقارب جمع ہوتے تو جی چاہتا کہ ان کو چیخ  چیخ کر بتاؤں کہ مجھے شوہر چاہیے لیکن پھر سوچتی کہ لوگ کیا کہیں گے کہ یہ کیسی بے شرم لڑکی ہے۔ بس خاموشی اور صبر کے سوا کچھ بھی چارہ نہیں تھا۔
جب میں اپنی ہم جولیوں، سہیلیوں کے بارے میں سوچتی کہ وہ تو اپنے گھروں میں اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ خوش وخرم زندگی بسر کر رہی ہیں تو مجھے اپنی اس خلافِ فطرت زندگی پر شدید غصہ آتا۔ گھر کی محفلوں میں سب کے ساتھ مل کر ہنستی تو تھی لیکن میرا دل خون کے آنسو روتا تھا۔ لڑکے تو پھر بھی اپنی شادی کی ضرورت کا احساس گھر والوں کو دلا سکتے ہیں  لیکن لڑکیاں اپنی فطری شرم وحیا میں ہی گھٹی دبی رہتی ہیں۔
 🔅وہ تو اللہ کا شکر ہے کہ میرے بڑے بھائی کی شادی ایک عالمہ لڑکی سے ہو گئی جو ماشاء اللہ دینی اور دنیاوی علوم کے ساتھ ساتھ تقویٰ ، پاکیزگی اور دیگر صفات حسنہ سے متصف تھی.. شادی کے چند دن بعد ہی گهر  میں مدرستہ البنات شروع کر دیا گیا۔ میں بھی بی اے کے بعد فارغ تھی تو  میں نے بھی اپنی پیاری بھابهی کے حسن سلوک سے متاثر ہو کر سب سے پہلے داخلہ لے لیا۔ ان کی ترغیبی باتیں سن کر میراکچھ دھیان بٹا، تسلی ہوئی اور مدرسے کی پڑھائی کے ساتھ انہوں نےکچھ مسنون دعائیں و اذکار بھی بتائے جن کے پڑھنےسے دل کو کافی سکون محسوس ہوا۔ وہ تو میرے لیے کوئی رحمت کا فرشتہ ہی ثابت ہوئیں،🔆اگر وہ نہ ہوتیں تو نجانے میں کن گناہوں کی دلدل میں دھنس چکی ہوتی یاخود کشی کی حرام موت مر کر جہنم کی کسی وادی میں دردناک عذاب سہہ رہی ہوتی➖
ایک دن میرے بڑے بھائی گھر آئے اور بتایا کہ آج آپ کے رشتے کیلئے کوئی صاحب آئے تھے لیکن میں نے انکار کر دیا.. میں نے تقریباً چیختے ہوئے پوچھا آخر کیوں؟ کہنے لگے وہ تو پہلے ہی شادی شدہ تھا اور مجھے آپ کا پتہ تھا کہ آپ کبھی بھی دوسری شادی والے مرد کو قبول نہیں کریں گی۔ آپ تو دوسری شادی کرنے والوں کے سخت خلاف ہیں.. میں نے کہا نہیں بھائی نہیں! اب وہ بات نہیں ! جب سے میں نے بھابهی جان کے پاس قرآن وحدیث کا علم حاصل کرنا شروع کیا ہے،سیرت نبوی پڑھی ہے تو قرآن وحدیث کے نور سے میرے  دماغ کی گرہیں کھلنا شروع ہوئیں اورمجھے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی حکمتیں سمجھ آنے لگیں،
اب تو میں کسی مرد کی دوسری کیا تیسری یا چوتھی بیوی بننے کیلئے بھی خوشی سےتیار ہوں ۔۔۔
اور میں نے جو اب تک اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی مخالفت کی اس پر میں  استغفار کرتی ہوں۔
 اللّه کی قسم ! جب تک زیادہ شادیوں والا اللہ کا حکم حضور صلى الله عليه وسلم اور صحابہ رضى الله عنهم کے دور کی طرح عام نہیں ہوگا نکاح آسان ہو ہی نہیں سکتا.. جس مرد نے زندگی بھر ایک ہی شادی کرنے کا فیصلہ اور عزمِ مصمم کر رکھا ہے وہ کبھی بھی کسی مطلقہ ، بیوہ ،غریب، مسکین یا کسی بھی اعتبار سے کسی کمی کا شکار لڑکی سے شادی نہیں کرے گا۔!!!

🔅ایک دن قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے یہ آیت نظر سے گزری :
ذٰلِکَ بِاَنَّهُمْ کَرِهوْا مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ ...
ترجمہ : یہ (ہلاکت) اس لیے کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکامات سےناخوش ہوئے پس اللہ تعالیٰ نے( بھی) ان کے اعمال ضائع کر دیے۔ 
اس پر تو میرے تورونگٹے ہی کھڑے ہو گئے۔ میں نے تو اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو نہ صرف ناپسند سمجھا بلکہ اس کی شدید مخالفت کرتی تھی۔ اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے میں اس خط کی وساطت سے مرد حضرات تک یہ پیغام پہنچانا چاہتی ہوں کہ
 اگر عدل کرنے کی نیت اور استطاعت ہو تو آپ ضرور اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو زندہ کیجئے۔ دو ، تین اور چار شادیوں کو فروغ دیجئے اور دکھی دلوں کی دعائیں لیجئے.. باقی جو عورت آئے گی اپنا نصیب ساتھ لے کر آئے گی اوراس سے جو اولاد ہوگی وہ بھی اپنا نصیب ساتھ لائے گی۔ رازق تو صرف ایک اللہ ہے اور اسی اللہ نے قرآن میں شادیوں کی برکت سے غنی کرنے کا وعدہ کیا ہے.. اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے بھی تنگ دستی دور کرنے کایہ ہی نسخہ بتايا ہے۔💞

اس موضوع پر ایک مثال ذہن میں آئی کہ ایک دفعہ حکومت نے فوجیوں کوڈوبتوں کو بچانے کی ایسی ٹریننگ دی کہ ہر فوجی بیک وقت چار چار ڈوبتوں کو بچا سکے!
اچانک زور دار سیلاب⛈🌊 آگیا بے شمار لوگ سیلاب کی زد میں آکر ڈوبنے لگے حکومت نے فوری ایکشن لیتے ہوئے فوج کو بھیجا کہ جا کر زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بچائیں اب یہ فوجی جوان پانی میں کود کر بجائے چار چار آدمیوں کو نکالنےکے اگرصرف ایک ایک کو نکالنے پر اکتفا کریں اور باقی چیختے چلاتے رہیں بچاؤ بچاؤ، ہمیں بھی بچاؤ اور وہ ان بیچاروں کی سنی ان سنی کر دیں اور انہیں آسانی سے ڈوبنے  اور مرنے دیں.
 تو آپ انہیں کیا کہیں گے؟
حکومت انہیں کیا کہے گی؟
کیاحکومت انہیں شاباش دے گی؟
یا دوسری صورت :
اگر کسی رحم دل فوجی کو ان پر ترس آجائے اور وہ کسی اور ڈوبتے کو بچانے لگے تو پہلے جو چمٹا ہوا ہے وہ کہے کہ خبردار کسی اور کی طرف ہاتھ بڑھایا بس مجھے ہی بچاؤ باقی ڈوبتے مرتے رہیں ان کی طرف دیکھو بھی مت۔!
 اب اسے کیا کہا جائے گا۔؟؟؟
کہیں اس معاملے میں ہمارے ہاں بھی کچھ ایسا تو نہیں ہو رہا...!!!

 🌟 قال الله تعالیٰ:
فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآء مَثْنٰی وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ....
(سورة النسا- آیت نمبر 3)

قرآن کریم میں زیادہ شادیوں والی اس آیت میں بالکل یہی واضح نظر آرہا ہے کہ اصل حکم تو زیادہ شادیوں کا ہے مجبوراً ایک پر اکتفا کرنا جائز ہے.
مثلاً  اگر آپ اپنے ملازم کو بھیجیں جاؤ گوشت لاؤ ہاں اگر گوشت نہ ملے تو دال لے آنا۔ یعنی اصل حکم تو گوشت کا ہی ہے مجبوراً دال ہے❕
 اسکی دلیل حضور صلى الله عليه وسلم ، خلفائے راشدین اور اکثر صحابہ کرام رضى الله عنهم کا عمل ہے.. ان میں سے کوئی ایک بھی ہمارے مردوں کی طرح ایک والا نہیں سب کے سب زیادہ شادیوں والے ہیں۔ آپ اگر اپنی دینی  اور دنیاوی مصروفیات کا بہانہ بنائیں تو بھی صحابہ کی زندگیوں کو دیکھیے وہ آپ سے زیادہ دینی اور دنیاوی مصروفیات والے تھے۔ لیکن پھر بھی انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمانِ عالیشان کی منشاء کو سمجھتے ہوئے ایک سے زائد نکاح کیے.💓💕💞

🔅پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر کچھ عرب خواتین پلے کارڈ اٹھائے باقاعدہ جلوس کی شکل میں نکل کر مردوں کو جھنجھوڑ تے ہوئے کہہ رہی تھیں :
 تزوجوا مثنی وثلاث ورباع ان کنتم رجالا ....
کہ اے مردو ! اگرتم واقعی مرد ہو تو دو دو ،تین تین ، چار چار شادیاں کرو اور بے شمار بےنکاحی عورتوں کیلئے حلال کا راستہ آسان کرو..

🔅ضروری نہیں کہ آپ کی پہلی بیوی میں کوئی عیب یا کمی ہو تو ہی آپ یہ قدم اٹھائیں۔ اس کے بغیر بھی آپ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم  کی اتباع میں یہ عمل کر سکتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضى الله عنها ہر لحاظ سے پرفیکٹ تھیں  پھر آپؐ  نے اتنے نکاح فرماے🔹

❣ اور چند باتیں میں ان مسلمان بہنوں سے کرنا چاہتی ہوں جن کواللہ تعالیٰ نے شوہر  سے نوازا ہے وہ اللہ کا شکر ادا کریں کہ وہ مجھ جیسی کروڑوں بے نکاح مسکین خواتین میں سے نہیں ہیں۔ آپ کو شاید اندازہ ہی نہیں کہ بے نکاح رہنے میں کیسی کیسی مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ ٹھیک ہے آپ پر بھی کچھ مشقتیں آتی رہتی ہیں ان پر توآپ کو ان شاء اللہ اجر ملے گا لیکن یہ خلاف فطرت بے نکاح رہنا انتہائی خطرناک ہے.. میری آپ سے گزارش ہے کہ اگر آپ کے شوہر اس مبارک سنت کو زندہ کرنا چاہتے ہیں جسے لوگ میری طرح اپنی جہالت اورنادانی کی وجہ سےگناہ سمجھتے ہیں تو برائے مہربانی ان کیلئے ہر گز ہرگز رکاوٹ نہ بنیے۔ حضرت عائشہ رضى الله عنها کو پتہ چل جاتا تھا یہ جو خاتون حضور صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں حاضر ہو رہی ہے۔ اس سے آپ نکاح کر سکتے ہیں لیکن وہ تو کبھی بھی رکاوٹ  نہیں بنیں اور پھر آپ ان خاتون سے نکاح کر بھی لیتے.. 
آپ بھی حضرت عائشه رضى الله عنها کے نقش قدم پرچلتے ہوئے اگر رکاوٹ نہیں بنیں گی تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ آپ کا حشر فرمائیں گے۔ اللہ سے ڈریے ۔۔۔۔اللہ سے ڈریے۔۔۔۔اللہ سے ڈریے۔ اللہ کے حکم کو پور اکرنے میں اپنے شوہر کی معاون بنیں اور کروڑوں عورتوں میں سے اپنی استطاعت کے بقدر کچھ تو کمی کرنے کا ذریعہ بنيے۔ 
اس حکم کو برا سمجھنے والی میری بہنو ! خدانخواستہ اگرآپ کا شوہر اللہ کو پیارا ہو جائے اور آپ عین جوانی میں بیوہ ہو جائیں اور آپ سے کوئی کنوارہ مرد شادی کرنے کوتیار نہ ہو تو پھر آپ پر کیا بیتے گی۔
 ذرا سوچيے ! حديث کى رُو سے ہم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتےجب تک جو اپنے لیے پسند کرتے ہيں وه هى دوسروں کیلئے پسند نہ کرنے لگيں۔ لهذا جیسے آپ کو اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ رہنا پسند ہے اس طرح آپ دیگر خواتین کے لیے بھی یہ هی پسند کیجيے اور اگر اس سلسلے میں آپ کو کوئی قربانی دینا پڑے تو اللہ کی رضا کیليے قبول کیجيے اور پھر اللہ تعالیٰ کے خزانوں سے دنیا و آخرت کی خوشیاں حاصل کیجيے۔ میری پیاری بہنو ! یہ دنیا فانی اور عارضی ہے اور دار الامتحان ہے.. آخرت باقی اور ہمیشہ ہمیشہ کیليے اور دار الانعام ہے۔ اس ایثار اور قربانی پر آخرت میں جواللہ تعالیٰ آپ کو انعامات سے نوازیں گے آپ ان کا اندزہ ہی نہیں لگا سکتیں۔ اللہ تعالیٰ کے دیدار کی ایک جھلک آ پ کو اس سلسلے میں آنے والی تمام مشکلات، مشقتوں اورتکلیفوں کو بھلا دے گی۔ میری دل سے دعا ہے کہ اللہ کرے کہ میری کسی بہن کو اللہ کے اس حکم کو پورا کرنے اور فروغ دینے پر کبھی بھی کوئی تکلیف نہ آئے بلکہ راحت ہی ملتی رہے۔
🌟 اللہ تعالیٰ تو اپنے بندوں سے ایک ماں سے بھی ہزاروں گنا زیادہ محبت کرتے ہیں۔  *اللّه تعالیٰ کے ہر ہر حکم میں اس کی طرف سے رحمتیں اور برکتیں ملتی رہیں گی۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم بھی رحمۃ للعالمین ہیں وہ کبھی بھی ہمیں ایسا حکم صادر نہیں فرما سکتے جو ذرہ برابر بھی ہمارے لیے مشکل اور پریشانی کا باعث ہو*۔ اللہ تعالیٰ ہمارا حامی وناصر ہو اور اللہ میری جیسی تمام بہنوں کو خیر کے رشتے عطا فرمائے۔ 

  ایک کتاب میں زیادہ شادیاں کرنے کے فضائل اور فوائد پڑھے وہ بھی آپ کی خدمت میں پیش کردوں :
🌹ایک سے زیادہ شادیاں کرنے پر رسول اللہ کی کثرتِ امت والی چاہت پوری ہوگی۔
🌹 زیادہ بیویوں کے مل کر رہنے میں دین کی محنت کرنا آسان ہوسکتا ہے۔
🌹 سوکن بن کر رہنے سے ازواج مطہرات و صحابیات کی مشابہت اور اسکی برکت سے جنت میں ان کی رفاقت ہمیشہ ہمیشہ کیليے مل سکتی ہے اگر اس کی وجہ سے خدانخواستہ کچھ مشقت اس دنیا میں آ بھی گئی تو آخرت کی ہمیشہ ہمیشہ کی لامحدود زندگی میں ازواجِ مطہرات کے پڑوس والی جنت کی ایک جھلک سارے دکھوں کو بھلاسکتی ہے۔
🌹 پہلی بیوی میزبان بننے کا ثواب پاتی ہے۔ اگرچہ یہ حکم خواتین کو قدرے مشکل لگتا ہے لیکن وَقَبِلْتُ جَمِیْعَ اَحْکَامِہٖ میں جو تمام احکامات جو نفس کو پسند ہوں یا گراں سب ھی احکامات قبول کرنے کا جو دعویٰ ہے اس کی دلیل دینے کا موقع ملتا ہے۔ 
🌹 اس کے فروغ دینے سے بیوگان، مطلقات، شکل و صورت یا ذات پات وغیرہ کسی بھی کمی کا شکار خواتین کے لیے بھی نکاح کرنا آسان ہوسکتا ہے کیونکہ ایک ہی نکاح پر اکتفا کرنے کا جو مرد فیصلہ کرتا ہے تو وہ ہر اعتبار سے پرفیکٹ ہی کو پسند کرے گا تو اس طرح آپ خود کشی اور غلط راستوں پر چلنے والی مجبور بہنوں کو حلال راستہ فراہم کرنے کا ثواب پاسکتی ہیں۔
🌹 اس حلال راستہ کے بند ہونے کی وجہ سے بے شمار مرد حرام اور غلط راستوں سے اپنی خواہشات پوری کرنے پر مجبور ہیں تو جب مردوں کونکاح کر کے حلا ل طریقے سے اپنی خواہش پوری کرنے پر حدیث پاک کی روسے صدقہ کا ثواب ملے گا تو اس میں پہلی بیوی جو بخوشی اجازت دیتی ہے اس کو بھی پورا پورا ثواب ملے گا۔ 

⬅📢 میری نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کے والدین سے پر اصرار اور درد مندانہ گزارش ہے🙏 کہ میرے اس درد بھرے خط کو اپنے بیٹے یا بیٹی کی طرف سےسمجھيے.. 
اللّه کے لیے تمام رسوم ورواج (جوخود ساختہ ہیں۔ شریعت میں ان کا کوئی ثبوت نہیں۔ اکثررسوم ورواج تو ہندوؤں وغیرہ سے لیے گئے ہیں) ان سب سے توبہ کیجيے۔ شادی کو آسان بنا کر اس کی برکات ملاحظہ کیجيے ۔ یہ تو حضور صلى الله عليه وسلم کا ارشاد ِ گرامی ہے جس کا مفہوم ہے کہ با برکت نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم خرچہ ہو ... چنانچہ لڑکے والے لڑکی والوں کے ليے اور لڑکی والے لڑکے والوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں تاکہ نکاح میں کم سے کم خرچہ ہو۔ اللہ پر توکل کیجيے اور دیکھيے کہ اللہ تعالیٰ کیسے اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے آپ کے لیے کافی ہوجاتے ہیں۔ 
ومن یتوکل علی الله فھوحسبه 

فقط و السلام
🇵🇰آپ کی گمنام بہن🇵🇰

Tuesday, March 20, 2018

نحوست

*لالچ اور حرام خوری کی نحوست*
صحابی رسولﷺ حضرت کعب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے پوچھا گیا کہ علما کے دلوں سے کس چیز نے علم کو نکال دیا؟
تو انھوں نے فرمایا ” لالچ نے"
*(مشكوة شریف صفحہ 37)*
یہ لالچ سے خدا بچائے ، ہوتا یہی ہے کہ لالچ پیدا ہوتی ہے تو حلال و حرام کی تمیز ختم ہو جاتی ہے .
حجۃ الإسلام إمام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں 
*”آدمی کے پیٹ میں جب حرام کا لقمہ پڑا ، تو زمین و آسمان کا ہر فرشتہ اس پر لعنت کرے گا جب تک کہ وہ لقمہ اس کے پیٹ میں رہے گا اور اگر اسی حالت میں مرے گا تو اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا“*
(مکاشفۃ القلوب صفحہ 10)
*امام ذہبی علیہ الرحمہ کتاب الكبائر میں بیان  فرماتے ہیں کہ،*
ایک حدیث میں مروی ہے کہ ایک فرشتہ ہر دن رات میں بیت المقدس پر ندا دیتا ہے کہ جو شخص حرام کھاتا ہے اس کی فرض و نفل کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی-
(کتاب الكبائر صفحہ 193)
اللہ اکبر،
کتنا واضح کلام ہے. 
ذرا یہ بھی پڑھیں کہ شیطان کو حرام کھانے والے کو بہکانے کی ضرورت نہیں رہتی....
حضرت یوسف بن اسباط رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ جب کوئی نوجوان عبادت میں مصروف ہوتا ہے تو شیطان اپنے (ساتھیوں اور) مددگاروں سے کہتا ہے دیکھو اس کا کھانا کہاں سے آتا ہے -اگر اس کا کھانا ناجائز و حرام ہو تو وہ کہتا ہے اسے چھوڑ دو- اپنے آپ کو تھکائے اور مشقت کرے تمھاری ذمہ داری وہ خود پورا کر رہا ہے کیونکہ اس کی عبارت حرام کھانے کی موجودگی میں اسے نفع نہیں دے گی-
اور اس بات کی تائید صحیح حدیث میں مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی سے بھی ہوتی ہے کہ آپ نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جس کا کھانا حرام، پینا حرام اور لباس حرام ہے اور اسے غذا بھی حرام سے ملتی ہے تو اس کی دعا کیسے قبول ہوگی-
*الترغيب و الترھیب جلد-2 صفحہ-546*
الله اکبر الله اکبر،
عبادتیں بھی ضائع ہو جاتی ہیں پتا بھی نہیں چلتا......
*جو اپنے کسب(پیشہ) کو حلال نہیں رکھتا اس کی دعا بھی قبول نہیں ہوتی-*
مستجاب الدعوات بننے کا ایک نبوی نسخہ جو عبرت کا نشان
بھی ہے سب کے لیے، اس حدیث پاک سے سیکھ لیں...
حضرت سعد بن ابی وقاص نے حضور ﷺ سے عرض کی کہ ”یا رسول ﷲﷺ! آپ دعا فرمائیں کہ ﷲ تعالیٰ مجھے مستجاب الدعوات (یعنی جس کی ہر دعائیں قبول ہوتی ہوں) بنادے ،“
تو حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اے سعد! اپنی غذا پاک کر لو مستجاب الدعوات ہو جاؤ گے اس ذات پاک کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد(ﷺ) کی جان ہے! بندہ حرام کا لقمہ اپنے پیٹ میں ڈالتا ہے تو  اس کے چالیس دن کے عمل قبول نہیں ہوتے، اور جس بندے کا گوشت حرام سے پلا بڑھا ہو اس کے لیے آگ زیادہ بہتر ہے‘‘ ۔
*المعجم الأوسط جلد-5 صفحہ-34 الحديث 6495*
کسب کو حلال رکھو گے تو دعائیں اتنی قبول ہوں گی کے مستجاب الدعوات ہو جاؤ گے.
اور کسب کو حلال نہ رکھا اور حرام کا لقمہ منہ کے قریب بھی لے گیے تو چالیس روز دعا قبول نہیں ہونے والی اور پیٹ میں ڈالا تو عمل بھی قبول نہ ہوں گے.
اور اس کے کھانے سے کو جسم یا گوشت بنا وہ بدن جہنم کا حقدار زیادہ ہے.... 
بات کی اہمیت ذات سے ہوتی ہے تو یہ بالکل نہ بھولیں کی بات کس کی زبانِ پاک سے نکلی ہوئی ہے.
*یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے.*
دین کے نام پر حرام کھانا چھوڑ دو دین کو کاروبار نہ بناؤ دو ہاتھ سلامت ہیں آپ کے کام کرو کاروبار کرو اگر پیسے ہی مقصود ہیں تو
اور اگر دین کا کام کرنا ہی ہے تو
صرف اللہ کے لیے کرنا ہے یہ نیت کر کے اٹھو....
کیا تمام کامیابیاں مال سے ہی ہیں...؟؟؟ 
کیا سب کچھ مال ہی ہے؟؟؟ 
حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
بے شک اللہ تعالٰی نے تمھارے درمیان تمھارے اخلاق (تمھارا حصہ اور تمھارا نصیب) تقسیم کر دیے جس طرح تمھارے درمیان تمھارے رزق تقسیم کیے اور بے شک اللہ تعالٰی دنیا اس شخص کو بھی دیتا ہے جسے پسند کرتا ہے اور اسے بھی دیتا ہے جسے پسند نہیں کرتا لیکن دین صرف اسے ہی دیتا ہے جسے پسند کرتا ہے تو جسے اللہ تعالٰی نے دین عطا کیا تو اسے اللہ تعالٰی نے پسند فرمایا - اور کوئی بندہ جب حرام مال کما کر اس سے خرچ کرے تو اس میں برکت نہیں ہوتی اور اس سے جو صدقہ کرتا ہے یا بعد کے لیے چھوڑتا ہے تو وہ جہنم کی آگ میں  اضافہ کا باعث ہے- الله تعالٰی برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا بلکہ برائی کو اچھائی سے مٹاتا ہے. 
*الترغيب و الترھیب جلد - 2 صفحہ 550*
یہ ہے حقیقت جس سے لوگ نا آشنا ہیں یا جان کر انجان ہیں، بس ایمان کی کمزوری ہے جو اس پر عمل نہیں کرنے دے رہی ہے-
یہ لالچ اور حرام خوری کی نحوست کا اندازہ لگانے کے لیے کافی ہے اسے فراموش نہ کریں ایمان یہی تو ہے کہ
تمام فرامین مصطفی ﷺ کو دل کی گہرائیوں سے سچا جانے... 
*ہے قولِ محمد ﷺ قولِ خدا فرمان نہ بدلا جائے گا،*
*بدلے گا زمانہ لاکھ مگر قرآن نہ بدلا جائے گا.*

Sunday, February 11, 2018

इन्साफ

हज़रत अम्र बिन आस मिस्र के गवर्नर थे एक बार घोड़ो की दौड़ का मुकाबला हुवा। मुकाबले मे हज़रत अम्र बिन आस का बेटा भी शामिल था।
दौड़ शुरू हुई सभी के घोड़े तेज रफ़्तार से दौडने वाले थे वैसे अरबी नस्ल के घोड़े उस ज़माने के मशहूर घोड़े थे। लेकिन एक यहूदी लड़के का घोडा सबसे ज़्यादा तेज़ रफ़्तार था और उसने उस दौड़ में बाज़ी मार ली। वो दौड़ जीत गया
हज़रत अम्र बिन आस के बेटे ने इसी खुन्नस मे उस यहूदी लड़के की पिटाई कर डाली ।यहूदी लड़के ने (हज़रत उमर रज़ि,) को ख़त लिखा की मेरे साथ ऐसे ऐसे मामले पेश आया है और मेरे साथ हज़रत अम्र बिन आस के बेटे ने मार पिट की है
(हज़रत उमर रज़ि.) ने फ़ौरन अम्र बिन आस को ख़त लिखा के बिना देर किये मदीना आ जाइये और हां ज़रा अपने लड़के को भी ज़रूर साथ लेकर आना
और यहूदी लड़का जिसने दौड़ मे जीत हासिल की है उसको भी ज़रूर साथ लेते आना
मदीने में जब सभी लोग आ गए तो (हज़रत उमर रज़ि,) ने अम्र बिन आस को सारा मामला बताया अम्र बिन आस ने अपने बेटे से पूछा कि क्या तुमने इस यहूदी लड़के को सिर्फ़ इसलिए मारा की उसका घोडा तुम्हारे घोड़े से आगे निकल गया और वो जीत गए तुम हार गए लड़के ने कहा कि हां मैंने मारा था
इतना सुनते ही अम्र बिन आस गुस्से से आग बबूला हो गए और अपना कोड़ा निकाल लिया (हज़रत उमर रज़ि,) ने कहा कि अम्र रहने दीजिये अगर आपके कोड़े मे इंसाफ़ करने की ताक़त होती तो तुमको यहाँ बुलाने की ज़रूरत ही ना पड़ती
तो अब कोड़ा हमारा होगा और लड़का तुम्हारा होगा और यहूदी लड़के के हाथ से मार होगी और ऐसा ही इन्साफ हुवा भी उस यहूदी लड़के ने सब के सामने गवर्नर के बेटे को कोड़े मारे
ऐसा था इंसाफ़ (हज़रत उमर रज़िअल्लाहु अन्हु) का इसीलिए महात्मा गांधी ने कहा था कि अगर हिंदुस्तान मे अमन सुकून और इंसाफ चाहिए तो उमर जैसी हुकूमत करने वाला होना चाहिए.
बैशक हर आच्ची बात शैर करना भी सदका है।।

Friday, February 9, 2018

चार सवाल

एक ईसाई बादशाह ने “हजरत उमर रज़ी अल्लाहु अन्हु” चार कठिन सवाल पूछे , पढ़िए कैसे जवाब दिया उस बादशाह को

चार सवाल चार जवाब |

एक निसरानी ( ईसाई ) बादशाह ने चार सवाल लिख कर हजरत उमर रज़ी अल्लाहु अन्हु के पास भेजा।

उनके जवाब आसमानी किताबों में से देने का मुतालबा किया।

सवाल ये हैं
1: एक माँ के पेट से दो बच्चे एक ही दिन एक ही वक्त पैदा हुए।। फिर दोनों का इंतिकाल भी एक ही दिन हुआ एक भाई की उम्र सो साल बड़ी और दुसरे की उम्र सौ साल छोटी हुई। ये कौन थे…? और ऐसा किस तरह हुआ…?

2: वो कौन सी जमीन है जहां शुरुआत से कयामत तक सिर्फ एक बार सूरज की किरने लगीं।।। न पहले कभी लगीं थी न अब कभी लगेंगी….?

3: वो कौन सा कैदी है जिसकी कैदखानें में सांस लेने की इजाजत नहीं और वो बगैर सांस लिए जिंदा रहता है….?

4: वो कौन सी कबर है जिसका मुर्दा भी जिंदा और कबर भी जिंदा और कबर अपने अंदर दफन हुए को सैर कराती फिरती थी फिर वो मुर्दा कबर से बाहर निकल कर ज़िंदा रहा और कुछ दिनों बाद वफात पाया…?

हजरत उमर रज़ी अल्लाहु अन्हु ने हजरत अब्दुल्लाह बिन अब्बास रज़ी अल्लाहु अन्हु को बुलाया और फरमाया इन सवालों के जवाब लिख दें।

हज़रत अब्दुल्लाह राज़ी अल्लाहु अन्हु ने तहरीरें कलमबंद कीं !


जवाब

1: जो दोनों भाई एक ही दिन पैदा हुए और एक ही दिन वफात पाई और उनकी उम्र में सौ साल का फर्क़ है वो दोनों भाई हज़रत अज़ीज़ और हज़रत उज़ैर अलैहिस्सलाम हैं।।।

ये दोनों भाई एक ही दिन एक ही माँ के पेट से पैदा हुए और एक ही दिन वफात पाई ।। लेकिन अल्लाह तआला ने अपनी कुदरत दिखाने के लिए उज़ैर अलैहिस्सलाम को पुरे सौ साल मारे रखा । सौ साल मौत के बाद अल्लाह ने जिंदगी बख्शी ।। सूरह आल-इमरान में ये ज़िक्र मौजूद है।। वो घर गए और कुछ दिन जिंदा रहकर मौत आई।

दोनों भाइयों की वफात भी एक दिन हुई इसलए इसलिए उज़ैर अलैहिस्सलाम की ऊम्र अपने भाई से छोटी हुई और हज़रत अज़ीज़ अलैहिस्सलाम की बड़ी।

2: वो जमीन समुन्द्र की खाड़ी कुलज़िम की तह है जहां फिरऔन मरदूद गर्क हुआ था हजरत मूसा अलैहिस्सलाम के मोजिज़े ( चमत्कार ) से समुन्द्र सुखा था और हुक्म इलाही से सूरज ने बहुत जल्द सुखाय था

हज़रत मूसा अलैहिस्सलाम अपनी कौम बनी इसराइल के साथ पार चले गए और जब फिरऔन दाखिल हुआ तो डूब गया उस जमीन पर सूरज एक बार लगा और अब कयामत तक नहीं लगेगा।

3: जिस कैदी को कैदखाने में सांस लेने की इजाज़त नहीं और वो बगैर सांस लिए ज़िंदा रहता है वो बच्चा अपनी माँ के पेट में कैद होता है ‘ अल्लाह तआला ने उसके सांस लेने का ज़िक्र नहीं किया और न वो सांस लेता है।

4: कबर जिसका मुर्दा भी जिंदा और कबर भी जिंदा वो मुर्दा हजरत युनुस अलैहिस्सलाम थे और उनकी कबर मछली थी जो उनको पेट में रखे जगह जगह फिरती थी । हज़रत युनुस अलैहिस्सलाम अल्लाह के हुक्म से मछली के पेट से बाहर आकर कुछ साल ज़िंदा रहे फिर वफात पाई।।। और लोगों तक पहुंचाएं।

SUBHAN ALLAHआप सल्लाल्लाहों अलैह वसल्लम ने फ़रमाया : जिस ने मेरी एक हदीस सुनी और दूसरों तक पहुँचा दी तो उसके लिए क़यामत के रोज़ मेरी शफात वाजिब होगी (सुबहान अल्लाह ) हुज़ूर सलल्लाहू अलैह वसल्लम ने फ़रमाया “बेनूर हो जाये उसका चेहरा जो कोई मेरी हदीस को सुन कर आगे न पोहचाए !
*हज़रात  अली*

ने  फ़रमाया हमेशा   समझोता  करना  सीखो  क्योंकि  थोडा  सा  झुक  जाना  किसी  रिश्ते  का  हमेशा  के  लिए  टूट  जाने  से  बेहतर  है  इस  पर , आप 

*सल्लल्लाहु  अलैहि  वस्सलाम*  ने  फ़रमाया  अगर  झुक  जाने  से  तुम्हारी  इज्जत    घट  जाये  तो  क़यामत  के  दिन  मुझसे  ले  लेना
 आप

*सल्लाहु  वलैहि  वस्सलाम*
ने  फरमाया : अल्लाह  उस  के  चेहरे  को  रोशन  करे  जो  हदीस  सुन  के  आगे  पहुँचाता  है

Friday, January 12, 2018

بیٹی

ضروری نہیں # روشنیاں # چراغوں سے ہوں 
گھروں میں # بیٹیاں بھی # اُجالا کرتی ہیں 😍


فَفِرُّوْاالَی الله !



میری بیٹی بڑی ہو گئی .ایک روز اس نے بڑے پیار سے مجھ سے پوچھا ،"پاپا، کیا میں نے آپ کو کبھی رلایا ؟؟"

میں نے کہا ،"جی ہاں."

"کب؟" اس نے حیرت سے پوچھا .
میں نے بتایا ،"اس وقت تم قریب ایک سال کی تھیں . گھٹنوں پر سركتی تھیں . میں نے تمہارے سامنے پیسے ، قلم اور کھلونا رکھ دیا کیونکہ میں دیکھنا چاہتا تھا کہ تم تینوں میں سے کسے اٹھاتی ہو . تمہارا انتخاب مجھے بتاتا کہ بڑی ہوکر تم کسے زیادہ اہمیت دیتیں . جیسے پیسے مطلب جائیداد ، قلم مطلب عقل اور کھلونا مطلب لطف اندوزی۔میں نے یہ سب کچھ پیار سے کیا . مجھے تمہارا انتخاب دیکھنا تھا . تم ایک جگہ مستحکم بیٹھیں ٹكر ٹكر ان تینوں اشیاء کو دیکھ رہی تھیں . میں تمہارے سامنے ان اشیاء کی دوسری طرف خاموش بیٹھا تمہیں دیکھ رہا تھا . تم گھٹنوں اور ہاتھوں کے زور سركتی آگے بڑھیں ، میں سانس روکے دیکھ رہا تھا اور لمحہ بھر میں ہی تم نے تینوں اشیاء کو بازو سے سرکا دیا اور ان کو پار کرتی ہوئی آکر میری گود میں بیٹھ گئیں . مجھے دھیان ہی نہیں رہا کہ ان تینوں اشیاء کے علاوہ تمہارا ایک انتخاب میں بھی تو ہو سکتا تھا . . . وہ پہلی اور آخری بارتھی بیٹا جب تم نے مجھے رلایا . . . بہت رلایا . . ."


" ٹھیک اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بھی اس دنیا کو عیش و عشرت مال و دولت آرام کدوں اور نت نئی قسم کی رنگینیوں سے بھر دیا ہے....

وہ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ ان تمام اشیاء کو چھوڑ کر کون اپنے رب کی طرف لپکتا ہے؟؟
کون آرام کدوں کو تج  کر رب کی رضا کی خاطر نکلتا ہے؟
بس اسی آزمائیش کہ لیے انسان کا ظہور ہوا....
التماس دعا


فَفِرُّوْاالَی الله (الزاريات: ٥٠)

"پس بھاگو الله كي طرف"💞
جزاکﷲ خیر الکثیرہ

Friday, January 5, 2018

आरसा

एक बोध कथा

.         एका गुरूंच्‍या घरी एक शिष्‍य मनोभावे गुरुंची सेवा करून शिक्षण घेत होता. त्‍याच्‍या या सेवेमुळे गुरु त्‍याच्‍यावर प्रसन्न होते. शिक्षण् पूर्ण झाल्‍यावर विद्यार्थी घरी जाण्‍यासाठी निघाला तेव्‍हा गुरुंकडे त्‍याने जाण्‍याची आज्ञा मागितली  तेव्‍हा गुरुंनी त्‍याला आशीर्वाद म्‍हणून एक आरसा भेट दिला व सांगितले की, हा दिव्‍य आरसा (दर्पण) असून यात मानवी मनात चालणारे विचार प्रगट होऊन दिसतात.

विद्यार्थी मोठा आनंदीत झाला. हा आरसा खरेच कार्य करतो की नाही याची शहानिशा करण्‍यासाठी त्‍याने लगेच आपल्‍या गुरुंसमोर हा आरसा धरला व गुरुंच्‍या मनात कोणते भाव आहेत, दुर्गुण आहेत हे पाहू लागला आणि गुरुंच्‍या समोर आरसा धरताच त्‍याच्‍या चेह-यावरचा रंग पार उडाला कारण तो आरसा गुरुंच्‍या अंतकरणात मोह, अहंकार, क्रोध आदि विकार दाखवित होता. त्‍याला याचे फारच दु:ख झाले की आपण ज्‍या गुरुची मनोभावे पूजा केली, ज्‍यांना पूर्ण ईश्र्वराचा दर्जा दिला त्‍यांच्‍या मनातही विकार आहेत, ते सुद्धा मानवी विकारापासून अजून सुटलेले नाहीत याचे त्‍याला वैषम्‍य वाटले. तो गुरुंना काहीच न बोलता तो आरसा घेवून गुरुकुलातून निघाला.

रस्‍त्‍यात भेटणा-या प्रत्‍येकाच्‍या मनातील भाव पाहणे हे त्‍याचे कामच झाले होते. गावी परत जाताच त्‍याने आपल्‍या प्रत्‍येक परिचिताबरोबर हा प्रयोग करून पाहिला.

त्‍याला प्रत्‍येकाच्‍या मनात कोणता ना कोणता दुर्गुण दिसून आला. शेवट त्‍याने आपल्‍या जन्‍मदात्‍या आई वडीलांच्‍या समोरही हा आरसा ठेवला. ते दोघेही पण त्‍यातून सुटले नाहीत. त्‍यांच्‍या हृदयात पण त्‍याला काही ना काही दुर्गुण दिसले.

शेवटी या गोष्‍टीचा त्‍याला मनोमन राग आला व तो गुरुकुलातील गुरुंकडे धावला.

गुरुंपाशी जाऊन तो म्‍हणाला,’’ गुरुदेव, मी आपण दिलेल्‍या या आरशातून प्रत्‍येकाच्‍या मनात, हृदयात, अंत:करणात डोकावून पाहिले आणि मला असे जाणवले की प्रत्‍येकाच्‍याच मनात काही ना काही विकार आहेच, काही ना काही दोष आहे. एखाद्याच्‍या मनात कमी तर कुणाच्‍या मनात जास्‍त असे विकार, दोष भरून राहिले आहेत. हे पाहून मी फार दु:खी झालो आहे, कृपया मला मार्गदर्शन करा.’’

गुरुंनी काहीच न बोलता तो आरसा फक्त त्‍याच्‍याकडे केला आणि काय आश्र्चर्य त्‍याला त्‍याच्‍या मनाच्‍या प्रत्‍येक कोप-यात राग, द्वेष, अहंकार, क्रोध, माया आदि दुर्गुण भरून राहिलेले दिसले.

गुरुजी म्‍हणाले,’’ वत्‍सा, हा आरसा मी तुला तुझे दुर्गुण पाहून ते कमी करण्‍यासाठी दिला होता पण तू दुस-यांचे दुर्गुण पाहत बसलास आणि नको तितका वेळ खर्च केलास,

अरे याच वेळेत जर तू स्‍वत:चे अवलोकन केले असते तर तुला तुझ्यातील दुर्गुण सुधारता आले असते. याच काळात तु एक असामान्‍य व्‍यक्ती झाला असता.

मानवाची ही कमतरता आहे, कमजोरी आहे की तो दुस-यातील दुर्गुण पाहत बसतो आणि स्‍वत:ला सुधारण्‍याचा प्रयत्‍नही करत नाही. हेच या आरशातून मला तुला शिकवायचे होते. जे तुला शिकता आले नाही.’’

तात्‍पर्य : आपण नेहमीच दुस-या व्‍यक्तीचे दुर्गुण बघतो, त्‍यावर टीका करतो पण आपल्‍यातील दुर्गुणांवर आपले कधीच लक्ष जात नाही. कधीतरी जर आपण आत्‍मनिरीक्षण केले तर आपल्‍यालाही आपले दुर्गुण सापडतीलच.


Wednesday, December 27, 2017

निर्मळता

गुरु शिष्य भ्रमंतीला निघाले होते. फिरता फिरता ते एका जंगलात येऊन पोहोचले. जंगलात काही अंतरावर एक झरा वाहत होता. गुरुजींना तहान लागली होती. त्यांनी शिष्याच्या हाती कमंडलू दिले आणि त्याला पाणी घेऊन येण्यास सांगितले. शिष्य झऱ्या पाशी गेला आणि त्याला असे दिसले कि तेथून नुकतेच बैल गाड्या गेल्या आहेत, बैल पाण्यातून गेल्याने पाणी खूप गढूळ झाले आहे. पाण्यात झाडाची पाने पडलेली आहेत. त्याने विचार केला असे घाण झालेले पाणी गुरूंसाठी नेणे योग्य नाही. तो तसाच परत गुरूंकडे गेला आणि म्हणाला,"गुरुजी, पाणी खूप गढूळ आहे, आपल्याला दुसरी काही तरी व्यवस्था पहावी लागेल." गुरुजी म्हणाले," अरे त्यापेक्षा तू असे कर पुन्हा त्या झऱ्यापाशी जा आणि पुन्हा पाणी आणण्याचा प्रयत्न कर." शिष्य गेला, त्याला पुन्हा पाणी गढूळ दिसले, तो परत आला, गुरूंनी त्याला परत पाठवले, असे चार पाच वेळेला झाले. शेवटी शिष्य कंटाळला, त्याच्या चेहऱ्यावर नाराजीचे आणि कंटाळलेले भाव दिसू लागले पण शिष्य गुरुज्ञा मोडायला तयार नव्हता. गुरूंनी त्याला परत पाणी आणायला पाठवले. आताच्या वेळी त्याला मात्र आश्चर्य वाटले कारण या वेळी पाणी अगदी नितळ, स्वछ नि निर्मळ होते. त्याने ते पाणी कमंडलू मध्ये भरले आणि गुरूंसाठी घेऊन आला. गुरूंनी पाणी प्राशन केले आणि शिष्याला म्हणाले,"वत्सा ! आपल्या मनात सुद्धा असेच कुविचारांचे बैल धिंगाणा घालत असतात. ते मनाची निर्मळता कमी करून मनाला मलिन करण्याचा प्रयत्न करतात. पण आपण त्यापासून सावध राहिले पाहिजे. कुविचारांचा प्रभाव आपल्या मनावर होणार नाही याची दक्षता आपण घेतली पाहिजे. मनाच्या झऱ्यातील पाणी शांत होण्याची प्रतिक्षा जर आपण केली तर मनात कायम स्वच्छ, चांगले विचार येतील. भावनेच्या भरात कधीही निर्णय घेऊ नये."*


*तात्पर्य :- भावनेच्‍या भरात कोणतेही निर्णय घेऊ नयेत. मनात कायम स्‍वच्‍छ, चांगले विचार कसे येतील हेच पाहावे.*

Tuesday, December 26, 2017

ایک کہانی

میری ماں کی ایک آنکھ تھی اور وہ میرے سکول کے کیفیٹیریا میں خانسامہ تھی جس کی وجہ سے میں شرمندگی محسوس کرتا تھا سو اُس سے نفرت کرتا تھا ۔ میں پانچویں جماعت میں تھا کہ وہ میری کلاس میں میری خیریت دریافت کرنے آئی ۔ میں بہت تلملایاکہ اُس کو مجھے اس طرح شرمندہ کرنے کی جُراءت کیسے ہوئی ۔ اُس واقعہ کے بعد میں اُس کی طرف لاپرواہی برتتا رہا اور اُسے حقارت کی نظروں سے دیکھتا رہا ۔
اگلے روز ایک ھم جماعت نے مجھ سے کہا “اوہ ۔ تمہاری ماں کی صرف ایک آنکھ ہے”۔ اُس وقت میرا جی چاہا کہ میں زمین کے نیچے دھنس جاؤں اور میں نے ماں سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا ۔ میں نے جا کر ماں سے کہا “میں تمہاری وجہ سے سکول میں مذاق بنا ہوں ۔ تم میری جان کیوں نہیں چھوڑ دیتی ؟
” لیکن اُس نے کوئی جواب نہ دیا ۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کیا کہہ رہا تھا ۔ میں ماں کے
 ردِ عمل کا احساس کئے بغیر شہر چھوڑ کر چلا گیا ۔
میں محنت کے ساتھ پڑھتا رہا ۔ مجھے کسی غیر مُلک میں تعلیم حاصل وظیفہ کیلئے وظیفہ مل گیا ۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں نے اسی ملک میں ملازمت اختیار کی اور شادی کر کے رہنے لگا ۔ ایک دن میری ماں ھمیں ملنے آ گئی ۔ اُسے میری شادی اور باپ بننے کا علم نہ تھا ۔ وہ دروازے کے باہر کھڑی رہی اور میرے بچے اس کا مذاق اُڑاتے رھے ۔
میں ماں پر چیخا ” تم نے یہاں آ کر میرے بچوں کو ڈرانے کی جُراءت کیسے کی ؟”
 بڑی آہستگی سے اُس نے کہا “معافی چاہتی ہوں ۔ میں غلط جگہ پر آ گئی ہوں”۔ اور وہ چلی گئی ۔
ایک دن مُجھے اپنے بچپن کے شہر سے ایک مجلس میں شمولیت کا دعوت نامہ ملا جو میرے سکول میں پڑھے بچوں کی پرانی یادوں کے سلسلہ میں تھا ۔ میں نے اپنی بیوی سے جھوٹ بولا کہ میں دفتر کے کام سے جا رہا ہوں ۔ سکول میں اس مجلس کے بعد میرا جی چاہا کہ میں اُس مکان کو دیکھوں جہاں میں پیدا ہوا اور اپنا بچپن گذارہ ۔ مجھے ہمارے پرانے ہمسایہ نے بتا یا کہ میری ماں مر چکی ہے جس کا مُجھے کوئی افسوس نہ ہوا ۔ ہمسائے نے مجھے ایک بند لفافے میں خط دیا کہ وہ ماں نے میرے لئے دیا تھا ۔ میں بادلِ نخواستہ لفافہ کھول کر خط پڑھنے لگا ۔ لکھا تھا.
“میرے پیارے بیٹے ۔ ساری زندگی تُو میرے خیالوں میں بسا رہا ۔ مُجھے افسوس ہے کہ جب تم مُلک سے باہر رہائش اختیار کر چکے تھے تو میں نے تمہارے بچوں کو ڈرا کر تمہیں بیزار کیا ۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ تم اپنے سکول کی مجلس مین شمولیت کیلئے آؤ گے تو میرا دل باغ باغ ہو گیا ۔ مُشکل صرف یہ تھی کہ میں اپنی چارپائی سے اُٹھ نہ سکتی تھی کہ تمہیں جا کر دیکھوں ۔ پھر جب میں سوچتی ہوں کہ میں نے ہمیشہ تمہیں بیزار کیا تو میرا دل ٹُوٹ جاتا ہے ۔
کیا تم جانتے ہو کہ جب تم  بہت چھوٹے تھے تو ایک حادثہ میں تمہاری ایک آنکھ ضائع ہو گئی تھی ۔ دوسری ماؤں کی طرح میں بھی اپنے جگر کے ٹکڑے کو ایک آنکھ کے ساتھ پلتا بڑھتا اور ساتھی بچوں کے طعنے سُنتا نہ دیکھ سکتی تھی ۔ سو میں نے اپنی ایک آنکھ تمہیں دے دی ۔ جب اپریشن کامیاب ہو گیا تو میرا سر فخر سے بلند ہو گیا تھا کہ میرا بیٹا دونوں آنکھوں والا بن گیا اور وہ دنیا کو میری آنکھ سے دیکھے گا

ﻗﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ‏( ﺹ ‏) : " ﺍﻟﺠﻨﺔ ﺗﺤﺖ ﺍﻻﻗﺪﺍﻡ ﺍﻻﻣﻬﺎﺕ " ،
ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺟﻨﺖ ﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﺗﻠﮯ ﮨﮯ۔ ‏( 1 

اے اللہ ہمیں اپنے والدین کی خدمت کرنے کی توفیق عطاء فرما ۔۔ آمین

مکرم قارئین کرام چلتے، چلتے ہمیشہ کی طرح وہ ہی ایک آخری بات عرض کرتا چلوں کے اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ، کہانی یا تحریر وغیرہ اچھی لگا کرئے تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے، یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے کہ، اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردا تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو ....

Monday, December 25, 2017

स्वत्व

एका जंगलात एक वाघाचे पिल्लू लहान असतानाच त्याच्या आईपासून व वाघाच्या समुदायातून दुरावते. रस्ता चुकल्यावर ते इकडे तिकडे फिरत असताना त्याला एक बकऱ्यांचा कळप दिसतो. ते त्या कळपामध्ये सामील होते. बकऱ्यांच्या कळपात बराच काळ वाघाचे पिल्लू राहते व त्याचे सर्व आचरण हे बकऱ्यासारखे होते.ते ना गर्जना करते किंवा धाडसी कृत्यही करीत नव्हते. कारण वाघांसोबत न राहिल्याने आपल्या जमातीतील प्राणी कसे वागतात याचे त्याला ज्ञान नव्हते. एके दिवशी बकऱ्या चरत असताना एक वाघ त्यांना पाहतो आणि त्याला आश्चर्याचा धक्काच बसतो. सगळ्या बक या शांतपणे चरत आहेत आणि त्यांच्या बरोबर एक वाघाचे पिल्लू पण हिंडत आहे. बकऱ्याना त्या पिल्लाची भीती वाटत नाही म्हणजेच ते पिल्लू त्यांच्यात वाढलेले आहे हे त्याच्या लक्षात येते. तो वाघ त्या बकऱ्याजवळ जातो आणि गर्जना करतो, त्याबरोबर जीवाच्या भीतीने सगळा कळप पळायला सुरुवात करतो तसे ते वाघाचे पिल्लू पण पळायला सुरुवात करते, पण मोठा वाघ त्याला अडवतो आणि म्हणतो," अरे! मी गर्जना केल्याबरोबर बकऱ्या पळाल्या हे ठीक आहे. पण तू का पळत आहेस? आणि माझ्या गर्जनेला तू प्रत्युत्तर न देता म्याव म्याव का ओरडत आहेस? बकऱ्या पळून जाणे साहजिक आहे पण मी थांब म्हंटल्यावर तू थांबला याचा अर्थ तुझ्यात कुठेतरी वाघ जिवंत आहे. तू बकरी नाही याचा पुरावा मी तुला देतो " असे म्हणून मोठा वाघ पिल्लाला घेवून पाण्याजवळ जातो तेथे त्याचे प्रतिबिंब दाखवून त्याला त्याच्यातील वाघ असण्याची जाणीव करून देतो. पिल्लाला आपल्या स्वत्वाची जाणीव होते व ते आपल्या वाघांच्या समुहात राहायला जाते.
                 *तात्पर्य*
स्वत्वाची जाणीव होणे हि मोठी गोष्ट आहे.आपण आपल्यातील आपल्याला जोपर्यंत ओळखत नाहीत तोपर्यंत आपली अवस्था वाघाच्या पिल्लाप्रमाणे राहते.

Sunday, November 5, 2017

حقیقت

ایک آدمی نے خواب دیکھا کہ ایک شیر اُس کا پیچھا کر رہا ہے وہ ڈر کے بھاگا اور جان بچانے کے لیے ایک درخت پر چڑھ گیا اور اُسکی ایک شاخ پر جا بیٹھا۔

کچھ دیر بعد اُس نے نیچے دیکھا تو شیر ابھی تک وہیں بیٹھ کر اُس کا انتظار کر رہا تھا اُس نے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی تو کیا دیکھا کہ درخت کی جس شاخ پر وہ بیٹھا ہے وہاں دو چوہے چکر لگا رہے ہیں اور اُس شاخ کو کھا رہے ہیں۔ ایک چوہا کالے رنگ کا ہے جبکہ دوسرے کا رنگ سفید ہے۔

شاخ بہت جلد زمین پر گر جائے گی، اِسی خوف کے چلتے سے نیچے دیکھا تو اُس کے اُوسان خطا ہو گئے کیونکہ اُس شاخ کے بالکل نیچے کنویں میں ایک بہت بڑا کالے منہ والا سانپ منہ کھول کے بیٹھا ہے کہ آدمی جب بھی گرے تو سیدھا اُس کے منہ میں جائے۔

یہ شخص سہارا تلاش کرنے کی خاطر اِدھر اُدھر دیکھتا ہے کہ کوئی شاخ ہو جسے وہ پکڑ سکے۔ وہ دیکھتا ہے کہ ساتھ والی شاخ پر شہد کی مکھیوں کا چھتہ ہے اور شہد کے قطرے اس میں سے گر رہے ہیں۔ آدمی ان قطروں کا ذائقہ چکھنا چاہتا ہے، وہ شہد کے قطروں کو چکھنے کے لیے اپنی زبان باہر نکالتا ہے شہد بہت لذیز اور مزیدار تھا پھر وہ ایک کے بعد دوسرے قطرے کو چاٹنا شروع کر دیتا ہے اور نتیجے کے طور پر وہ شہد کی شیرینی کے نشے میں اتنا کھو جاتا ہے کہ وہ بھول ہی جاتا ہے کہ جس شاخ پر وہ بیٹھا ہوا ہے اُسے چوہے کتر رہے ہیں اور زمین پر شیر اور اُس شاخ کے بالکل نیچے کنویں میں سانپ اُس کے گرنے کا انتظار کر رہا ہے۔
پھر اچانک جب شاخ ٹوٹتی ہے تو اُسے سب خطرات یاد آجاتے ہیں اور وہ بیدار ہو جاتا ہے۔

یہ ایک منفرد خواب تھا جو اُس نے دیکھا۔۔!!
وہ اِس خواب کی تعبیر تلاش کرنے کے لیے گھر سے نکلتا ہے۔ آخر اُسے خواب کی تعبیر ملتی ہے۔۔!!

وہ "شیر" جو اُس نے دیکھا وہ اُس کی موت تھی جو ہر وقت اُسکا پیچھا کر رہی تھی اور جہاں بھی وہ جاتا ہے اُس کے پیچھے پیچھے چل پڑتی ہے۔

وہ "دو چوہے کالا اور سفید" دن اور رات ہیں۔ یہ چکر لگا رہے ہیں ایک کے بعد دوسرا آجاتا ہے یہ اُسکا وقت کھا رہے ہیں اور اُسے ہر لمحہ موت کو قریب کر رہے ہیں۔

وہ "کنویں کے اندر کالے منہ والا بڑا سانپ" اُسکی قبر ہے وہ اُسکا انتظار کر رہی ہے کب وہ اس میں آئے گا۔۔۔!

وہ "شہد کا چھتہ" دنیا ہے اور اس سے ٹپکتے قطرے اس کی "رنگینیاں اور دلفریبیاں ہیں"

دوستو! اِس خواب کی تعبیر ہم سب پر بھی صادق آتی ہے۔ ۔ ہم بھی اِس دنیا کی رنگینیوں اور دلکشیوں میں اتنے کھو چکے ہیں کہ نہ تو ہمیں دِن، رات کے گزرنے کا پتہ چلتا ہے۔ نہ ہمیں موت کی فکر ہے اور نہ قبر کا خوف ہے۔

ہم دنیا میں اتنے مست ہو چکے ہیں کہ ہمیں معلوم ہی نہیں ہے کہ دنیا کے کسی بازار میں ہمارے کفن کا کپڑا بکنے کے لیے بھی آ چکا ہے

Thursday, November 2, 2017

*باپ کی نصیحت*

 *شیخ سعدی اور انکی حکایتں۔*

*باپ کی نصیحت*

★بیان کیا جاتا ہے، ایک فقیہہ نے اپنے باپ سے کہا یہ متکلم باتیں تو ہت لچھے دار کرتے ہیں لیکن ان کا عمل ان کے قول کے مطابق نہیں ہوتا ۔ دوسروں کو یہ نصیحت کرتے ہیں کہ دنیا سے دل نہیں لگانا چاہیے لیکن خود مال و دولت جمع کرنے کی فکر سے فارغ نہیں ہوتے ۔ ان کا حال تو قرآن مجید کی اس آیت کے مطابق ہے *(تم لوگوں کو تو بھلائی اختیار کرنے کی تاکید کرتے ہو لیکن اس سلسلے میں اپنی حالت پر کبھی غور نہیں کرتے۔۔۔سورۃ-بقرہ-آیت-۴۴)*

باپ نے کہا۔ اے بیٹے ! اس خیال کو ذہن سے نکال دے کہ جب تک کوئی عالم باعمل نہیں ملے گا تو نصیحت پر کان نہ دھرے گا بھلائی اور نیکی کی بات جہاں سے بھی سنے اسے قبول کر ۔ اس نابینا شخص جیسا بن جانا مناسب نہیں جو کیچڑ میں پھنس گیا تھا اور کہہ رہا تھا کہا اے بردران اسلام ! جلد سے میرے لیے ایک چراغ روشن کر دو ۔ اس کی یہ بات سنی تو ایک خاتون نے کہا کہ جب تجھے چراغ ہی دکھائی نہیں دیتا تو اس کی روشنی سے کسی طرح فائدہ حاصل کرے گا؟

اس لئے بیٹے ! وعظ کی محفل بزارکی دکان کی طرح ہے کہ جب تک نقد قیمت ادانہ کی جائے جنس ہاتھ نہیں آتی ۔ اسی طرح عالم کے ساتھ عقیدت شرط اوّل ہے ۔

*دل میں عقیدت نہ ہوگی تو اس کی بات دل پر اثر نھ کرے گی.*

*نصیحت تو دیوار پر بھی لکھی ہوئی ہوتو قابل قبول ہوتی ہے۔*

*ہر نصیحت بگوش ہوش سنو دیکھو دیوار پر لکھا کیا ہے*

*یہ نہ دیکھو کہ کون کہتا ہے غور اس پر کرو کہا کیا ہے*

*سبق:-حضرت سعدی نے اس حکایت میں اصلاح نفس کے لیے یہ زریں گر بتایا ہے کہ جن لوگوں سے کچھ حاصل کرنا ہوا ان میں عیب تلاش کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے علم حاصل کرنے کا انحصار تو کلیتہ عقیدت اور ادب پر ہی ہے ۔ نصیحت بھی اس وقت تک دل پر اثر نہیں کرتی جب تک سننے والا عقیدت سے نہ سنے اس کے علاوہ یہ بات بھی ہمہ وقت ذہن میں رکھنے کے قابل ہے کہ بے نیت ذات تو صرف اللہ پاک کی ہے ۔ عیب ڈھونڈ نے کی نظر سے دیکھا جائے تو اچھے اچھے آدمی میں بھی کوئی خامی نکل آئے گی۔*

*​🖋💠🌹سبق آموز کہانیاں🌹💠🖋*

*عقلمند شہزادہ*


               
*شیخ سعدی اور انکی حکایتں۔*

*عقلمند شہزادہ*

★کہتے ہیں، ایک شہزادہ اپنے باپ کے مرنے کے بعد تخت حکومت پر بیٹھا تو اس نے حاجت مندوں کی امداد کے لیے اپنے خزانے کے دروازے کھلوا دیے جوشخص بھی سوالی بن کر آتا ، شہزادہ اس کی ضرورت کے مطابق اس کی امداد کرتا ، ننے بادشاہ کا یہ رویہ دیکھا تو ایک روز وزیر نے مناسب موقع دیکھ کر خیر خواہی جتا نے کے انداز میں کہا کہ حضور والا پہلے بادشاہوں نے یہ خزانہ بہت توجہ اور دانشمندی سے جمع کیا ہے۔ اسے یوں لٹا دینا مناسب نہیں۔

بادشاہ کو کسی وقت بھی خطرات سے غافل نہیں ہوناچاہیے ۔ کیا کہا جاسکتا ہے کہ آیندہ کیا واقعات پیش آئیں ۔ اگر حضور والا اپنا سارا خزانہ بھی تقسیم کردیں تو رعایا کے حصے میں ایک ایک جو کے برابر آئے گا لیکن۔ اگر حضور رعایا کے لوگوں سے ایک ایک جو کے برابر سونا لیں توحضور کا خزانہ بھر جائے گا۔

بظاہر یہ بات بہت خیر خواہی کی تھی لیکن شہزادے کو بالکل پسند نہ آئی اس نے کہا خدانے مجھے اپنے فضل سے ایک بڑی سلطنت کا وارث بنا یا ہے میرا یہ کام نہیں کہ مال جمع کرنے کی دھن میں لگ جاؤں بادشاہ کا فرض رعایا کو خوشحال بنانا ہے ۔ خزانے پر سانپ بن کر بیٹھنا نہیں ہے۔

قارون ہوا ہلاک خزانوں کے باوجود نوشیرواں ہے زندہ جاوید عدل سے
ڈبّے میں ہے گربند تو بے فیض ہے عود خوشبو اڑے جب آتش سوزاں میں جلائیں
ملتی ہے بزرگی تو فقط جو دوسخا سے دانہ ہو اگر کاشت تو کھلیان سجائیں

*سبق:-اس حکایت میں حضرت سعدی نے یہ نکتہ بیان کیا ہے کہ سلطنت اور اقتدار کو دوام خزانوں سے نہیں بلکہ لوگوں کو خوشحال بنانے سے ملتا ہے۔ یہ سراسر سطحی سوچ ہے کہ زیادہ مال دار لوگ زیادہ عزت پاتے ہیں اور مال کی قوت سے ان کا اقتدار مستحکم ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سخاوت اور عدل وانصاف کے باعث دلوں میں جو محبت پیدا ہوتی ہے وہ اقدار اور عزت کو دوام بخشتی ہے۔*

*اللّٰه تعالی ہم کو بھی ایسا ہی کوئی نیک دل اور سخی حکمران عطا فرمائے۔(آمین)*

*​🖋💠🌹سبق آموز کہانیاں🌹💠🖋*

Sunday, October 29, 2017

خلوت کے گناہ




بہت جاندار و شاندار تحریر....پڑهئے گا ضرور...!!!

آج ہمارا ایمان بالغیب انٹرنیٹ اور موبائیل کے ذریعے آزمایا گیا ہے، جہاں ایک کلک آپ کو وہ کچھ دکھا سکتی ھے جو ہمارے باپ دادا   دیکھے بغیر اللہ کو پیارے ہو گئے ،،
ہم نے خفیہ گروپ بنا کر اپنے اپنے گٹر کھول رکھے ھیں ،
(یستخفون من الناس) لوگوں سے تو چھپا لیتے ھیں (ولا یستخفون من اللہ و ھو معھم) مگر اللہ سے نہیں چھپا سکتے کیونکہ وہ ان کے ساتھ ھے ،
👈 ہمارا لکھا اور دیکھا ہوا سب ہمارے نامہ اعمال میں محفوظ ہو رہا ھے جہاں سے صرف اسے سچی توبہ ہی مٹا سکتی ہے

یہ سب امتحان اس لئے ہیں تاکہ (لیعلم اللہ من یخافه بالغیب) اللہ تعالی جاننا چاہتا ہے کہ کون کون اللہ تعالی سے غائبانہ ڈرتا ہے۔

🔹یہ لکھنے والے ہاتھ اور پڑھنے والی آنکھیں ، سب ایک دن بول بول کر گواہی دیں گے ،،
: { الْيَوْم نَخْتِم عَلَى أَفْوَاههمْ وَتُكَلِّمنَا أَيْدِيهمْ وَتَشْهَد أَرْجُلهمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ) (یسن – 65)
” آج ہم انکے منہ پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ھم سے بات کریں گے اور ان کے پیر ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔‘

’’ گناہ کے دوران ہمارا کوئی بیوی بچہ یہانتک کہ بلی یا ہوا کا جھونکا بھی دروازہ ہلا دے تو ہماری پوری ہستی ہل کر رہ جاتی ھے ،، کیوں ؟ رسوائی کا ڈر ،، امیج خراب ہونے کا ڈر ،،

🔴 اس دن کیا ہو گا جب ہماری بیوی بچے اور والدین بھی سامنے دیکھ رہے ہونگے اور دوست واحباب بھی موجود ہونگے ،، زمانہ دیکھ رہا ہو گا اور تھرڈ ایمپائر کی طرح کلپ روک روک کر اور ریورس کر کے دکھایا جا رہا ہو گا ،، ہائے   رسوائی ،،،،،،،،،،،،،،،،

👈 آج بھی صرف توبہ کے چند لفظ اور آئندہ سے پرہیز کا عزم ہمارے پچھلے کیئے ہوئے کو صاف کر سکتا ہے.  اور ہمیں اس رسوائی سے بچا سکتا ھے ،،

🔹 اللہ کے رسول صلي الله عليه وسلم دعا مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ میرے باطن کو میرے ظاھر سے اچھا کر دے ،،

خلوت کے گناہ انسان کے عزم وارادے کو متزلزل کر کے رکھ دیتے ہیں.  یوں ان میں خود اعتمادی اور معاملات میں شفافیت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ھے.
(اِتَّقِ الله حيث ما كنت) جہاں کہیں بھی ہو اللہ سے ڈرو.
اللّہ تعالٰی ہم سب کی مغفرت فرمائے.
 آمِین..."

Please share with others.

Sunday, October 15, 2017

کوثر کی شان

حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے بڑے صاحبزادے حضرت قاسمؓ کی وفات کے بعد جب انکے چھوٹے صاحبزادے حضرت عبداللؓہ کا بھی انتقال ہو گیا تو عرب کے کفار بہت خوش ہوئے۔ خونی رشتوں کی عرب میں بہت اہمیت تھی.

 آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا چچا ابولہب تو آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو تکلیف میں دیکھ کر خوش ہوا کرتا تھا۔ جب یہ تکلیف آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر آئی تو اسکی تو جیسے عید ہو گئی، صبح ہوئی تو وہ دوڑا دوڑا گیا اور گھر گھر یہ خبر پہنچانے لگا کہ...

" ابتر محمد اللیلتہ "

" آج رات محمد کی جڑ کٹ گئی۔ اور وہ لا ولد (بے نسل) ہوگئے ... " (معاذاللہ )

اس کے بعد مکہ کے ایک سردار عاص بن وائل نے آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے لئے ابتر کا لفظ خاص کر دیا۔ جب بھی کوئی آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کرتا تو وہ فوراً منہ بنا کر کہتا کہ...." ان کی کیا بات کرتے ہو ...؟ "
" وہ تو ابتر (جڑ کٹے) آدمی ہیں (معاذاللہ) "

اس نے اس ابتر والی بات کو خوب پھیلایا ، یہ بات دو دھاری تلوار کی طرح تھی، اس سے انکا ایک مقصد تو یہ تھا کہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو اپنے صاحبزادوں کے انتقال کا غم ستاتا رہے اور دوسرا مقصد یہ کہ لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھا دی جائے کہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اپنی قوم سے کٹ کر اس درخت کی مانند ہو گئے ہیں جس کی جڑیں کٹ گئی ہوں اور اب وہ گرنے ہی والا ہو۔ ( معاذاللہ )

عاص بن وائل طنزاً لوگوں سے کہتا کہ " یہ بے نسل رہ گئے، انکا کوئی نام لیوا نہیں ہوگا، انکی وفات کے بعد انکا نام بھی مٹ جائے گا اور تمہاری جان ان سے چھوٹ جائے گی۔ اپنی قوم سے تو یہ تب سے ہی لاتعلق ہو گئے تھے جب انہوں نے انکے شرک کو اعلانیہ برا بھلا کہا تھا، تجارت انکی تباہ ہو گئی اور بیٹے انکے نہ رہے، اب تو یہ بے نسل رہ گئے ہیں. (معاذاللہ) "

یہ تھے وہ انتہائی دل شکن حالات جن میں سورۃ الکوثر نازل کی گئی

قریش اس لئے آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے بگڑے تھے کہ آپ ﷺ صرف ایک اللہ کی بندگی و عبادت کرتے تھے اور کفار کے شرک کی مخالفت کرتے تھے۔ اسی وجہ سے پوری قوم میں آپ ﷺ کو جو مرتبہ نبوت سے پہلے حاصل تھا وہ چھین لیا گیا۔ برادری آپ ﷺ کی مخالف ہوگئی۔ آپ ﷺ کے چند مٹھی بھر ساتھی بے یار و مددگار اور ظلم و ستم کا شکار تھے۔ اس پر مزید ایک بیٹے کی وفات سے غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا۔ اس موقع پر عزیزوں، رشتہ داروں، قبیلے اور ہمسائیوں کی طرف سے ہمدردی و تعزیت کی بجائے وہ خوشیاں منائی جا رہی تھیں اور وہ باتیں بنائی جا رہی تھیں جو ایک شریف دل انسان کے لئے دل توڑ دینے والی تھیں۔ جس انسان نے اپنے تو اپنے، غیروں سے بھی ہمیشہ نیک سلوک کیا تھا.

اس موقع پر اللہ تعالٰی نے لفظ ابتر کے مقابلے میں سورۃ کوثر کو نازل فرمایا، مختصر سے فقرے میں آپ ﷺ کو وہ خوشخبری دی گئی جو پہلے کبھی کسی کو نہ دی گئی تھی۔ اور ساتھ ہی یہ فیصلہ بھی سنا دیا گیا کہ آپ ﷺ کے مخالفوں کی ہی جڑ کٹ جائے گی اور یہی ابتر اور بے نام و نشان رہ جائیں گے.

" اے نبی ! ہم نے تمہیں کوثر عطا کر دیا۔ پس تم اپنے رب ہی کے لئے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ بے شک تمہارا دشمن ہی جڑ کٹا ہے. "

(القرآن۔ سورۃ الکوثر)

جب یہ سورۃ نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے مخالفین کے سامنے پڑھی گئی تو وہ اس کے ادبی حسن سے مبہوت رہ گئے۔ لیکن انہیں لفظ کوثر کے بارے میں کچھ معلوم نہ تھا۔ چنانچہ وہ لفظ ابتر کو بھول گئے اور لفظ کوثر کے پیچھے پڑ گئے کہ آخر اسکا کیا مطلب ہے ....؟

لوگ ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ یہ کوثر کیا ہے ...؟

 لوگ ماہرین کلام کے آگے پیچھے پھرنے لگے۔ ہر بازار، ہر گلی، ہر کوچہ، ہر محفل میں بس ایک ہی لفظ کی تکرار رہ گئی، لفظ ابتر کے مقابلے میں لفظ کوثر کا صوتی حسن بہت زیادہ ہے۔ حتیٰ کے لوگوں نے آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے اور آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے ساتھیوں سے رجوع کیا اور لفظ کوثر کا مطلب پوچھا۔ اس طرح لفظ کوثر نے مخالفین کے پروپیگنڈے کے پرخچے اڑا کر رکھ دیئے۔

وہ مخالفین جو ابتر ابتر کہتے پھرتے تھے ان پر ایک زبردست ضرب لگائی گئی کہ تم مخالف ہی جڑ کٹے ہو۔ اللہ نے تو اپنے نبی کو کوثر عطا کیا ہے اور بتا دیا کہ " اے نبی! تمہارے دشمن سمجھتے ہیں کہ تم برباد ہوگئے، مال و اولاد اور تعلقات سب لٹ گیا، نہیں، اللہ نے تو تمہیں بے انتہا خیر اور بے شمار نعمتیں دی ہیں، بیٹے نہ رہے تو کیا ہوا، اللہ نے ایک بیٹی سے تمہاری نسل چلا دی، ایک بلند پایہ امت کا نبی بنا دیا، اعلٰی اخلاق کی بے نظیر خوبیاں دی گئیں۔ پھر نبوت، قرآن اور علم و حکمت کی عظیم تر نعمتیں دی گئیں۔ اسکے بعد توحید پر مبنی ایک ایسے نظام زندگی کی نعمت دی جو کہ آگے سے آگے پھیلنے کی طاقت رکھتی ہے اور اسکے بعد آخرت میں حوض کوثر کی وہ نعمت دی جو کسی دوسرے انسان کو نہ دی گئی "

 یہی وہ نعمت ہے کہ 1400 سال بعد بھی آپ ﷺ کا نام ویسے کا ویسا ہی بلند ہے اور بڑے سے بڑا مخالف بھی آپ ﷺ کے نام اور آپ کے پیروکار نہ مٹا سکا، یہی وہ خیر کثیر ہے کہ آپ ﷺ کی امت دنیا میں دین حق کی علمبردار بن گئی، جس سے زیادہ پاکیزہ، نیک اور بلند پایہ انسان دوسری کسی امت میں پیدا نہ ہوئے، اور یہی وہ امت ہے جو بگاڑ کی حالت کو پہنچ کر بھی سب سے زیادہ خیر کا عنصر اپنے اندر لیے ہوئے ہے

سلام ہو ایسے نبی ﷺ پر اور سلام ہو اس کلام کی طاقت پر ...!


Wednesday, October 4, 2017

دلچسپ کہانی

ﺍﯾﮏ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﺳﯿﺪﻩ ﻣﮑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻏﺮﯾﺐ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﺭﻫﺘﺎ ﺗﮭﺎ, ﻣﮑﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ, ﺑﺲ ﺁﺛﺎﺭ ﻗﺪﯾﻤﻪ ﮐﺎ
ﮐﮭﻨﮉﺭ ﻫﯽ ﺗﮭﺎ. ﻏﺮﯾﺐ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﺟﺐ ﺳﺮﺷﺎﻡ ﮔﮭﺮ ﻟﻮﭨﺘﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﻣﻌﺼﻮﻣﯿﺖ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﯽ :
" ﺍﺏ ﺗﻮ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﻩ ﻟﮕﻮﺍ ﺩﯾﮟ, ﮐﺐ ﺗﮏ ﺍﺱ ﻟﭩﮑﮯ ﭘﺮﺩﮮ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺭﻫﻨﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ, ﺍﻭﺭ ﻫﺎﮞ!
 ﺍﺏ ﺗﻮ ﭘﺮﺩﻩ ﺑﮭﯽ ﭘﺮﺍﻧﺎ ﻫﻮ ﮐﺮ ﭘﮭﭧ ﮔﯿﺎ ﻫﮯ.
 ﻣﺠﮭﮯ ﺧﻮﻑ ﻫﮯ ﮐﻬﯿﮟ ﭼﻮﺭ ﻫﯽ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﻪ ﮔﮭﺲ
ﺟﺎﺋﮯ"

ﺷﻮﻫﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﮯ ﻫﻮﺋﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺘﺎ : ﻣﯿﺮﮮ ﻫﻮﺗﮯ ﻫﻮﺋﮯ ﺑﮭﻼ ﺗﻤﻬﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺧﻮﻑ? ﻓﮑﺮ ﻧﻪ ﮐﺮﻭ ﻣﯿﮟ ﻫﻮﮞ ﻧﺎ ﺗﻤﻬﺎﺭﯼ ﭼﻮﮐﮭﭧ" ﻏﺮﺽ ﮐﺌﯽ ﺳﺎﻝ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﮯ ﺑﺤﺚ ﻭﻣﺒﺎﺣﺜﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺭ ﮔﺌﮯ،
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﻩ ﻟﮕﻮ ﺍﺩﻭ. ﺑﺎﻵﺧﺮ ﺷﻮﻫﺮ ﮐﻮ ﻫﺎﺭ ﻣﺎﻧﻨﺎ ﭘﮍﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﭼﮭﺎ ﺳﺎ ﺩﺭﺍﺯﻩ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺎ،. ﺍﺏ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﺎ ﺧﻮﻑ ﮐﻢ ﻫﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺷﻮﻫﺮ ﮐﮯ ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ﭘﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺗﺼﻮﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﯽ..

ﺍﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﺳﺎﻝ ﮔﺰﺭﮮ ﺗﮭﮯ ﮐﻪ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺷﻮﻫﺮ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﻫﻮﮔﯿﺎ. ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﭼﺮﺍﻍ ﺑﺠﮫ ﮔﯿﺎ, ﻋﻮﺭﺕ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﻩ ﺑﻨﺪ ﮐﺌﮯ ﭘﻮﺭﺍ ﺩﻥ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺭﻫﺘﯽ،،
ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﭼﻮﺭ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﭘﮭﻼﻧﮓ ﮐﺮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﻫﻮﮔﯿﺎ, ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﻮﺩﻧﮯ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﭘﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮭﻞ ﮔﺌﯽ,ﺍﺱ ﻧﮯ ﺷﻮﺭ ﻣﭽﺎﯾﺎ. ﻣﺤﻠﮯ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﺁﮔﺌﮯ, ﺍﻭﺭ ﭼﻮﺭ ﮐﻮ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﺎ.ﺟﺐ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻫﻮﺍ ﮐﻪ ﻭﻩ ﭼﻮﺭ ﭘﮍﻭﺳﯽ ﻫﮯ..

ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﻫﻮﺍ ﮐﮧ ﭼﻮﺭ ﮐﮯ ﺁﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺻﻞ ﺭﮐﺎﻭﭦ ﺩﺭﻭﺍﺯﻩ ﻧﻬﯿﮟ ﻣﯿﺮﺍ ﺷﻮﻫﺮ ﺗﮭﺎ.ﺍﺱ ﭼﻮﮐﮭﭧ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﻩ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﻭﻩ ﭼﻮﮐﮭﭧ )ﺷﻮﻫﺮ( ﺗﮭﯽ..
ﻣﯿﺎﮞ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﺎ ﺭﺷﺘﮧ ﺑﺎﮨﻤﯽ ﮨﻢ ﺁﮨﻨﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺎ ﮨﮯ !!!

ﺷﻮﻫﺮ ﻣﯿﮟ ﻻﮐﮫ ﻋﯿﺐ ﻫﻮﮞ ﻟﯿﮑﻦ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﯾﻬﯽ ﻫﮯ ﮐﮧ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﭼﻮﮐﮭﭧ ﯾﻬﯽ ﺷﻮﻫﺮ ﻫﯿﮟ,

ﻫﻤﺎﺭﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﺷﺪﻩ ﻣﺎﺅﮞ, ﺑﻬﻨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭩﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﭼﻮﮐﮭﭩﻮﮞ ﮐﯽ ﺧﻮﺏ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﮭﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﯾﮟ. ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﺎ ﺷﮑﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺭﺷﺘﮧ ﺍﻭﺭ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﮨﻮ -