या ब्लॉगचा उद्देश एकाच ठिकाणी सर्व प्रकारच्या उपयुक्त आणि महत्वपूर्ण माहिती प्रदान करणे आहे.या ब्लॉगची सामग्री सोशल मीडियामधून घेतली आहे.
Showing posts with label سیرت النبیﷺ. Show all posts
Showing posts with label سیرت النبیﷺ. Show all posts

Thursday, October 25, 2018

*سیرت النبیﷺ ۔۔۔ قسط: 28

قسط 28..

پچھلی قسط میں ھم نے حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے مکہ آنے اور "ننھے حضور" کو اپنے ساتھ دودھ پلانے کی خاطر گاؤں لے جانے کے واقعات بیان کیے.. اب آگے کے حالات کا ذکر کیا جاۓ گا..

حلیمہ سعدیہ کے گھر میں کل چھ افراد رہا کرتے تھے.. شوہر حارث , شیر خوار عبداللہ , بیٹیاں انیسہ , حذیفہ اور جدامہ (رضی اللہ عنہا).. ( ان ہی کا لقب شیما تھا) عبداللہ (رضی اللہ عنہ) کی قسمت کہ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دودھ شریک بھائی کا شرف حاصل ھوا..

جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذرا بڑے ہوئے اور پاؤں پاؤں چلنے لگے تو شیما (رضی اللہ عنہا) ہی زیادہ تر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھیلا کرتیں.. اس کھیل کے دوران ایک مرتبہ شیما (رضی اللہ عنہا) نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت تنگ کیا تو غصہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے کندھے پر اس زور سے کاٹا کہ دانتوں کے نشان بیٹھ گئے.. یہ نشان ان کے لئے اُس وقت باعث رحمت بن گئے جب کہ غزوۂ حنین کے بعد شیما مسلمانوں کے ہاتھوں گرفتار ہوئیں تو انہوں نے کہا کہ میں تمہارے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رضاعی بہن ہوں.. 

جب مسلمانوں نے انہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا تو انہوں نے بچپن کا واقعہ یاد دلاتے ہوئے اپنے کندھے پر دانتوں کے نشان دکھائے جس پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سارا واقعہ یاد آگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں بڑے احترام سے اپنی چادر بچھا کر بٹھایا اور فرمایا کہ اگر میرے پاس رہنا چاہو تو بہن کی طرح رہ سکتی ہو لیکن انہوں نے عرض کیا کہ وہ اپنے وطن لوٹ جانا چاہتی ہیں.. انہوں نے اسلام قبول کرلیا.. حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں جو عطایا دئیے ان میں تین غلام , باندیاں , کچھ اونٹ اور بکریاں شامل تھیں..

ان چاروں میں سے جناب عبداللہ رضی اللہ عنہ اور شیما رضی اللہ عنہا کا اسلام لانا تو ثابت ھے لیکن باقی دو کا حال معلوم نہیں جبکہ جناب حارث رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے بعد مکہ آۓ تو تب اسلام قبول کرلیا تھا..

حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ جو غیر معمولی واقعات مکہ سے واپسی پر شروع ھوۓ وہ ان کے گھر پہنچنے پر بھی جاری رھے.. مریل اور بوڑھی اونٹنی کے تھنوں میں دودھ بھر آیا حالانکہ اس سے قبل بڑی مشکل سے گزارے کے لئے دودھ آتا تھا.. حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے سبب خیر و برکت سے ہمارے گھرانے کو نوازتا رہا.. خود حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے دودھ کم اترتا تھا اور خود عبداللہ کے لیے بھی مشکل سے پورا پڑتا تھا لیکن یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود مبارکہ کی برکتیں ھی تھیں کہ آپ کے آتے ھی حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کی چھاتیوں میں اتنا دودھ اتر آیا کہ جس کا انہوں نے اس سے پہلے سوچا بھی نہ تھا لیکن اس زمانے میں بھی "ننھے حضور" کی منصف مزاجی اور عدل پسندی کا یہ عالم تھا کہ آپ نے کبھی ایسا نہ کیا کہ ایک پستان کا دودھ پی کر دوسرے سے بھی پی لیں بلکہ دوسری پستان کا دودھ اپنے دودھ شریک بھائی عبداللہ رضی اللہ عنہ کے لیے چھوڑ دیتے.. اس کے علاوہ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا جب تک آپ کو دودھ پلاتی رھیں ایسا کبھی نہ ھوا کہ ان کا کوئی بستر یا کوئی دوسرا کپڑا آپ کے بول و براز سے خراب ھوا ھو..

آپ کے دم سے ظہور پذیر برکتیں صرف حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا تک محدود نہ تھیں بلکہ اس کا دائرہ ان کے گھر سے وسیع ھو کر اڑوس پڑوس کے گھروں تک بھی پہنچنے لگا.. قحط اور خشک سالی کی بدولت بنو سعد کے گھرانے کی تمام زمینیں بنجر ہو گئی تھیں اور جانوروں کے تھن دودھ سے محروم ہو گئے تھے.. بستی والے چرواہوں سے کہا کرتے کہ تم بھی اپنی بکریاں وہاں لے جاؤ جہاں حلیمہ سعدیہ (رضی اللہ عنہا) کے جانور چرتے ہیں..

ایک مرتبہ حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عکاظ کے میلہ میں لے گئیں.. وہاں ایک کاہن کی نظر آپ پر پڑی تو پکار پکار کر کہنے لگا کہ اے عکاظ والو ! اس بچہ کو جان سے مار ڈالو ورنہ یہ بڑا ہو کر تم سب کو مٹا دے گا.. حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا یہ سنتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر فوراً وہاں سے چلی گئیں..

===========>جاری ھے..

Wednesday, October 24, 2018

*سیرت النبیﷺ ۔۔۔ قسط: 27

*سیرت النبیﷺ ۔۔۔ قسط: 27*

*حلیمہ ؓ کی گود میں:* 

حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا اپنی چند ہم قبیلہ عورتوں کے ساتھ مکہ وارد ہوئیں، وہ کیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچیں، اس قسط میں حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کی زبانی وہ سب دلچسپ واقعات بیان کیے جائیں گے۔

ابن اسحق، جہم بن ابی جہم کی روایت سے حضرت عبداللہ بن جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی باتیں بیان کرتے ہیں کہ انہیں حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا نے خود یہ سارا واقعہ سنایا۔ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ: 

"جب قبیلہ بنی سعد (بنو ھوازن اسی بڑے قبیلہ کا ایک ذیلی قبیلہ تھا جس سے حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کا تعلق تھا) میں کسی سال مکہ میں کئی بچوں کی پیدائش کی خبر پہنچتی تھی تو بنی سعد کی عورتیں ان بچوں کو اجرت پر دودھ پلانے کے لیے مکہ کی طرف لپکنے لگتی تھیں، پھر ایک سال ایسا ہی ہوا کہ مکہ کے معزز اور شریف خاندانوں میں کئی بچوں کی پیدائش کی خبر ملی تو بنی سعد کی دس عورتیں جن میں مَیں بھی شامل تھی، اپنے شوہر حارث بن عبدالعزّیٰ اور اپنے ایک شِیرخوار بچے کے ساتھ مکہ کی طرف چلیں، یہ قحط سالی کے دن تھے اور قحط نے کچھ باقی نہ چھوڑا تھا، میں اپنی ایک سفید گدھی پر سوار تھی اور ہمارے پاس ایک اونٹنی بھی تھی، لیکن واللہ! اس سے ایک قطرہ دودھ نہ نکلتا تھا، اِدھر بھُوک سے بچہ اس قدر بِلکتا تھا کہ ہم رات بھر سو نہیں سکتے تھے، نہ میرے سینے میں بچہ کے لیے کچھ تھا اور نہ اونٹنی اس کی خوراک دے سکتی تھی، بس ہم بارش اور خوشحالی کی آس لگائے بیٹھے تھے، میں اپنی گدھی پر سوار ہو کر چلی تو وہ کمزوری اور دُبلے پن کے سبب اتنی سست رفتار نکلی کہ پورا قافلہ تنگ آگیا۔

خیر ہم کسی نہ کسی طرح دودھ پینے والے بچوں کی تلاش میں مکہ پہنچ گئے، پھر ہم میں سے کوئی عورت ایسی نہیں تھی جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیش نہ کیا گیا ہو، مگر جب اسے بتایا جاتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یتیم ہیں تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لینے سے انکار کر دیتی، کیونکہ ہم بچے کے والد سے داد ودہش کی امید رکھتے تھے، ہم کہتے کہ یہ تو یتیم ہے، بھلا اس کی بیوہ ماں اور اس کے دادا کیا دے سکتے ہیں؟ بس یہی وجہ تھی کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لینا نہیں چاہتے تھے۔

ادھر جتنی عورتیں میرے ہمراہ آئی تھیں سب کو کوئی نہ کوئی بچہ مل گیا، صرف مجھ ہی کو نہ مل سکا، جب واپسی کی باری آئی تو مجھے خالی ہاتھ جانا اچھا نہ لگا، میں نے اپنے شوہر سے کہا: "اللہ کی قسم! مجھے اچھا نہیں لگتا کہ میری ساری سہیلیاں تو بچے لے کر جائیں اور تنہا میں کوئی بچہ لیے بغیر واپس جاؤں، میں جاکر اسی یتیم بچے کو لے لیتی ہوں، شوہر نے کہا: "کوئی حرج نہیں، ممکن ہے کہ اللہ اسی میں ہمارے لیے برکت دے۔" یہ فیصلہ کرکے جہاں میری ساتھی عورتوں نے رات بھر کے لیے پڑاؤ ڈالا تھا، میں بھی رات گزارنے کے لیے وہیں ان کے ساتھ پڑگئی۔

وہ ساری رات میری آنکھوں میں کٹ گئی، کیونکہ نہ تو میرے یا میرے شوہر کے کھانے کے لیے کچھ تھا اور نہ ہی میری گدھی اور اونٹنی کے لیے چارا تھا، میرا شِیرخوار بچہ عبداللہ ساری رات میرے پستان چچوڑتا رہا، لیکن چونکہ میں خود اس رات فاقہ سے تھی تو میری چھاتیوں سے دودھ کہاں سے اترتا، خیر وہ رات تو میں نے جیسے تیسے جاگ جاگ کاٹ لی اور صبح ہوتے ہی وہی یتیم بچہ لینے چل دی، یہ بھی خیال تھا کہ اس بچے کی ماں سے اتنا تو پیشگی مل ہی جاۓ گا کہ جس سے میں اپنے اور اپنے شوہر کے لیے کھانے پینے کی کوئی چیز اور اپنے گدھی اور اونٹنی کے لیے چارا لے سکوں گی۔

جب میں اس بچے کو لینے اس کی ماں کے پاس پہنچی تو وہ مجھ سے بڑی خندہ پیشانی سے پیش آئیں اور اپنا بچہ مجھے دیتے ہوۓ اس کی دودھ پلائی کی جو رقم مجھے دی وہ بھی میری توقع سے زیادہ تھی، اس کے علاوہ وہ بچہ جسے میں یتیم سمجھ کر مجبوراً لینے آئی تھی، اتنا خوبصورت تھا کہ میں نے اپنی ساری زندگی میں اس سے زیادہ خوبصورت بچہ کبھی نہ دیکھا تھا، وہ جب ھمک کر میری گود میں آیا اور پھر میرے سینے سے لگا تو مجھے اتنا سکون ملا کہ جس کا بیان کرنا مشکل ہے۔

جب میں بچے کو لے کر اپنے ڈیرے پر واپس آئی اور اسے اپنی آغوش میں رکھا تو دونوں سینے دودھ کے ساتھ اس پر اُمنڈ پڑے، اس نے جس قدر چاہا شکم سیر ہوکر پیا، اس کے ساتھ اس کے بھائی نے بھی شکم سیر ہوکر پیا، پھر دونوں سوگئے حالانکہ اس سے پہلے ہم اپنے بچے کے ساتھ سو نہیں سکتے تھے، ادھر میرے شوہر اونٹنی دوہنے گئے تو دیکھا کہ اس کا تھن دودھ سے لبریز ہے، انھوں نے اتنا دودھ دوہا کہ ہم دونوں نے نہایت آسودہ ہو کر پیا اور بڑے آرام سے رات گزاری، صبح ہوئی تو میرے شوہر نے کہا: "حلیمہ! اللہ کی قسم! تم نے ایک بابرکت روح حاصل کی ہے۔" میں نے کہا: "مجھے بھی یہی توقع ہے۔"

اس کے بعد ہمارا قافلہ روانہ ہوا، میں اپنی اسی خستہ حال گدھی پر سوار ہوئی اور اس بچے کو بھی اپنے ساتھ لیا، لیکن اب و

سیرت النبیﷺ قسط نمبر 26

قسط 26..

ولادت مبارکہ کے ساتویں دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عقیقہ کی رسم ادا کی گئی.. اس موقع پر حضرت عبدالمطلب نے قریش مکہ کو دعوت دے کر شریک کیا.. دوران مجلس قریش مکہ میں سے کسی نے دریافت کیا.. "اے عبدالمطلب ! کیا آپ نے اپنے پوتے کا کوئی نام بھی رکھا ھے..؟"

حضرت عبدالمطلب نے فرمایا.. "ھاں میں نے اس کا نام "محمد" (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکھا ھے.."

یہ نام سن کر قریش مکہ نے بہت تعجب کا اظہار کیا کہ یہ کیسا نام ھے کیونکہ عرب کی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی کسی کا نام "محمد" نہ رکھا گیا تھا اس لیے قریش مکہ کی حیرت بجا تھی..

اس زمانہ میں دستور تھا کہ شھر کے رؤساء اور شرفاء اپنے شیرخوار بچوں کو اطراف کے دیہات اور قصبات میں بھیج دیتے تھے.. یہ رواج اس غرض سے تھا کہ بچے شھری ماحول سے دور ان دیہات اور قصبوں کے خالص بدوی ماحول میں پرورش پاکر نہ صرف خالص عربی زبان سیکھ سکیں اور اپنے اندر فصاحت و بلاغت کا جوھر پیدا کرسکیں بلکہ وھاں چند سال رہ کر عربوں کی خالص خصوصیات بھی اپنے لاشعور میں سمو سکیں..

شرفاء عرب نے مدتوں اس رسم کو محفوظ رکھا.. یہاں تک کہ بنو امیہ نے دمشق میں پایہ تخت قائم کیا اور شاھانہ شان و شوکت میں کسری' و قیصر کی ھمسری کی.. تاھم ان کے بچے حسب معمول صحراؤں میں بدوؤں کے گھر ھی پرورش پاتے رھے لیکن خلیفہ "ولید بن عبدالملک" جب کچھ خاص اسباب کی وجہ سے وھاں نہ جا سکا اور حرم شاھی ھی پلا تو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ عربی کی فصاحت و بلاغت سے محروم ھوگیا اور بنوامیہ میں وہ واحد خلیفہ تھا جسے فصیح و بلیغ عربی صحیح طرح سے بولنا نہیں آتی تھی..

غرض اس دستور مذکورہ کی خاطر اطراف کے دیہات و قصبات سے عورتیں سال میں دو مرتبہ شھروں کا رخ کرتی تھیں جہاں شھر کے شرفاء اور رؤساء اپنے بچے ان کے حوالے کردیتے اور ساتھ میں معاوضہ کے طور پر ان عورتوں کو اتنا کچھ روپیا پیسہ مل جاتا کہ ان کی زندگی بھی آرام سے گزرتی..

اسی دستور کے موافق آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش مبارکہ کے چند روز بعد قبیلہ بنو ھوازن کی چند عورتیں شیرخوار بچوں کی تلاش میں مکہ آئیں.. ان میں سے ایک حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں.. اتفاق سے باقی سب عورتیں تو بچے حاصل کرنے میں کامیاب رھیں مگر حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا بوجوہ بچہ حاصل کرنے میں ناکام رھیں..

اب وہ کیوں ناکام رھیں اور پھر کیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچیں , اس کے متعلق کتب تاریخ میں حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کی زبانی بیان کیے گئے نہائت ھی دلچسپ واقعات کا ذکر کیا گیا ھے.. چونکہ یہ واقعات تفصیل سے بیان کرنے کی ضرورت ھے اور یہاں قسط کی غیرضروری طوالت کا خطرہ ھے تو ان شاء اللہ یہ سب دلچسپ واقعات اور پھر حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں پیش آنے والے عجیب و غریب معجزات کا ذکر آئندہ قسط میں کیا جاۓ گا..

===========>جاری ھے..

Tuesday, October 9, 2018

سیرت النبیﷺ ۔۔۔ قسط: 25

*سیرت النبیﷺ ۔۔۔ قسط: 25*

*آپ ﷺ کی ولادت کے بعد کے واقعات:*

روایات کے مطابق جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیدا ہوۓ تو فوراً حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا کو اس خوشخبری کی اطلاع حضرت عبدالمطلب کو دینے کے لیے بھیجا گیا، حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا حضرت عبداللہ کی کنیز تھیں، ان کا اصل نام برکہ تھا، ان کی شادی بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے غلام حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے کردی تھی جن سے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے۔

حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا خوشی کے مارے دوڑتی ہوئی حضرت عبدالمطلب کے پاس پہنچیں اور انہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش کی خوشخبری دی، حضرت عبدالمطلب جو اس وقت حرم کعبہ میں موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش کا سن کر وہ بےحد مسرور ہوئے اور حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا کے ساتھ فوراً گھر پہنچے۔ وہاں "ننھے حضور" صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن و جمال کو دیکھ کر ششدر رہ گئے اور پھر اپنے جذبات کا اظہار چند اشعار میں بیان کیا، جن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن و جمال کو "غلمان" کے حسن و جمال سے برتر بتایا، پھر خدا کا شکر ادا کیا کہ اس نے آپ کو حضرت عبداللہ کا نعم البدل عطا فرمایا۔

(یاد رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والد حضرت عبداللہ، دادا حضرت عبدالمطلب اور پردادا حضرت ہاشم تینوں ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح نہایت خوبصورت اور مردانہ وجاہت کا پیکر تھے)

بیہقی مختلف حوالوں سے جن میں حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں، بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مختون یعنی ختنہ شدہ پیدا ہوۓ تھے جس پر حضرت عبدالمطلب نے بہت مسرت آمیز حیرت کا اظہار فرمایا۔

بیہقی نے ہی مختلف حوالوں سے یہ بھی بیان کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش کے بعد حضرت عبدالمطلب نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے گھر کی عورتوں کے سپرد کردیا، وہ ہر صبح کو حضرت عبدالمطلب کو بتاتیں کہ انہوں نے ایسا بچہ کبھی نہیں دیکھا، وہ بتاتیں کہ نومولود یعنی ننھے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح کو ہمیشہ بیدار ہی نظر آتے ہیں اور آنکھیں کھولے ٹکٹکی باندھے آسمان کو تکتے رہتے ہیں، اس پر حضرت عبدالمطلب خوشی کا اظہار فرماتے کہ انہیں امید ہے کہ ان کا پوتا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بڑی شان والا ہوگا۔

شروع کے چند دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ نے دودھ پلایا،  دو تین دن بعد آپ کو دودھ پلانے کا شرف حضرت ثوبیہ رضی اللہ عنہا کو نصیب ہوا، حضرت ثوبیہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا "ابو لہب" کی کنیز تھیں، ابو لہب نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی میں انھیں آزاد کر دیا، حضرت ثوبیہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہم عمر چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو بھی دودھ پلایا تھا، ان کے علاوہ چند اور عورتوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دودھ پلایا۔

افسوس کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش پر خوشیاں منانے والا ابو لہب بعدازاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک بدترین مخالف بن کر سامنے آیا اور وہ اور اس کی بیوی "ام جمیل" ساری زندگی اسلام مخالف سرگرمیوں میں مصروف رہے۔

ابولہب شروع اسلام میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شاید سب سے بڑا مخالف تھا، غالباً یہی وہ شخص ہے جس نے تب قریش مکہ کو بدراہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بربادی کی بدعائیں دیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوہ صفا پر اپنی ساری قوم کو اکٹھا کرکے توحید کی دعوت دی، اس کی بیوی ام جمیل کی سیاہ کاریوں میں ایک یہ سیاہ عمل بھی شامل تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جن راستوں سے گزرنے والے ہوتے یہ ان راستوں پر کانٹے بچھا دیتی، ان دونوں کی مذمت میں ایک پوری سورہ نازل ہوئی جس کا نام اسی بدبخت کے نام پر سورہ ابی لہب ہے، اس کا تفصیلی ذکر آگے آۓ گا۔

==================> جاری ہے ۔۔۔

Sunday, October 7, 2018

سیرت النبیﷺ ۔۔۔ قسط: 24

*سیرت النبیﷺ ۔۔۔ قسط: 24

*کفرو شرک کے ایوان لرز اٹھے:* 

سابقہ قسط میں حضرت عبداللہ بن عبدالمطلب کی وفات اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت مبارکہ کے وقت پیش آنے والے چند غیر معمولی واقعات بیان کیے گئے.. اس قسط میں ایسا ہی ایک غیر معمولی واقعہ جو شہنشاہ ایران کے محل میں پیش آیا، بیان کیا جاۓ گا۔

حافظ ابوبکر محمد بن جعفر بن سہل الخرائطی اپنی کتاب "ھواتف الجان" میں مختلف حوالوں سے بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت مبارکہ کے وقت ایران کے مشہور بادشاہ "نوشیرواں" کے ایوان میں سخت زلزلہ آیا اور اس کے ایوان کے چودہ کنگرے (گنبد) ٹوٹ کر گرپڑے۔

اگر بات یہاں تک ہی محدود رہتی تو اسے ایک حادثہ سمجھ کر توجہ کے قابل نہ سمجھا جاتا، مگر اس زلزلہ کے ساتھ چند اور بہت ہی غیر معمولی اور چونکا دینے والی باتیں بھی ظہور پزیر ہوئیں، جن میں ایک یہ تھی کہ شاہی آتشکدے میں پچھلے ہزار سال سے روشن آگ بھی بنا کسی وجہ کے ٹھنڈی پڑگئی، ایک ہزار سال میں ایسا کبھی نہ ہوا تھا کہ اس مقدس آتشکدے کی آگ بجھی ہو۔ دوسری طرف بحیرہ ساوہ بھی حیران کن طور پر جوش (کھا کر ابلنے) والا ہوگیا۔

نوشیرواں یہ تمام واقعات دیکھ کر چونک گیا، اس نے اپنے مشیر "موبذان" کو بلا کر یہ سب واقعات سناۓ اور اس کی راۓ طلب کی۔

موبذان نے نوشیرواں کو بتایا کہ کل رات اس نے بھی ایک عجیب خواب دیکھا ہے کہ عرب کی طرف سے انسانوں کے غول کے غول اونٹوں پر سوار فارس (ایران) کی طرف امڈے آرہے ہیں اور انہوں نے دریاۓ دجلہ کو بھی عبور کرلیا ہے۔

نوشیرواں جو پہلے ہی ان واقعات کی وجہ سے گہری سوچ میں تھا، یہ خواب سن کر پریشان ہوگیا،  اس نے موبذان سے اس خواب کی تعبیر پوچھی۔

موبذان نے جواب میں کہا کہ چونکہ یہ سارے واقعات اور پھر یہ خواب معمولی نہیں ہیں تو بہتر ہے کہ ان کی ٹھیک ٹھیک تعبیر جاننے کے لیے کسی عالم سے رابطہ کرلینا چاہئے، چنانچہ نوشیرواں نے موبذان کے مشورہ پر ایک خط لکھ کر یمن میں اپنے نائب السلطنت حاکم "نعمان بن منذر" کو بھیجا اور اسے حکم دیا کہ وہ فوراً اس کی خدمت میں حاضر ہو اور اپنے ساتھ کسی ایسے شخص کو لائے جو بڑا عالم ہو اور نوشیرواں کے تمام سوالوں کے جواب دے سکے۔

کسریٰ ایران (ایران کے بادشاہ کا لقب کسریٰ ہوتا تھا، جیسے روم کے حکمران "قیصر" اور مصر کے حکمران "فرعون" کہلاتے تھے) کا یہ شاہی فرمان ملتے ہی نعمان بن منذر فورا" نوشیرواں کی خدمت میں حاضر ہوگیا اور کسریٰ کے حسب الحکم ایک بہت بڑے عیسائی عالم شخص "عبدالمسیح بن عمرو بن حیان بن نفیلہ غسانی" کو بھی ساتھ لے آیا۔

نوشیرواں نے عبدالمسیح بن عمرو کو تمام واقعات اور موبذان کا خواب سنایا اور پھر ان کی تعبیر پوچھی۔ عبدالمسیح بن عمرو نے جواب دیا کہ اگر حضور چاہیں تو ان واقعات اور خواب کے بارے میں اپنا خیال ظاہر کرسکتا ہوں، لیکن میری گزارش ہے کہ اس کے بارے میں میرے ماموں "سطیح" سے جو شام میں قیصر روم کی طرف سے نائب السلطنت ہیں، دریافت کیا جاۓ کیونکہ وہ مجھ سے کہیں زیادہ علم والے ہیں اور کہانت کے فن میں بھی طاق ہیں اور اس بارے میں مجھ سے بہتر بتاسکتے ہیں۔

نوشیرواں کو عبدالمسیح کی بات پسند آئی اور اس نے اپنے کچھ آدمی اس کے ساتھ کرکے اسے اس کے ماموں سطیح کے پاس شام بھیج دیا۔

عبدالمسیح بن عمرو شام کے دارالحکومت دمشق اپنے ماموں سطیح کے دربار میں پہنچا جہاں وہ اپنی زریں مسند پر بڑی تمکنت سے بیٹھا تھا، عبدالمسیح نے اسے سارے واقعات اور خواب سنا کر کہا کہ وہ شہنشاہ فارس نوشیرواں کی طرف سے آیا ہے اور نوشیرواں کی خواہش پر ان کی تعبیر جاننا چاہتا ہے۔

عبدالمسیح کی باتیں سن کر سطیح چپ ہو گیا اور کسی نہایت گہری سوچ میں ڈوب گیا، عبدالمسیح نے جب کوئی جواب نہ پایا تو یہ سمجھ کر کہ سطیح نے اس کی بات کو کوئی اہمیت نہیں دی ہے،  شکایتاً چند اشعار پڑھے، جن میں سطیح کے عدم التفات کا گلہ کیا۔

سطیح اشعار سن کر اپنے استغراق سے باہر آیا اور کہا: "جو واقعات تم نے بیان کیے ہیں، اگر وہ صحیح ہیں اور جو خواب موبذان نے دیکھا ہے وہ اس نے صحیح طور پر بیان کیا ہے تو سمجھ لو کہ ایک دن نہ صرف کسریٰ ایران کے ہاتھ سے سلطنت چھن جاۓ گی، بلکہ یہ شام جس پر میں آج کل قیصرروم کی طرف سے حاکم بنا بیٹھا ہوں، یہ بھی انہی عرب ناقہ (اونٹ) سواروں کے قبضے میں چلا جاۓ گا، جنہیں موبذان نے خواب میں دریاۓ دجلہ عبور کرتے دیکھا ہے۔"

جب عبدالمسیح نے اپنے ماموں سطیح کا جواب نوشیرواں کو فارس واپس آ کر سنایا تو نوشیرواں نے کہا کہ ابھی تو میری اولاد میں کئی پشتوں تک حکمرانی چلے گی، اس کے بعد جو ہوگا دیکھا جاۓ گا۔

بہرکیف! تاریخ بتاتی ہے کہ کچھ عرصہ بعد سطیح کی پیشگوئی حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مقدسہ کے آخری آیام سے فارس و روم کے خلاف جو فوج کشی شروع ہوئی وہ بلآخر تیسرے خلیفہ راشد امیرالمومنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی' عنہ کے عہد میں

سیرت النبیﷺ ۔۔۔ قسط: 23

  *سیرت النبیﷺ ۔۔۔ قسط: 23*

*آپ ﷺ کی ولادت کے وقت یہودی مذہبی پیشواؤں کی پیشگوئیاں:* 

حافظ ابو نعیم اپنی کتاب "دلائل النبوۃ" میں عبدالرحمان بن ابی سعید کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ ایک روز عبدالرحمان ابی سعید بنی اشہل میں ٹھہرے ہوۓ تھے، انہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت مبارکہ کی کوئی خبر نہ تھی، مگر اگلے روز جب وہ اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ قبیلہ حرب میں مقام ھدنہ پہنچے تو انہوں نے یوشع نام کے ایک یہودی عالم کو کہتے سنا.. "میں دیکھ رہا ہوں کہ "احمد" نام کا ایک نبی مکہ میں پیدا ہونے والا ہے۔"

یہ سن کر بنی اشہل کے ایک شخص خلیفہ بن ثعلبہ اشہلی نے یوشع سے کہا.. "تو مذاق تو نہیں کر رہا؟ اچھا بتا کہ اس نبی کے اوصاف کیا ہوں گے؟"

یوشع بولا: "اس کا ظہور حرم کی طرف سے ہوگا، اس کا قد نہ چھوٹا ہوگا نہ بہت طویل۔ اس کی آنکھوں میں سرخ ڈورے ہوں گے، لباس کے ساتھ اس کے سر پر عمامہ ہوگا۔"

جب خلیفہ بن ثعلبہ اشہلی نے اپنے قبیلے میں واپس جاکر یوشع یہودی کی زبان سے سنی ہوئی یہ باتیں سنائیں تو اس کے قبیلے والے یک زبان ہوکر بولے.. "تم ایک یوشع کی بات کرتے ہو.. کل سے یثرب (مدینہ) کے تمام یہودی یہی باتیں کررہے ہیں۔"

اس کے علاوہ مالک بن سنان بتاتے ہیں کہ وہ اس روز اپنے گھر سے اتفاقا" قبیلہ بنو قریظہ (یہودی قبیلہ) میں چلے گئے، انہوں نے وہاں دیکھا کہ بہت سے لوگ اکٹھے ہیں اور ان کا ایک عالم " زبیر بن باطا" کہہ رہا ہے: 

"آسمان پر ایک سرخ ستارہ نمودار ہوا ہے اور ایسا ستارہ صرف اس وقت نمودار ہوتا ہے جب کہیں کوئی نبی پیدا ہوتا ہے، آج جو نبی پیدا ہوا ہے اس کا نام احمد ہے جو آخری نبی کا نام ہے اور وہ ہجرت کرکے یہیں آۓ گا۔"

یاد رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق تمام مذاہب کی مذہبی کتابوں میں پیش گوئیاں موجود ہیں، جن کے مطابق آپ کا نام مبارک تورات و انجیل میں "احمد" آیا ہے۔

جب مدت بعد کسی شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زبیر بن باطا کی یہ باتیں بیان کیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "اگر زبیر بن باطا اپنی زندگی میں مسلمان ہوجاتا تو اس کی ساری قوم ایمان لے آتی، کیونکہ وہ بھی اس کا اتباع کرتی۔"

ابو نعیم چند دوسرے ثقہ راویوں اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے حوالے سے کہتے ہیں کہ بنو قریظہ اور بنو نضیر کے یہودیوں کا کہنا تھا کہ سرخ ستارہ صرف دنیا کے آخری نبی کی ولادت پر طلوع ہوگا، اس کا نام احمد ہوگا اور وہ ہجرت کرکے یثرب (مدینہ) آۓ گا، ہمارے لیے اس کی اطاعت لازم ہے۔

مگر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ تشریف لے گئے تو وہی یہودی جو اپنی مذہبی کتابوں کی پیشگوئیوں پر کہ ان کا نجات دہندہ نبی عرب میں ظہور پزیر ہوگا اور وہ فلسطین سے اسی انتظار میں یہاں مدینہ آباد ہوگئے تھے، صرف اس حسد کی بنا پر کہ نبی آخرالزماں ان کی قوم بنی اسرائیل کے بجاۓ بنی اسماعیل میں کیوں پیدا ہوا‌، نہ صرف اپنے قول سے پھر گئے،  بلکہ جانتے بوجھتے اپنے کفر پر بھی قائم رہے۔

ان واقعات کے علاوہ چند اور عجیب ترین واقعات ولادت مبارکہ کے وقت شہنشاہ ایران "کسر'ی" کے محل میں پیش آۓ جب وہاں زلزلہ آیا اور نہ صرف محل کے چودہ کنگرے گرگئے، بلکہ ایک ہزار سال سے روشن شاہی آتش کدے کی آگ بھی یکدم بجھ گئی، جبکہ بحیرہ ساوہ جوش کھا کر خشک ہوگیا.. یہ تمام واقعات اگلی قسط میں بیان کیے جائیں گے..

==================> جاری ہے ۔۔۔

سیرت النبیﷺ ۔۔۔ قسط:22

* سیرت النبیﷺ ۔۔۔ قسط:22

*آفتاب ہدایت کی شعاعیں ہرطرف پھیل گئیں:*

یہاں ان چند محیر العقول واقعات (جن کی اسنادی حیثیت کمزور ہے) کا ذکر ضروری ہے جو آپ کی ولادت مبارکہ سے کچھ پہلے اور وقت ولادت پیش آۓ، اس ضمن میں ایک وہ واقعہ ہے جب نیم بیداری کے عالم میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش سے کچھ پہلے حضرت آمنہ درد زہ میں مبتلا تھیں۔

آپ فرماتی ہیں کہ ان کے جسم سے ایک نور نکلا جس نے تمام مشرق و مغرب کو روشن کردیا، اس کے ساتھ ہی انہیں وضع حمل کی تکلیف سے نجات مل گئی، اس کے بعد وہ نور سمٹ کر ان کے قریب آیا اور انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے اس مجسم نور نے زمین سے ایک مٹھی مٹی اٹھا کر ان کی طرف بڑھائی جو حضرت آمنہ نے اپنے ہاتھ میں لے لی اور اس کے بعد اس نور نے اپنا رخ آسمان کی طرف کرلیا۔

حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کی والدہ فرماتی ہیں کہ حضرت آمنہ کے وضع حمل کے وقت وہ وہاں موجود تھیں اور انہوں نے وہاں سواۓ نور کے کچھ اور نہ دیکھا اور باہر ستارے زمین کے اس قدر نزدیک آ گئے تھے کہ گویا زمین پر گرنے والے ہوں۔

حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کی والدہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے وقت قابلہ (دائی) کی خدمات سرانجام دے رہی تھیں، ان کا بیان ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی والدہ کے بطن سے ان کے ہاتھ میں آۓ تو نومولود کے جسم سے ایسا نور طلوع ہوا کہ جس سے سارا حجرہ اور اس کے درو دیوار چمک اٹھے۔

اس ضمن میں ایک یہودی کا واقعہ عجیب و غریب ہے۔ ہشام بن عروہ اپنے والد اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ طاہرہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی مکہ میں رہ کر تجارت کرتا تھا، جس روز آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت مبارکہ ہوئی اس روز اس نے ایک مجلس میں قریش سے پوچھا: "کیا تمہیں معلوم ہے کہ کل رات تمہاری قوم میں ایک عظیم الشان بچہ پیدا ہوا ہے۔؟"

وہ بولے: "نہیں تو" دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ حضرت آمنہ بنت وہب کے بطن سے حضرت عبدالمطلب کے بیٹے حضرت عبداللہ کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا ہے، اس یہودی نے قریش کے لوگوں سے کہا کہ تم مجھے وہاں چل کر وہ بچہ دکھاؤ۔

یہودی کی اس درخواست پر وہ لوگ اسے حضرت عبدالمطلب کے مکان تک لے گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس یہودی کے سامنے لایا گیا تو لوگوں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا روۓ مبارک چاند سے زیادہ روشن ہے، یہ نور نبوت تھا جس کے آثار اس نور کی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے اور پیشانی سے ظاہر ہورہے تھے۔ دوسری طرف جب یہودی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت کھول کر دیکھی اور اس کی نظر جب شانوں کے درمیان ایک مسّہ (مہر نبوت جس میں گھوڑے کے ایال کی طرح چند بالوں کی ایک قطار تھی) پر پڑی تو بے ہوش ہوکر گرگیا۔ جب اسے ہوش آیا تو قریش کے لوگوں نے اس سے پوچھا: "ارے تجھے کیا ہوا ؟"

وہ یہودی رو رو کر کہنے لگا: "آج ہم بنی اسرائیل سے نبوت کا سلسلہ تمھاری قوم میں منتقل ہوگیا.."

پھر جب اس کی طبیعت سنبھلی تو اس نے قریش کو اس نعمت کی مبارک دی اور کہا کہ تمھاری سطوت کی اب یہ خبر مشرق تا مغرب پھیل جاۓ گی۔

===========>جاری ھے..

Tuesday, September 25, 2018

سیرت النبیﷺ ۔۔۔ قسط 21.

*سیرت النبیﷺ ۔۔۔ قسط 21..*

*طلوع سحر:*
=========

حضرت عبداللہ کی شادی کے وقت عمر تقریبا" سترہ (17) یا بائیس (22) برس تھی.. عرب میں دستور تھا کہ دولہا شادی کے بعد تین ماہ تک اپنے سسرال میں رھائش پذیر رھتا.. چنانچہ حضرت عبداللہ بھی تین ماہ اپنے سسرال میں مقیم رھے.. بعد ازاں حضرت آمنہ کو لیکر مکہ اپنے گھر واپس آگئے..

اسلام سے پہلے دور جہالت میں باقائدہ نکاح کا کوئی عام رواج نہ تھا.. صرف خال خال ھی طبقہ اشرافیہ میں باقائدہ نکاح کیا جاتا ورنہ عام طور پر مرد و زن کے ازدواجی تعلقات زنا کی ھی صورت تھے.. اسلام کے بعد جن کے باقائدہ طریقے سے نکاح ھوۓ تھے ان کی شادیوں کو جائز اور صحیح سمجھا گیا اور ایسے جوڑوں کے اسلام لانے کے بعد ان کے قبل اسلام نکاحوں کو شریعت اسلامی کے مطابق درست قرار دیتے ھوۓ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے دوبارہ نکاح کی ضرورت نہیں سمجھی تھی.. ایسا ھی ایک صحیح اور باقائدہ نکاح حضرت عبداللہ اور حضرت آمنہ کا ھوا.. اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان مبارک ھے کہ "میری ولادت باقائدہ نکاح سے ھوئی.. نہ کہ (نعوذباللہ) زنا یا بدکاری سے.."

پہلے کی اقساط میں ذکر کیا جاچکا ھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پردادا حضرت ھاشم کے دور سے قریش مکہ کے تجارتی قافلے ایران و شام اور یمن و ھند تک جایا کرتے تھے تو ایسا ھی ایک تجارتی قافلہ لیکر حضرت عبداللہ بھی شام کی طرف گئے.. وھاں سے واپس مکہ کی طرف لوٹتے ھوۓ راستہ میں یثرب (مدینہ) کے قریب وہ شدید بیمار پڑگئے.. چنانچہ وہ مدینہ میں ھی اپنے ننھیال اپنے ماموؤں کے پاس ٹھہر گئے جبکہ ان کے ھمسفر مکہ واپس آگئے..

جب حضرت عبدالمطلب نے ان کے ساتھ اپنے چہیتے بیٹے کو نہ دیکھا تو ان سے حضرت عبداللہ کے بارے میں پوچھا.. انہوں نے جب حضرت عبدالمطلب کو حضرت عبداللہ کی بیماری کا بتایا تو حضرت عبدالمطلب بےحد پریشان ھوگئے.. فورا" اپنے سب سے بڑے بیٹے "حارث" کو یثرب حضرت عبداللہ کی خیریت معلوم کرنے بھیجا لیکن جب جناب حارث یثرب پہنچے تو ان کو یہ اندوھناک خبر ملی کہ حضرت عبداللہ بیماری کی تاب نہ لاکر وفات پا چکے ھیں اور ان کو "دارالغابغہ" میں دفن بھی کیا جاچکا ھے..

جناب حارث جب یہ المناک خبر لیکر مکہ واپس آۓ تو حضرت عبدالمطلب اپنے جان سے پیارے بیٹے کی جواں موت کا سن کر شدت غم سے بےھوش ھوگئے.. حضرت آمنہ پر اپنے محبوب شوھر کی موت کا سن کر سکتہ طاری ھوگیا.. دوسری طرف سب بہن بھائی اپنی اپنی جگہ اس دکھ کے ھاتھوں بے حال تھے.. خاندان بنو ھاشم پر ایک مجموعی سوگ کا عالم چھا گیا کیونکہ حضرت عبداللہ اپنے حسن و جمال , لیاقت , کردار اور نابغہ روزگار شخصیت کی وجہ سے سارے خاندان کی آنکھ کا تارہ تھے مگر یہ روشن ستارہ محض پچیس سال کی عمر میں ھی ڈوب گیا اور یوں تمام جہانوں کے لیے رحمت بننے والے اللہ کے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابھی شکم مادر میں ھی تھے کہ یتیم ھوگئے..

جواں سال اور چہیتے بیٹے کی وفات کا غم حضرت عبدالمطلب کے لیے اگر سوھان روح تھا تو دوسری طرف محبوب شوھر کی موت کا دکھ حضرت آمنہ کے لیے لمحہ لمحہ کرب و اذیت کا باعث تھا لیکن اللہ نے ان دونوں کو زیادہ عرصہ غمزدہ نہ رھنے دیا اور حضرت عبداللہ کی وفات سے چند ماہ بعد بروز سوموار 9 ربیع الاول بمطابق 20 اپریل 571 ء کو حضرت آمنہ کے ھاں اللہ کے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیدا ھوۓ..

ایک کنیز کو فورا" حضرت عبدالمطلب کی طرف بھیجا گیا جو خوشی کے مارے دوڑتی ھوئی حضرت عبدالمطلب کے پاس پہنچی جو اس وقت (غالبا") حرم شریف میں موجود تھے.. اتنی بڑی خوش خبری کو سن کر حضرت عبدالمطلب فورا" گھر پہنچے اور جب انہوں نے "ننھے حضور" کو دیکھا تو اپنی جگہ کھڑے کے کھڑے رہ گئے اور پھر اپنے جذبات کا اظہار چند اشعار میں بیان کیا جن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن و جمال کو "غلمان" کے حسن و جمال سے برتر بتایا.. پھر خدا کا شکر ادا کیا کہ اس نے آپ کو حضرت عبداللہ کا نعم البدل عطا فرمایا..

===========>جاری ھے.. 

سیرت النبیﷺ ۔۔۔ قسط 19.

*سیرت النبیﷺ ۔۔۔ قسط 19..*

*حضورﷺ کی پیدائش اور دو اہم واقعات:* 
=============================

پچھلی قسط میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دادا حضرت عبدالمطلب کے بچپن اور پھر قریش مکہ کا سردار بننے کا ذکر کیا گیا.. اس قسط میں ان کی زندگی میں پیش آنے والے دو اھم تاریخی واقعات کا ذکر کیا جاۓ گا جن میں سے ایک واقعہ "عام الفیل" ھے.. جب یمن کا حکمران "ابرھہ بن اشرم" ایک لشکرجرار کے ساتھ خانہ کعبہ ڈھانے کی نیت سے مکہ پر چڑھ دوڑا تھا مگر اللہ نے چھوٹے چھوٹے پرندوں کے ذریعے اسے عبرت ناک انجام تک دوچار کیا.. (یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ سابقہ اقساط میں بیان ھوچکا ھے)

دوسرا اھم واقعہ چاہ زمزم کی ازسرنو کھدائی تھی.. دراصل مدتوں پہلے جب مکہ پر قبیلہ بنو جرھم قابض تھا تو چاہ زمزم پر ملکیتی جھگڑے کی وجہ سے اسے مٹی سے پاٹ دیا گیا اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ اس کنویں کا بظاھر نشان تک باقی نہ رھا..

حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے والد حضرت ابوطالب سے سن کر بیان فرماتے ھیں کہ ایک روز جب حضرت عبدالمطلب اپنے حجرے میں سوئے تو انہوں نے خواب دیکھا کہ انہیں زمزم کا کنواں کھودنے کا حکم دیا جارہا ہے اور خواب ہی میں انہیں اس کی جگہ بھی بتائی گئی جوکہ حرم کعبہ کے اندر عین اس جگہ تھی جہاں "اساف و نائلہ" کے بت نصب تھے..

جب حضرت عبدالمطلب نے قریش مکہ اور دوسرے قبائل مکہ کے آگے اس قصے کا ذکر کیا تو ان کی بات پر کسی نے یقین نہ کیا اور نہ ھی کھدائی کے اس کام میں ان کی کسی نے مدد کی.. اس وقت حضرت عبدالمطلب کے صرف ایک ھی بیٹے "حارث" تھے جن کے ساتھ مل کر اس جگہ کو کھودنا شروع کیا جہاں خواب کے ذریعے رھنمائی ھوئی تھی.. چار دن کے بعد پانی ظاھر ھو گیا اور زم زم کا کنواں مل گیا جس میں سے مسلسل پانی ملنے لگا جو آج تک جاری ھے..

چونکہ یہ کنواں بنیادی طور پر حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے قدموں سے جاری ھوا تھا اس لیے قریش کے باقی قبائل نے اس کی ملکیت میں حصہ دار بننا چاھا.. حضرت عبدالمطلب کا خیال تھا کہ زمزم اللہ نے ان کو عطا کیا ھے.. اس جھگڑے کو نمٹانے کے لیے عرب کے دستور کے مطابق کسی باعلم اور دانش مند شخص پر فیصلہ چھوڑا گیا.. قبائل کے مختلف نمائندے جن میں حضرت عبدالمطلب شامل تھے , شام کو روانہ ھوئے تاکہ وہاں کی ایک مشہور کاھنہ (روحانی علوم کی ماھر عورت) سے مشورہ کیا جائے.. اس کی وجہ یہ تھی کہ عرب لوگ کاھنوں کی بات کو اھمیت دیتے تھے..

یہ چھوٹا سا قافلہ ابھی مکہ سے کچھ ھی دور پہنچا تھا کہ سواۓ حضرت عبدالمطلب کے تمام لوگوں کے پاس موجود پانی ختم ھوگیا اور شدت پیاس سے سب مرنے والے ھوگئے.. باقی قبائل نے ان کو پانی دینے سے انکار کر دیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ ان کے ساتھیوں نے کچھ قبریں بھی کھود لیں تاکہ جو پہلے مر جائیں ان کو دوسرے دفنا دیں.. اگلے دن حضرت عبدالمطلب نے فیصلہ کیا کہ موت سے ڈرنے کی ضرورت نہیں اور سفر جاری رکھنا چاھئیے.. وہ اپنے اونٹ پر بیٹھنے لگے تو اونٹ کا پاؤں زمیں پر ایک جگہ زور سے پڑا اور کچھ زیر زمین پانی نظر آیا.. وہاں ایک چشمہ برآمد ھو گیا جس سے انہوں نے اور دوسرے تمام قبائل نے استفادہ کیا..

یہ کرشمہ قدرت دیکھ کر سب تسلیم کرنے پر مجبور ھوگئے کہ ضرور کوئی غیبی طاقت حضرت عبدالمطلب کے ساتھ ھے.. اس وقت دوسرے تمام قبائلی نمائندوں نے فیصلہ کیا کہ زم زم کے جھگڑے کا فیصلہ اللہ نے اسی جگہ حضرت عبدالمطلب کے حق میں یہ پانی جاری کرکے کیا ھے اس لیے واپس مکہ جایا جائے..

یہی موقع تھا جب حضرت عبدالمطلب نے نذرمانی کہ اگر اللہ نے انہیں دس لڑکے عطا کیے اور وہ سب کے سب اس عمر کو پہنچے کہ ان کا بچاؤ کر سکیں تو وہ ایک لڑکے کو کعبہ کے پاس قربان کردیں گے..

===========>جاری ھے..

سیرت النبیﷺ ۔۔۔ قسط 20

*سیرت النبیﷺ ۔۔۔ قسط 20..*

*حضرت عبداللہ اور حضرت آمنہ کی شادی..*
==============================

حضرت عبداللہ ابن عبدالمطلب 545ء میں پیدا ھوئے.. آپ کی والدہ کا نام فاطمہ بنت عمرو تھا.. آپ دینِ حنیف (دینِ ابراھیمی) پر قائم تھے اور ان کی بت پرستی اور کسی اخلاقی برائی (جو ان دنوں عرب میں عام تھیں) کی کوئی ایک روایت بھی نہیں ملتی.. حضرت عبدالمطلب نے منت مانی تھی کہ اگر ان کے دس بیٹے پیدا ھوۓ اور سب کے سب نوجوانی کی عمر کو پہنچ گئے تو وہ اپنا ایک بیٹا اللہ کی راہ میں قربان کردیں گے.. اس واقعہ کی تفصیل بھی پچھلی اقساط میں گزر چکی ھے لہذہ اس سے آگے کے واقعات کی طرف چلتے ھیں..

حضرت عبداللہ جب قربانی سے بچ نکلے تو حضرت عبدالمطلب نے ان کی شادی کا سوچا.. حضرت عبداللہ اپنے والد اور دادا کی طرح نہائت ھی حسین وجمیل اور وجیہہ انسان تھے.. مکہ کی کئی شریف زادیاں ان سے شادی کی خواھش مند تھیں مگر پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی والدہ محترمہ بننے کی سعادت حضرت آمنہ بنت وھب کی قسمت میں لکھی تھی..

ان شریف زادیوں کی اس خواھش کے پیچھے صرف حضرت عبداللہ کی ظاھری شخصیت ھی وجہ نہ تھی بلکہ اس کی اصل وجہ وہ نور نبوت تھا جو ان کی پیشانی میں چاند کی طرح چمکتا تھا.. ان عورتوں میں ایک عورت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کی چچا کی بیٹی اور مشہور "ورقہ بن نوفل" کی بہن "ام قتال" تھیں.. ان کے بھائی ورقہ بن نوفل انجیل و سابقہ صحائف آسمانی کے علوم کے ماھر تھے اور ان کی وجہ سے ام قتال جانتی تھیں کہ حضرت عبداللہ کی پیشانی میں چمکنے والا نور , نور نبوت ھے اور اسی لیے ان کی خواھش تھی کہ یہ نور ان کے بطن سے جنم لے..

دوسری عورت ایک کاھنہ "فاطمہ بنت مرالخثعمیہ" تھیں جنہوں نے اپنی روحانی استعداد سے جان لیا تھا کہ حضرت عبداللہ کی پیشانی میں جو نور دمکتا ھے وہ نور نبوت ھے اس لیے یہ بھی حضرت عبداللہ سے شادی کی خواھشمند تھیں تاھم حضرت عبدالمطلب کی نظر انتخاب حضرت آمنہ پر جاکر رکی جو قبیلہ زھرہ کے سردار "وھب بن عبد مناف بن زھرہ بن کلاب" کی بیٹی تھیں اور قریش کے تمام خاندانوں میں اپنی پاکیزگی اور نیک فطرت کے لحاظ سے ممتاز تھیں.. اس وقت وہ اپنے چچا "وھیب بن عبدمناف بن زھرہ" کے پاس مقیم تھیں..

حضرت عبدالمطلب وھیب کے پاس گئے اور حضرت عبداللہ کے لیے حضرت آمنہ کا رشتہ مانگا جسے قبول کرلیا گیا اور یوں حضرت عبداللہ اور حضرت آمنہ رشتہ ازدواج میں منسلک ھوگئے.. اس موقع پر خود حضرت عبدالمطلب نے بھی ایک کاھن کی کہنے پر وھیب بن عبدمناف کی بیٹی "ھالہ" سے شادی کرلی جن سے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ جیسے جری شیر پیدا ھوۓ.. حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ھونے کے ساتھ ساتھ ماں کے رشتے سے خالہ زاد بھائی بھی تھے کیونکہ جناب ھالہ اور حضرت آمنہ آپس میں چچازاد بہنیں بھی تھیں..

دوسری طرف جب اس شادی کا علم ام قتال اور فاطمہ بنت مرالخثعمیہ کو ھوا تو وہ بےحد رنجیدہ ھوئیں اور اس سعادت کو حاصل کرنے میں ناکامی پر رو پڑیں..

ان کا رونا واقعی میں حق بجانب تھا کہ نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی والدہ ھونے کا اعزاز ساری دنیا کی قیمت سے بڑھ کر تھا اور یہ اعزاز اللہ نے حضرت آمنہ کے نصیب میں لکھ دیا تھا..

===========>جاری ھے..

سیرت النبیﷺ ۔۔۔ قسط 15..

*سیرت النبیﷺ ۔۔۔ قسط 15..*

*ظہور اسلام سے قبل عربوں کے سیاسی حالات:*
=================================

پچھلی 2 اقساط میں عربوں کے معاشی اور معاشرتی حالات بیان کیے گئے.. اس قسط میں مختصرا" اس دور کے سیاسی حالات بیان کیے جارھے ھیں..

ظہور اسلام سے پہلے عرب قبائلی نظام میں تقسیم تھے اور سرزمین عرب کے ریگستانوں میں دانہ ھاۓ تسبیح کی طرح بکھرے ھوۓ تھے.. قبائل کا سیاسی نظام نیم جمہوری تھا.. قبیلہ کا ایک سردار مقرر ھوتا جس کی شجاعت , قابلیت اور فہم و فراست کے علاوہ سابقہ سردار سے قرابت داری کا بھی لحاظ رکھا جاتا.. تمام لوگ اپنے سردار کی اطاعت کرتے تاھم سردار قبیلہ کے بااثر لوگوں سے صلاح مشورہ بھی کرلیتا..

عرب قوم کیونکہ اکھڑ مزاج قوم تھی تو بعض اوقات کسی معمولی سی بات پر اگر دو مختلف قبیلے کے افراد میں جھگڑا ھوجاتا تو اسے پورے قبیلے کی انا کا مسلہ بنا لیا جاتا اور پھر مخالف قبیلے کے خلاف اعلان جنگ کردیا جاتا.. بسا اوقات یہ جنگیں مدتوں جاری رھتیں.. مثلا" بنو تغلب اور بنو بکر میں بسوس نامی ایک اونٹنی کو مار ڈالنے پر جنگ کا آغاز ھوا اور یہ جنگ پھر چالیس برس جاری رھی..

جب ھم جزیرہ نما عرب کے اطراف پر نظر ڈالتے ھیں تو ایک طرف روم کی عظیم بازنطینی سلطنت اور دوسری طرف ایران کی عظیم ساسانی سلطنت نظر آتی ھیں.. جزیرہ نما عرب کو ایک لحاظ سے ان دو عظیم ھمسایہ حکومتوں کے درمیان ایک "بفر سٹیٹ" کا درجہ حاصل تھا..

اھل عرب ان دو ھمسایہ سلطنتوں کو " اسدین غالب" (دو طاقتور غالب شیر) کہا کرتے تھے.. اس وقت یہ دنیا کی دو سب سے طاقتور ترین اقوام تھیں جو کئی صدیوں سے آپس میں برسر پیکار تھیں.. کبھی رومی ایرانیوں کو پامال کرتے ھوۓ شکست فاش سے دوچار کردیتے اور کبھی میدان جنگ میں ایرانیوں کی فتح کے طبل بجتے..

روم کی بازنطینی سلطنت کا حکمران "قیصر" کے لقب سے حکومت کرتا جبکہ ایران کی ساسانی سلطنت کا حکمران "کسری' " کہلاتے.. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں روم پر قیصر "ھرقل" کی حکومت تھی جبکہ ایران پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بچپن میں مشھور ایرانی بادشاہ "نوشیرواں" کی حکومت تھی جبکہ اس کے بعد "خسرو پرویز" ایران کا شہنشاہ بنا جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تبلیغی خط کو پھاڑنے کی گستاخی کی تھی..

یہاں میں عربوں کی تاریخ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت مبارکہ کے وقت سرزمین عرب کے عمومی حالات کا سلسلہ تمام کرتا ھوں.. ان شاء اللہ اگلی قسط سے سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا باقاعدہ آغاز ھوگا..

===========> جاری ھے..

سیرت النبیﷺ ۔۔۔ قسط 16..

*سیرت النبیﷺ ۔۔۔ قسط 16..*

*شجرہ نسب محمدرسول اللّٰہ ﷺ* 
=======================

شروع کی اقساط میں قریش مکہ کی تاریخ بیان کی گئی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آباء و اجداد کا مختصر ذکر بھی آیا.. اب ان کا دوبارہ تفصیلی ذکر کیا جارھا ھے..

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سلسلہ نسب بہت سی تاریخی شہادتوں اور حوالوں کے مطابق چالیس پشت بعد حضرت اسماعیل علیہ السلام سے جا ملتا ھے تاھم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمام تر بزرگوں کے ناموں کے متعلق مستند معلومات نہ ھونے کی وجہ سے آپ کا سلسلہ نسب حضرت "عدنان" تک جا کر روک دیا جاتا ھے.. حضرت عدنان حضرت اسماعیل علیہ السلام سے کوئی بیس پشت بعد پیدا ھوۓ.. انہی کے نام پر بنو اسماعیل کو بنو عدنان بھی کہا جاتا ھے.. حضرت عدنان تک آپ کا سلسلہ نسب کچھ یوں ھے..

حضرت محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بن عبداللہ بن عبدالمطلب (شَیْبَہ) بن ہاشم (عمرو ) بن عبد مناف (مغیرہ) بن قصی (زید) بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لُوی بن غالب بن فِہر بن مالک بن نضر (قیس) بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ (عامر ) بن الیاس بن مضر بن نِزار بن مَعَد بن عَدْنان..

ابن ہشام ۱/۱ , ۲ تاریخ الطبری ۲/۲۳۹-۲۷۱..

عدنان سے اوپر کے سلسلۂ نسب کی صحت پر اہل سِیر اور ماہرینِ انساب کا اختلاف ہے.. کسی نے توقف کیا ہے اور کوئی قائل ہے.. یہ عدنان سے اوپر ابراہیم علیہ السلام تک منتہی ہوتا ہے..

عدنان بن أد بن ہمیسع بن سلامان بن عوص بن یوز بن قموال بن أبی بن عوام بن ناشد بن حزا بن بلداس بن یدلاف بن طابخ بن جاحم بن ناحش بن ماخی بن عیض بن عبقر بن عبید بن الدعا بن حمدان بن سنبر بن یثربی بن یحزن بن یلحن بن أرعوی بن عیض بن ذیشان بن عیصر بن أفناد بن أیہام بن مقصر بن ناحث بن زارح بن سمی بن مزی بن عوضہ بن عرام بن قیدار بن اسماعیل علیہ السلام بن ابراہیم علیہ السلام..

طبقات ابن سعد ۱/۵۶،۵۷.. تاریخ طبری ۲/۲۷۲..

حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اوپر کے سلسلۂ نسب میں یقینا کچھ غلطیاں ہیں.. یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اوپر حضرت آدم علیہ السلام تک جاتا ہے..

حضرت ابراہیم علیہ السلام بن تارح (آزر ) بن ناخور بن ساروع (یاساروغ) بن راعو بن فالخ بن عابر بن شالخ بن ارفخشد بن سام بن نوح علیہ السلام بن لامک بن متوشلخ بن اخنوخ (کہا جاتا ہے کہ یہ ادریس علیہ السلام کا نام ہے) بن یرد بن مہلائیل بن قینان بن آنوشہ بن شیث علیہ السلام بن آدم علیہ السلام..

ابن ہشام ۱/۲-۴.. تاریخ طبری ۲/۲۷۶..

بعض ناموں کے متعلق ان مآخذ میں اختلاف بھی ہے اور بعض نام بعض مآخذ سے ساقط بھی ہیں..

===========> جاری ھے..

سیرت النبیﷺ ۔۔۔ قسط 17.

*سیرت النبیﷺ ۔۔۔ قسط 17..*

*تذکرۂ خانوادۂ نبی کریم ﷺ (حصہ اول)* 
============================

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خانوادہ اپنے جد اعلیٰ "ہاشم بن عبد مناف" کی نسبت سے خانوادۂ ہاشمی کے نام سے معروف ہے.. مناسب معلوم ہوتا ہے کہ خانوادۂ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض نام ور افراد کے مختصر حالات پیش کر دیے جائیں..

1.. قصی بن کلاب..
-----

قصی بن کلاب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پانچ پشت پہلے کے بزرگ ھیں.. دراصل یہ ھی قصی بن کلاب ھیں جنہوں نے نہ صرف بنو خزاعہ سے خانہ کعبہ کی تولیت کا حق واپس لیا بلکہ اپنی قوم بنی اسماعیل اور قبیلے بنی قریش کو منظم و متحد کرکے مکہ کو ایک باقائدہ ریاستی شھر کی شکل دی.. خانہ کعبہ کی تولیت ایک ایسا شرف تھا جس کی وجہ سے قصی بن کلاب اور ان کی آل اولاد کو نہ صرف مکہ بلکہ پورے جزیرہ نما عرب میں ایک خصوصی سیادت اور عزت و احترام کا درجہ حاصل ھوگیا اور قصی بن کلاب نے خود کو اس کا اھل ثابت بھی کیا..

قصی بن کلاب کو بلامبالغہ مکہ کی شھری ریاست کا مطلق العنان بادشاہ کا درجہ حاصل تھا.. انہوں نے نہ صرف خانہ کعبہ گرا کر نئے سرے سے اس کی تعمیر کرائی بلکہ پہلی دفعہ اس پر کجھور کے پتوں سے چھت بھی ڈالی.. اس کے علاوہ خانہ کعبہ کے جملہ انتظام کا جائزہ لے کر اس میں ضروری اصلاحات بھی کیں..

دوسری طرف خانہ کعبہ کے پاس ھی ایک عمارت تعمیر کرائی جسے "دارالندوہ" کا نام دیا گیا.. یہاں بنو اسماعیل اور مکہ کے دوسرے قبائل کے سرداروں اور عمائدین کے ساتھ ملکر مختلف امور کے متعلق بحث و تمحیث کے بعد فیصلے کیے جاتے.. قریش جب کوئی جلسہ یا جنگ کی تیاری کرتے تو اسی عمارت میں کرتے.. قافلے یہیں سے تیار ھو کر باھر جاتے.. نکاح اور دیگر تقریبات کے مراسم بھی یہیں ادا ھوتے..

اس کے علاوہ مختلف ریاستی امور نبٹانے کے لیے چھ مختلف شعبے قائم کیے اور ان کا انتظام اپنے بیٹوں میں تقسیم کردیا جسے ان کی وفات کے بعد ان کے پوتوں نے باھمی افہام و تفہیم سے چھ شعبوں سے بڑھا کر دس شعبوں میں تقسیم کرکے آپس میں بانٹ لیا..

2.. حضرت ھاشم بن عبد مناف..
--------------------

حضرت ھاشم بن عبد مناف قصی بن کلاب کے پوتے تھے.. جب عبد مناف اور بنو عبد الدار کے درمیان عہدوں کی تقسیم پر مصالحت ہوگئی تو عبدمناف کی اولاد میں حضرت ہاشم ہی کو سِقَایہ اور رِفادہ یعنی حجاج کرام کو پانی پلانے اور ان کی میزبانی کرنے کا منصب حاصل ہوا.. حضرت ہاشم بڑے مالدار اور نہایت ھی جلیل القدر بزرگ تھے.. ان کا اصل نام عمرو تھا.. چونکہ ان کے زمہ حاجیوں کے کھانے پینے کا انتظام بھی تھا تو وہ ان زائرین کی تواضع ایک خاص قسم کے عربی کھانے سے کرتے جسے "ھشم" کہا جاتا تھا.. (عربی زبان میں ھشم شوربہ میں روٹیاں چورا کرنے کو کہتے ھیں..) مکہ میں ایک سال قحط پڑا تو انہوں نے تمام اھل مکہ کے لیے یہی شوربہ تیار کرایا جس پر انہیں "ھاشم" کا لقب ملا اور تاریخ نے پھر انہیں اسی لقب سے یاد رکھا..

ان کی اولاد قریش کے معزز ترین قبیلہ بنو ھاشم کے نام سے مشھور ھے.. انہوں نے قریش کے تجارتی قافلے شروع کروائے اور ان کے لیے بازنطینی سلطنت کے ساتھ معاہدے کیے جن کے تحت قریش بازنطینی سلطنت کے تحت آنے والے ممالک میں بغیر محصول ادا کیے تجارت کر سکتے تھے اور تجارتی قافلے لے جا سکتے تھے.. یہی معاہدے وہ حبشہ کے بادشاہ کے ساتھ بھی کرنے میں کامیاب ھوئے جس کا تمام قریش کو بے انتہا فائدہ ھوا اور ان کے قافلے شام , حبشہ , ترکی اور یمن میں جانے لگے..

ایک بار تجارت کی غرض سے شام گئے.. دوران سفر یثرب (جس کا نام بعد میں مدینہ یا مدینۃ الرسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ھوا..) میں ٹھہرے.. وھاں قبیلہ بنی نجار کی ایک خاتون "سَلْمیٰ بنت عَمْرو" سے شادی کرلی اور کچھ دن وہیں ٹھہرے رہے.. پھر بیوی کو حالتِ حمل میں میکے ہی میں چھوڑ کر ملک شام روانہ ہوگئے.. غالبا" ان کا ارادہ تھا کہ واپسی پر ان کو مدینہ سے مکہ لے جائیں گے مگر شادی سے چند ماہ بعد دوران سفر ھی ان کا انتقال فلسطین کے علاقے غزہ میں ھو گیا..

===========>جاری ھے..

سیرت النبیﷺ ۔۔۔ قسط 18

*سيرت النبي صلي الله عليه وسلم..قسط 18..*

*تذکرۂ خانوادۂ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم.. (حصہ دوم)*
------------------------------------

3.. حضرت عبد المطلب..
---

پچھلی قسط میں حضرت ہاشم کے سفر شام , یثرب میں نکاح اور پھر فلسطین میں وفات کا ذکر کیا گیا.. ان کی وفات کے بعد 497ء میں ان کی زوجہ سلمی' سے ایک بیٹا پیدا ھوا.. چونکہ بچے کے سر کے بالوں میں سفیدی تھی اس لیے جناب سلمیٰ نے اس کا نام "شَیْبہ" رکھا اور یثرب میں اپنے میکے ہی کے اندر اس کی پرورش کی.. آگے چل کر یہی بچہ "عبد المُطَّلِبْ" کے نام سے مشہور ہوا.. عرصے تک خاندانِ ہاشم کے کسی آدمی کو اس کے وجود کا علم نہ ہوسکا..

سِقَایہ اور رِفادہ کا منصب ہاشم کے بعد ان کے بھائی مطلب کو ملا.. یہ بھی اپنی قوم میں بڑی خوبی واعزاز کے مالک تھے.. ان کی سخاوت کے سبب قریش نے ان کا لقب "فیاض" رکھ چھوڑا تھا.. جب شیبہ یعنی عبدالمطلب سات یا آٹھ برس کے ہوگئے تو مطلب کو ان کا علم ہوا اور وہ انہیں لینے کے لیے روانہ ہوئے.. جب یثرب کے قریب پہنچے اور شیبہ پر نظر پڑی تو اشک بار ہوگئے.. انہیں سینے سے لگا لیا اور پھر اپنی سواری پر پیچھے بٹھا کر مکہ کے لیے روانہ ہوگئے مگر شیبہ نے ماں کی اجازت کے بغیر ساتھ جانے سے انکار کردیا.. اس لیے مطلب ان کی ماں سے اجازت کے طالب ہوئے.. آخر ماں نے اجازت دے دی اور مُطَّلِب انہیں اپنے اونٹ پر بٹھا کر مکہ لے آئے.. مکے والوں نے دیکھا تو کہا "یہ عبدالمطب ہے" یعنی مُطَّلب کا غلام ہے.. مطلب نے کہا "نہیں نہیں __ یہ میرا بھتیجا یعنی میرے بھائی ہاشم کا لڑکا ہے".. پھر شَیبہ نے مطلب کے پاس پرورش پائی اور جوان ہوئے..

مکہ آنے کے کچھ عرصہ بعد ھی مطلب بن عبد مناف کی وفات یمن کے سفر میں ھو گئی تو ان کے چھوڑے ہوئے مناصب عبدالمطلب کو حاصل ہوئے.. سرداری اور کعبہ کے زائرین کی خدمت پر , جو مطلب بن عبد مناف نے حضرت عبد المطلب کے سپرد کی تھی , نوفل بن عبد مناف نے قبضہ کرنا چاھا.. حضرت عبد المطلب نے قریش کی مدد طلب کی مگر شنوائی نہ ھوئی.. اس کے بعد حضرت عبد المطلب نے اپنے ماموں ابو سعد (ان کا تعلق بنو نجار سے تھا..) کی مدد طلب کی جو 80 گھڑ سواروں کے ساتھ ان کی مدد کے لیے آئے.. انہوں نے نوفل بن عبد مناف سے کہا کہ "اے نوفل ! اگر تو نے عبد المطلب سے چھینا جانے والا حق انہیں واپس نہ کیا تو میں تلوار سے تمہاری گردن اڑا دوں گا.."

اس پر نوفل نے ان کی بات مان لی.. اس بات پر قریش کے معززین کو گواہ بنایا گیا مگر جب حضرت عبد المطلب کے ماموں واپس مدینہ چلے گئے تو نوفل بن عبد مناف نے عبد شمس بن عبد مناف (بنو امیہ ان کی نسل سے ھیں) اور اس کی اولاد کے ساتھ ایک معاہدہ کیا اور حضرت عبد المطلب کے خلاف تحریک شروع کی.. بنو خزاعہ نے بنو ھاشم کا ساتھ دیا اور بیت الندوہ میں بنو ھاشم سے ان کا ساتھ دینے کا عہد کیا.. اس طرح قریش کی سرداری حضرت عبد المطلب کے پاس ھی رھی..

حضرت عبدالمطلب نے اپنی قوم میں اس قدر شرف واعزاز حاصل کیا کہ ان کے آباء واجداد میں بھی کوئی اس مقام کو نہ پہنچ سکا تھا.. قوم نے انہیں دل سے چاہا اور ان کی بڑی عزت و قدر کی..

4.. حضرت عبداللہ.. (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والد محترم)
---------------------------------------------

حضرت عبدالمطلب کے کل دس بیٹے اور چھ بیٹیاں تھے جن کے نام یہ ہیں..

حارث , زبیر , ابوطالب , عبداللہ , حمزہ (رضی اللہ عنہ), ابولہب , غَیْدَاق , مقوم , صفار اور عباس (رضی اللہ عنہ)..

ام الحکیم (ان کا نام بیضاء ہے) بَرّہ , عَاتِکہ , اَروی ٰ, اُمَیْمَہ اور صفیہ (رضی اللہ عنہا)..

حضرت عبداللہ کی والدہ کا نام فاطمہ تھا اور وہ عمرو بن عائذ بن عمران بن مخزوم بن یقظہ بن مرہ کی صاحبزادی تھیں.. عبدالمطلب کی اوّلاد میں عبداللہ سب سے زیادہ خوبصورت , پاک دامن اور چہیتے تھے اور ذبیح کہلاتے تھے.. ذبیح کہلانے کی وجہ یہ تھی کہ حضرت عبدالمطلب کو بہت خواھش تھی کہ وہ کثیر اولاد والے ھوں چنانچہ انہوں نے منت مانی کہ اگر اللہ ان کو دس بیٹے عطا کرے گا اور وہ سب نوجوانی کی عمر تک پہنچ گئے تو وہ اپنا ایک بیٹا اللہ کی راہ میں قربان کردیں گے.. اللہ نے ان کی دعا کو شرف قبولیت بخشا اور ان کے دس بیٹے پیدا ھوئے.. دس بیٹوں کی پیدائش کے بعد جب تمام کے تمام نوجوانی کی عمر کو پہنچے تو حضرت عبدالمطلب کو اپنی منت یاد آئی.. چنانچہ وہ اپنے سب بیٹوں کو لیکر حرم کعبہ میں پہنچ گئے.. جب عربوں کے مخصوص طریقے سے قرعہ اندازی کی گئی تو قرعہ حضرت عبداللہ کے نام نکلا.. چنانچہ حضرت عبدالمطلب حضرت عبداللہ کو لیکر قربان گاہ کی طرف بڑھے..

یہ دیکھ کر خاندان بنو ھاشم کے افراد جن کو حضرت عبداللہ سے بہت لگاؤ تھا' بہت پریشان ھوۓ.. وہ حضرت عبدالمطلب کے پاس آۓ اور انہیں اس سلسلے میں یثرب (مدینہ) کی ایک کاھنہ عورت سے مشورہ کرنے کو کہا.. چنانچہ جب اس کاھنہ عورت سے رابطہ کیا گیا تو اس نے اس کا حل یہ نکالا کہ حضرت عبداللہ کی جگہ خون بہا ادا کیا جاۓ.. عربوں کے دیت (خون بہا) میں دس اونٹ دیے جاتے ھیں تو حضرت عبداللہ کے ساتھ دس دس اونٹوں کی قرعہ اندازی کی جاۓ اور یہ قرعہ اندازی تب تک جاری رکھی جاۓ جب تک قربانی کا قرعہ اونٹوں کے نام نہیں نکلتا.. چنانچہ ایسے ھی کیا گیا اور بالآخر دسویں بار قرعہ حضرت عبداللہ کے بجاۓ اونٹوں پر نکلا.. اس طرح ان کی جگہ سو اونٹوں کو قربان کیا گیا..

حضرت عبداللہ کی شادی حضرت آمنہ سے ھوئی جو وہب بن عبد مناف بن زہرہ بن کلاب کی صاحبزادی تھیں اور نسب و رتبے کے لحاظ سے قریش کی افضل ترین خاتون شمار ہوتی تھیں.. ان کے والد نسب اور شرف دونوں حیثیت سے بنو زہرہ کے سردار تھے.. وہ مکہ ہی میں رخصت ہو کر حضرت عبداللہ کے پاس آئیں مگر تھوڑے عرصے بعد حضرت عبداللہ کو حضرت عبدالمطلب نے کھجور لانے کے لیے مدینہ بھیجا اور وہ وہیں انتقال کر گئے..

بعض اہل سِیر کہتے ہیں کہ وہ تجارت کے لیے ملک شام تشریف لے گئے تھے.. قریش کے ایک قافلے کے ہمراہ واپس آتے ہوئے بیمار ہو کر مدینہ اترے اور وہیں انتقال کر گئے.. تدفین نابغہ جَعدی کے مکان میں ہوئی.. اس وقت ان کی عمر پچیس برس کی تھی.. اکثر مؤرخین کے بقول ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیدا نہیں ہوئے تھے.. البتہ بعض اہل سیر کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش ان کی وفات سے دو ماہ پہلے ہوچکی تھی..

===========>جاری ھے..

Monday, September 24, 2018

سیرت النبیﷺ ۔۔۔ قسط: 12


*سیرت النبیﷺ ۔۔۔ قسط: 12*

*آپ ﷺ کی ولادت کے وقت سرزمین عرب میں موجود باقی مذاہب اور ادیان کا مختصر سا جائزہ:* 

سابقہ اقساط میں مشرکین حجاز و عرب کے عقائد اور بت پرستی کی تاریخ اور مذھب یہودیت و عیسائیت کا تذکرہ کیا گیا، اس قسط میں ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت مبارکہ کے وقت سرزمین عرب میں موجود باقی مذاھب اور ادیان کا ایک مختصر جائزہ پیش کریں گے۔

*آتش پرست:* 

ایران و عراق کی سرحد کے پاس آباد عرب قبائل ایرانیوں کے مذھب آتش پرستی سے بہت متاثر ہوئے، اہل ایران کی طرح یہ بھی نیکی اور بدی کے دو الگ الگ خداؤں کے قائل تھے اور اہل ایران کی طرح آگ کو خدا کا ظہور مانتے اور اس کی پوجا کرتے تھے۔

*صائبی۔* 

عرب جاہلیت میں ایسے لوگ بھی تھے جن میں ستارہ پرستی کا چرچا تھا اور یہ ستاروں کی پوجا کرتے تھے، غالباً ان کا مذہب وادی دجلہ و فرات کی قدیم تہذیبوں کی باقیات میں سے تھا، ان کا دعویٰ تھا کہ ان کا مذہب الہامی مذہب ہے اور وہ حضرت شیث علیہ السلام اور حضرت ادریس علیہ السلام کے پیروکار ہیں، ان کے ہاں سات وقت کی نماز اور ایک قمری مہینہ کے روزے بھی تھے، ان کو مشرک عرب معاشرہ صابی یعنی بے دین کہہ کر پکارتا تھا، یمن کا مشہور قبیلہ "حمیر" سورج کی پوجا کرتا تھا، قبیلہ اسد سیارہ عطارد کی اور قبیلہ لحم و جزام سیارہ مشتری کو دیوتا مان کر پوجتے تھے، بعض لوگ قطبی ستارہ کے پجاری تھے اور قطب شمالی کی طرف منہ کرکے عبادت کرتے تھے، یہ لوگ خانہ کعبہ کی بھی بہت تکریم کرتے تھے۔

*دہریت:* 

ان تمام مذاہب کے ساتھ ساتھ عرب میں ایسے لوگ بھی پاۓ جاتے تھے جو سرے سے مذہب اور خدا پر یقین ہی نہ رکھتے تھے، یہ نہ بت پرست تھے اور نہ کسی الہامی مذہب کے قائل تھے، ان کے نزدیک خدا، حشر و نشر، جنت دوزخ اور جزا وسزا کا کوئی وجود نہ تھا، یہ دنیا کو ازلی و ابدی قرار دیتے تھے۔

*مسلک توحید کے علم بردار:* 

عرب معاشرہ میں کچھ ایسے لوگ بھی موجود تھے جو اپنی فطرت سلیم اور قلبی بصیرت کی بدولت توحید خالص تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تھے، یہ لوگ ایک خدا کے قائل تھے اور شرک و بت پرستی سے نفرت کرتے تھے، ان میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل،  حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سگے چچا زید بن عمر بن نفیل اور عبیداللہ بن جحش مشہور ہیں، دین حق کی تلاش میں سرگرداں ان لوگوں میں سے ورقہ بن نوفل بلآخر عیسائی ہوگئے، یہ وہی ورقہ بن نوفل ہیں، جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پہلی وحی نازل ہونے پر آپ کی نبوت کی تصدیق کی تھی۔

عبیداللہ بن جحش اسلام کے بعد مسلمان ہوگئے، لیکن حبشہ ہجرت کی تو وہاں بدقسمتی سے مرتد ہوکر عیسائی ہوگئے، جبکہ ان میں زید بن عمر بن نفیل کو بہت اونچا مقام حاصل ہے، حالاں کہ ان کو اسلام نصیب نہیں ہوا، کیونکہ وہ پہلے ہی وفات پاگئے تھے، لیکن ان کی فضیلت کا اندازہ اس حدیث مبارکہ کے مفہوم سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب قیامت کے دن ہر امت اپنے نبی کی قیادت میں اٹھاۓ جائی گی تو زید بن عمر بن نفیل اکیلے ایک امت کے طور پر اٹھاۓ جائیں گے۔

زید بن عمر بن نفیل نے بت پرستی، مردار خوری، خون ریزی اور دیگر تمام معاشرتی خباثتوں کو اپنے اوپر حرام کرلیا تھا اور جب ان سے ان کے مذہب کے متعلق پوچھا جاتا تو آپ جواب دیتے کہ: 
" اعبد رب ابراھیم " میں ابراھیم کے رب کی پرستش کرتا ہوں۔

آپ بت پرستی سے سخت بیزار تھے اور خانہ کعبہ میں بیٹھ کر قریش کو کہتے کہ میرے سوا تم میں ایک بھی شخص دین ابراہیمی پر نہیں ہے، آپ قوم کو بت پرستی سے منع کرتے رہتے تھے، گو عرب میں ہر قسم کے دین موجود تھے، مگر ان کی اصلی صورت اتنی مسخ ہوچکی تھی کہ کفر و شرک اور دین میں امتیاز کرنا مشکل ہوچکا تھا، توحید جو ہر الہامی مذہب کا خاصہ تھا، اس کا کسی مذہب میں کہیں نام و نشان تک نہ تھا اور کفر و شرک و توہم پرستی کا اندھیرا صرف عرب ہی نہیں، تمام معلوم دنیا پر چھایا ہوا تھا، غرض تمام ہی دنیا ضلالت و گمراہی کی دلدل میں غرق ہوچکی تھی۔ تب خداۓ بزرگ و برتر کو اہل زمیں کی اس پستی وزبوں حالی پر رحم آیا اور اس نے ان میں اپنا عظیم تر پیغمبر مبعوث فرمایا۔

===========>جاری ھے..

سیرت النبیﷺ ۔۔۔ قسط۔13


*سیرت النبیﷺ ۔۔۔ قسط:13*

*جاہلی معاشرے کی چند جھلکیاں (حصہ اول)* 

پچھلی دو اقساط میں عربوں میں بت پرستی کی تاریخ اور ولادت نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے وقت سرزمین عرب اور خصوصا" مکہ و مدینہ میں رائج مختلف ادیان اور عقائد کا جائزہ لیا گیا، اس قسط میں ظہور اسلام کے وقت عربوں اور خصوصا" قریش مکہ کے معاشی اور معاشرتی حالات بیان کیے جائیں گے۔

ظہور اسلام کے وقت اگر عرب معاشرے کا ایک سرسری سا جائزہ بھی لیا جاۓ تو ایک بات شدت سے محسوس ہوتی ہے کہ تب کا عرب معاشرہ ایک ہی وقت میں اچھی بری متضاد خصلتوں کا شکار تھا،  اور اس سے بھی اہم بات یہ کہ اچھی بری یہ متضاد خصلتیں اپنی پوری شدت سے ان میں سرائیت پزیر تھیں، ایسے میں اگر ہم ان میں رائج بد عادات و رسوم و رواج کو مدنظر رکھیں تو عرب معاشرہ ایک بدترین معاشرے کی تصویر پیش کرتا ہے اور اگر ہم عربوں کے اوصاف حمیدہ کو سامنے رکھیں تو درحقیقت ان سے بہتر انسانی معاشرہ اور معاشرتی اقدار کی نظیر ملنا مشکل ہے۔

بنیادی طور پر عرب معاشرہ تین طبقات پر مشتمل تھا۔

*1 : حضری:* 

وہ لوگ جو شھروں میں آباد تھے اور مستقل طور پر شھروں میں ہی سکونت پذیر تھے، ان کی تعداد بہت تھوڑی تھی، حضری عربوں کا ذریعہ آمدنی نخلستانوں کی آمدن اور تجارت تھا، درحقیقت یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے پردادا حضرت ہاشم تھے جنہوں نے روم و ایران اور شام و ہندستان کے حکمرانوں کے ساتھ تجارتی معاہدات کیے، اس طرح عرب لوگ بڑے بڑے قافلوں کی صورت میں ان کے ممالک جاتے اور وہاں سے قافلے عرب آتے، قریش مکہ کو کیونکہ خانہ کعبہ کی تولیت کی وجہ سے مرکزی اہمیت حاصل تھی، اس لیے قریش مکہ کے قافلوں کو عرب کے بدوی قبائل لوٹنے سے بھی گریز کرتے۔

*2 : بدوی:* 

عرب کی اکثر آبادی بدوی قبائل پر مشتمل تھی جو خانہ بدوشی کی زندگی بسر کرتی تھی، ان کا اصل ذریعہ معاش گلہ بانی یعنی جانور پالنا تھا، اس لیے جہاں کہیں چراگاہ نظر آتی وہیں ڈیرے ڈال دیئے جاتے تھے، جب اس چراگاہ میں ان کے جانوروں کی خوراک ختم ہوجاتی تو وہاں سے کسی اور جگہ کا رخ کرتے، اس کے علاوہ رہزنی بھی ان کی آمدن کا ایک بڑا ذریعہ تھا، یہ لوگ عرب کے صحراؤں میں آتے جاتے قافلوں کو لوٹ لیتے جو قبائل ڈاکہ کے ذریعے روزی کماتے تھے وہ اس پر بہت فخر کیا کرتے تھے..

*3 : لونڈی اور غلام:* 

معاشرے کا تیسرا اور سب سے نچلا طبقہ لونڈیوں اور غلاموں کا تھا جو حضری و بدوی عربوں کے ساتھ خادم کی حیثیت سے رہتے تھے، غلاموں میں عرب اور غیر عرب دونوں شامل تھے، عرب تو قبائل کی آپس کی جنگ میں مغلوب ہونے یا پھر مقروض ہونے کی وجہ سے لونڈی اور غلام بنا لیے جاتے، جبکہ غیر عرب بکتے بکاتے سرزمین عرب پہنچتے جہاں باقاعدہ منڈیوں اور بازاروں میں ان کی خرید و فروخت ہوتی تھی، مالک کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ اپنے غلام پر جس طرح چاہے ظلم ڈھاۓ اور چاہے تو اسے جان سے ہی مار ڈالے، معمولی معمولی باتوں پر غلاموں کو اتنی سخت سزائیں دی جاتیں کہ انسانیت کی روح بھی کانپ اٹھتی، غلام کا بیٹا بھی پیدائشی غلام ہوتا تھا،  اسی طرح لونڈیاں بھی ظلم و ستم کا نشانہ بنتی تھیں اور ان سے بدکاری کا پیشہ بھی کرایا جاتا تھا، ناچ گانے جاننے والی لونڈیوں کی قیمتیں نسبتا" زیادہ ہوتی تھیں،  غرضیکہ غلاموں اور لونڈیوں کی جان و مال، عزت و آبرو اور اولاد سب کی سب ان کے آقا کی ہی ملکیت ہوتی تھی۔

عرب معاشرے میں جنگ و جدل کا سلسلہ مسلسل جاری رہتا، مگر اس جنگ و جدل، مسلسل خانہ جنگی اور صدیوں تک جاری رہنے والے باہمی بغض و عناد اور تعصب و عداوت کے باوجود عرب ایک مشترکہ ثقافت رکھتے تھے جس کے بنیادی عناصر میں اپنے آباء و اجداد پر فخر کرنا، ان کی روایات کو برقرار رکھنا اور مشترکہ زبان عربی کو گنوایا جاسکتا ہے۔

عرب نسلی طور پر قحطانی اور عدنانی (بنو اسماعیل) دو گروہوں میں بٹے ہوتے تھے، لیکن دونوں کو عربی زبان پر فخر تھا، شعرو شاعری بچے بچے کی زبان پر تھی اور شعری ذوق اور عرب ثقافت کا بھرپور اظہار طائف کے قریب "عکاظ" کے مقام پر ہر سال لگنے والے میلہ میں کیا جاتا، عام حالات میں ایک عرب جنگجو سپاہی تھا، مگر اس میلے میں وہ بھی ایک شاعر کا روپ دھار لیتا، شراب خوری کی مجلسیں سجائی جاتیں اور گردش جام کے ساتھ ایسی بلند پایہ غزلیں کہی جاتیں کہ آج تک اس دور کے ادب کو کلاسیکی مانا جاتا ہے، فاحشہ عورتوں کی موجودگی نے ان مجالس کو  بیہودگی کی انتہائی پستیوں تک پہنچا دیا تھا۔

===========> جاری ھے..

سیرت النبیﷺ ۔۔۔ قسط 14..*

*سیرت النبیﷺ ۔۔۔ قسط 14..*

*جاہلی معاشرے کی چند جھلکیاں (حصہ دوم)* 
===============================

پروفیسر عبدالحمید صدیقی اپنی کتاب " لائف آف محمد" (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم) میں لکھتے ھیں کہ جب عرب تاجر اپنے تجارتی کارواں لےکر روم و ایران و شام اور ھندستان تک جاتے وہ واپسی پر عیش پرستی اور تمام بری عادات لے کر لوٹتے.. شام و عراق سے لڑکیاں درآمد کی جاتیں جنہیں عیش پرستی کے لیے استعمال کیا جاتا.. شھوانی خواھشات کے اس چٹخارے نے عربوں کو بلا کا اوباش اور نفس پرست بنا دیا تھا.. اور ان کے ھاں بدکاری اتنی رچ بس گئی تھی کہ اگر کوئی صالح شخص ان بدکاریوں اور بری عادات سے اجتناب برتتا تو اس کا مذاق اڑایا جاتا اور اسے کمینہ ' کنجوس اور غیر ملنسار قرار دے دیا جاتا..

عرب معاشرے کی اخلاق باختگی کا ایک اور تاریک پہلو خاندانی نظام کی گراوٹ تھا.. عرب کے متمول طبقے میں تو پھر بھی حالت کچھ بہتر تھی مگر عمومی طور پر مرد عورت کا اختلاط سواۓ فحاشی اور بدکاری کے اور کچھ نہیں تھا..ایک ھی وقت میں کئی کئی عورتوں کو اپنے حرم میں داخل کرلیا جاتا.. دو سگی بہنوں سے بیک وقت نکاح کرلینا اور باپ کے مرنے کے بعد سوتیلی ماں کو اپنی زوجیت میں لے لینے میں کوئی عار نہ تھا.. دس دس لوگ ایک ھی عورت سے تعلقات قائم کرلیتے.. جگہ جگہ رنڈیوں اور طوائفوں کے گھر زنا اور بدکاری کے اڈے تھے.. شراب نوشی اور جواء عام تھا.. 

انکی بے حیائی کا یہ عالم تھا کہ انکی بیٹیاں تک نیم عریاں لباس میں قبائلی مخلوط مجالس میں شریک ھوتیں جہاں انکے جسمانی اعضاء پر نہایت فحش شعر پڑھے جاتے.. دنیا کی شاید ھی کوئی برائی ھو جو عربوں میں موجود نہ تھی.. لہو و لعب ' فسق و فجور اور قتل و غارتگری کے دلدادہ.. زنا و بدکاری کے رسیا اور شراب نوشی اس قدر کہ جیسے ھر گھر ایک شراب خانہ تھا.. 

عرب نہایت شقی القلب اور سنگدل تھے.. جانوروں کو درختوں سے باندھ کر نشانہ بازی کی مشق کی جاتی.. زندہ جانور کا کوئی حصہ کاٹ کر کھا جاتے.. اسیران جنگ کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جاتا.. ایک ایک عضو کاٹ کر موت کے گھاٹ اتارا جاتا.. دشمنوں کا جگر نکال کر کچا چبا لیا جاتا.. ان کے کاسہ سر میں شراب ڈال کر پی جاتی.. مجرموں کو حد درجہ وحشیانہ سزائیں دی جاتیں..

درحقیقت یہ اسلام کی حقانیت و سچائی کا ایک منہ بولتا ثبوت ھے کہ ایسی وحشی و جاھل قوم کو بدل کر تمام اقوام عالم کا پیشوا بنا دیا اور انکو اخلاقی طور پر فرشتوں کے جیسا پاکیزہ بنا دیا..

تاھم اخلاقی طور پر پستی اور گراوٹ کی اتھاہ گہرایوں میں ڈوبے اس معاشرے میں ایسے سلیم فطرت صالح انسان موجود تھے جو ان قبیح حرکات سے الگ تھلگ تھے..

دوسری طرف جب انہی بدکار و بے حیا عربوں میں کچھ ایسی اخلاقی اچھائیاں بھی پائی جاتی تھیں جو ان عربوں کے لیے وجہ امتیاز تھیں.. شجاعت عربوں میں اپنی معراج پر تھی.. ان کی بہادری درحقیقت سفاکی کے درجہ تک پہنچی ھوئی تھی.. کسی عرب کے لیے میدان جنگ میں تلوار کی دھار پر کٹ مرنا عزت اور شرافت کی بات تھی اور بستر پر ناک رگڑ رگڑ مرنا ذلت اور گالی سمجھا جاتا.. نہ صرف مرد بلکہ عورتیں بھی میدان جنگ میں مردوں کے دوش بدوش حصہ لیتیں..

سخاوت میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا.. کبھی کبھی تو اپنے پاس کا آخری روپیہ تک سائل کے حوالے کردیا جاتا.. مہمان نواز اس درجے کے تھے کہ اگر کسی کے پاس صرف ایک اونٹ گزر بسر کے لیے ھوتا تو اگر مہمان آ جاتے تو اسے ذبح کرکے مہمانوں کو کھلا دیا جاتا..

عرب آزادی کے دلدادہ تھے اور اپنی آزادی برقرار رکھنے میں کسی قربانی سے دریغ نہ کرتے تھے.. یہ ایک تاریخی حقیقت ھے کہ روم و ایران کی عظیم سلطنتوں کے بیچ میں ھونے کے باوجود کوئی ان کو محکوم نہ بنا سکا..

عرب آخر درجے کے وفا پیشہ تھے.. عہد و پیمان کی پابندی کو فرض سمجھا جاتا تھا اور ایفاۓ عہد میں اپنی جان و مال اور اولاد تک کو قربان کردیا جاتا تھا.. جب کسی کو پناہ دے دیتے تو اپنی جان قربان کردیتے مگر اپنی پناہ میں آۓ شخص پر ایک آنچ نہ آنے دیتے..

شاید عرب قوم کی یہ امتیازی صفات ھی تھیں کہ جن کی وجہ سے اللہ نے اس قوم کو اسلام کی داعی قوم کے طور پر فضیلت بخشی.. بلاشبہ عرب قوم بدکاری و بے حیائی کی دلدل میں مکمل طور ڈوبی ھوئی تھی مگر یہ سب وہ بری صفات تھیں جو ان کی فطرت میں شامل نہ تھیں اور انہیں ختم بھی کیا جاسکتا تھا اور اسلام کے ظہور کے بعد ختم ھو بھی گئیں مگر کسی قوم کو نہ تو کوشش سے بہادر بنایا جاسکتا ھے نہ ھی امانت دار اور نہ ھی حریت و آزادی کا متوالا.. یہ وہ صفات ھیں جن سے عرب قوم کو اللہ نے خوب خوب نواز رکھا تھا..

اور جب اسلام قبول کرنے کے بعد عرب قوم اپنی اخلاقی گراوٹ سے نکلی اور ان صفات میں جب اسلامی جذبہ جہاد کی روح بھی پھونک دی گئی تو پھر دنیا میں ان کی شجاعت اور تلوار کی بہادرانہ کاٹ کا کسی قوم کے پاس کوئی جواب نہ تھا..

===========> جاری ھے..

سیرت النبیﷺ ۔۔۔ قسط 11 .*

*سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم..قسط 11*

*آپ ﷺ کی ولادت کے وقت سرزمین عرب میں موجود دوسرے ادیان ومذاہب کا مختصر سا جائزہ:* 
================== 

پچھلی اقساط میں مشرکین حجاز و عرب کے عقائد اور بت پرستی کی تاریخ بیان کی گئی.. اس قسط میں ھم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت مبارکہ کے وقت سرزمین عرب میں موجود دوسرے مذاھب اور ادیان کا ایک مختصر جائزہ پیش کریں گے..

یہودیت..

عرب میں بت پرستی کے بعد دوسرا اھم ترین مذھب یہودیت تھا.. یہ لوگ دو وجہ سے سرزمین میں آباد ھوۓ.. ایک تو اس لیے کہ حضرت عیسی' علیہ السلام کی پیدائش سے پانچ سو سال پہلے جب بابل کے بادشاہ "بخت نزار" نے فلسطین کو تاراج کیا اور تباہ و برباد کیا تو یہودیوں کے بہت سے قبائل جان بچاکر دنیا کے کئی دوسرے حصوں کی
طرف بھاگے.. انہی میں سے چند قبائل عرب کی طرف آ نکلے اور خود کو یہاں محفوظ جان کر آباد ھوگئے..

دوسری بہت اھم وجہ یہ تھی کہ یہودیوں کو تورات و زبور کی پیش گوئیوں کی وجہ سے علم تھا کہ اللہ عنقریب اپنا آخری پیغمبر سرزمین عرب میں مبعوث فرمانے والا ھے.. یہ اس نبی کو اپنا نجات دھندہ جانتے تھے اس لیے یہ لوگ آخری نبی کے انتظار میں یہاں آ کر آباد ھوگئے.. چونکہ حضرت ابراھیم علیہ السلام سے لیکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک جتنے بھی نبی آۓ سب بنی اسرائیل میں سے ھی مبعوث ھوۓ تھے تو اس بناء پر ان کا خیال تھا کہ آخری نبی بھی بنی اسرائیل سے ھی ھوگا مگر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبوت ملی تو اس بات کے باوجود کہ تورات و زبور اور دوسرے الہامی صحائف میں آخری نبی کی جو نشانیاں بتائی گئی تھیں سب کی سب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کھلم کھلا نظر آ گئیں مگر عرب
کے یہود نے محض اس حسد اور تعصب پر کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنی اسرائیل کے بجاۓ بنی اسمائیل میں سے تھے , آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبی ماننے انکار کردیا..

سب سے پہلے یہ لوگ یثرب (مدینہ) اور خیبر کے علاقہ میں آباد ھوۓ.. ان کے اثر سے کچھ مقامی افراد نے بھی یہودیت اختیار کرلی.. پھر 354 قبل مسیح میں یثرب سے دو یہودی مبلغ یمن پہنچے تو ان کے اثر سے یمن کے حمیری بادشاہ "یوسف ذونواس" نے جب یہودی مذھب قبول کرلیا تو یمن میں یہودیت کو بہت فروغ ملا..

یہ لوگ اپنے علم اور دولت کی وجہ سے خود کو عربوں سے بہت برتر خیال کرتے تھے اور عربوں کو اپنے مقابلے میں "امی" یعنی جاھل سمجھتے تھے.. نسلی برتری کا شکار یہ متعصب قوم خود کو خدا کا چہیتا اور برگزیدہ تصور کرتی تھی.. ان کا خیال تھا کہ جہنم کی آگ ان کو چند دن سے زیادہ
نہیں چھوۓ گی.. حالاں کہ یہ لوگ اپنے تمام تر اوصاف کھوچکے تھے.. سودخوری ان کا شعار بن چکی تھی.. حسب ضرورت تورات اور مذھبی احکام میں تحریف کرنا ان کے ھاں عام تھا.. مذھب گویا ان کے گھر کی لونڈی جیسا تھا جس کے ساتھ وہ جو چاھیں کریں.. چونکہ خود کو تمام اقوام سے برتر جانتے تھے تو ان سے ھر قسم کا دجل و فریب اور ظلم جائز تھا تاھم اپنی پوری دنیا پرستی کے باوجود مدینہ اور اردگرد کے علاقے میں ان کو الہیات اور خدائی علوم میں اجارہ داری حاصل تھی.. ان کے اثر کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ھے کہ مدینہ کے قبائل اوس و خزرج میں کسی کی اولاد نہ ھوتی تو وہ منت مانتا کہ بیٹا ھونے کی صورت میں اسے یہودی بنادیں گے..

عیسائیت..

عربوں میں تیسرا اھم مذھب عیسائیت تھا.. حضرت عیسی علیہ السلام سے کم و بیش 250 سال بعد
روم کی عیسائی حکومت کے زیراثر شام کی طرف کے عرب قبائل نے عیسائیت قبول کرلی.. دوسری طرف حیرہ کے عرب بادشاہ "نعمان بن منذر" نے دین عیسوی قبول کیا تو وھاں کے بہت سے لوگ عیسائی ھوگئے جبکہ یمن میں جب عیسائی مبلغین کی تبلیغ پر کچھ لوگ عیسائی ھوۓ تو یہودی بادشاہ "یوسف ذونواس" نے ان پر بے پناہ ظلم و ستم کیا اور پھر قتل کرادیا.. روم کی عیسائی حکومت تک جب یہ خبر پہنچی تو قیصر روم بہت غصبناک ھوا.. اس نے شاہ حبشہ کو جو رومی حلقہ اثر میں ایک عیسائی حکمران تھا , حکم دیا کہ یوسف ذونواس سے اس ظلم و ستم کا بدلہ لیا جاۓ چنانچہ وھاں سے ایک حبشی نژاد لشکر آیا اور یوسف ذونواس کو شکست دیکر یمن پر بھی عیسائی حکومت قائم کردی..

"ابرھہ بن اشرم" اسی لشکر کا ایک فوجی سردار تھا جو بتدریج ترقی کرکے بالآخر یمن کا نیم خودمختار بادشاہ بن بیٹھا.. یہ کٹر عیسائی تھا اور
اس نے یمن میں عیسائیت کے فروغ کے لیے بے پناہ کام کیا.. یاد رھے کہ یہ وھی ابرھہ ھے جس نے "صنعاء" میں کعبہ کے مقابلے پر ایک عظیم الشان کلیسا (گرجا) تعمیر کرایا اور پھر خانہ کعبہ کو گرانے کے ارادہ سے مکہ پر حملہ آور ھوا تھا.. (اس واقعہ کی تفصیل قسط نمبر 6 اور 7 میں گزر چکی ھے..)

اس زمانے کے عیسائی حضرت عیسی' علیہ السلام کی تعلیمات کے بجاۓ "سینٹ پال" کے مذھب کے پیرو ھو چکے تھے.. سینٹ پال پہلے یہودی تھا.. اس نے دعو'ی کیا کہ اسے حضرت عیسی' علیہ السلام نے خواب میں حکم دیا ھے کہ میرا دین پھیلاؤ.. یوں وہ عیسائی ھوا اور پھر اس نے بتدریج عیسائیت کو ایک الہامی مذھب سے شرک و گمراھی سے لتھڑا ھوا مذھب بنا دیا.. اس نے عیسائیت میں عقید تثلیث یعنی تین خداؤں کا عقیدہ شامل کیا.. حضرت عیسی' علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا ٹھہرایا.. اس نے عیسائیوں کو اس فریب میں مبتلا
کردیا کہ حضرت عیسی' علیہ السلام سولی چڑھ کر سب عیسائیوں کے گناھوں کا کفارہ ادا کرگئے ھیں اور اب انہیں گناہ کی کھلی چھٹی ھے.. سینٹ پال کے زیر اثر عیسائی صرف پادری کے سامنے اعتراف جرم و گناہ کو ھی کافی سمجھتے.. تاھم یہود کے مقابلے میں ان کی اخلاقی حالت قدرے بہتر تھی اور قبول حق کی صلاحیت سے بھی یہ لوگ بہرہ ور تھے.. اس بات کا اندازہ آج بھی کیا جاسکتا ھے کہ آج بھی اسلام کی حقانیت جان کر مسلمان ھونے والوں میں یہودیوں کے مقابلے میں عیسائیوں کی تعداد بہت زیادہ ھے..

------------>جاری ھے.

سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس کاندہلوی.
الرحیق المختوم .. مولانا صفی الرحمن مبارکپوری.

Saturday, September 22, 2018

سیرت النبیﷺ ۔۔۔۔ قسط 10..

*سیرت النبیﷺ ۔۔۔۔ قسط 10..*

*اہل مکہ کے عقائد اور شرکیہ اعمال:* 
=========================

درحقیقت مشرکین مکہ و عرب ان بتوں کو معبود حقیقی نہیں مانتے تھے بلکہ وہ اللہ کو ھی واحد معبود حقیقی مانتے تھے.. وہ ان بتوں کو اللہ کی بارگاہ میں اپنا سفارشی تصور کرتے تھے اور وہ ان بتوں کی تعظیم و عبادت اس اعتقاد کے ساتھ کرتے تھے کہ یہ ان کو اللہ سے قریب کردیں گے.. دوسرا وہ تصور کرتے تھے کہ ان بتوں کو خدائی صفات میں سے قوتیں اور طاقتیں حاصل ھیں لیکن بہرحال حقیقی رازق و مالک وہ اللہ کو ھی مانتے تھے.. دراصل مشرک ھوتا ھی وھی ھے جو اللہ کو مان کر پھر اس کی ذات , صفات یا عبادت میں کسی اور کو شریک کرے..

ان مشرکانہ عقائد کا نتیجہ یہ نکلا کہ مشرکین مکہ بری طرح سے توھم پرستی کا شکار ھوگئے.. وہ بات بات سے نیک و بد شگون لیتے اور پھر برے شگون سے بچنے کے لیے کاھنوں کی خدمات حاصل کرتے.. اس طرح کاھنوں کا جنتر منتر اور ٹوٹکوں کا کاروبار خوب چمکا ھوا تھا.. کاھن لوگ جنوں بھوتوں کے مطیع ھونے کا دعو'ی کرتے اور لوگوں کو جھوٹی سچی غیب کی خبریں دیتے تھے.. شرک و بت پرستی میں ڈوبے یہ عرب انتہا درجے کے رسوم پرست تھے اور جاھلانہ رسوم و رواج کا ایک طویل سلسلہ ان کے ھاں رائج تھا..

ان کی بت پرستی اور توھم پرستی کی بعض نہائت مضحکہ خیز پہلو بھی مؤرخین نے بیان کیے ھیں مثلا" سفر پر روانہ ھوتے تو ایک پتھر جیب میں ڈال لیتے.. راستے میں اگر کوئی اور اچھا پتھر مل جاتا تو پہلے "خدا" کو جیب سے نکال کر پھینک دیتے اور نئے "خدا" کی پرستش شروع کردیتے..

اگر روانگی کے وقت پتھر ساتھ لینا بھول جاتے تو راستے میں جس منزل پر رکتے تو وھاں سے ھی چار پتھر تلاش کرتے.. تین کا چولہا بناتے اور چوتھے کو معبود بنا لیتے.. اگر کہیں پتھر نہ ملتے تو مٹی اور کنکریوں کا ایک ڈھیر جمع کرکے اس پر بکری کا دودھ بہاتے اور پھر اس کے سامنے سجدہ ریز ھوجاتے..

ذوق بت پرستی صرف پتھر تک محدود نہ تھا.. لکڑی اور مٹی کے بھی بت بناۓ جاتے.. ایک مرتبہ بنو حنیفہ نے کجھوروں کے ایک ڈھیر کی عبادت شروع کردی.. اسی اثناء میں قحط پڑ گیا.. جب کھانے کو اور کچھ نہ ملا تو سب نے مل کر اپنے "خدا" کو ھی کھا کر ختم کردیا..

یوں خانہ کعبہ جو زمین پر اللہ کا سب سے قدیم اور مقدس ترین گھر ھے مشرکین کے ھاتھوں شرک و گمراھی کا گڑھ بن چکا تھا.. اھل مکہ کے نذدیک سب سے اھم بت لات , منات , عزی' اور ھبل سمیت لگ بھگ تین سو ساٹھ چھوٹے بڑے بت تھے جو حرم کعبہ میں نصب تھے.. عرب ان کی پوجا بھی کرتے اور ان پر قربانیاں بھی پیش کرتے.. حج کے دنوں میں یہ کفر و ضلالت کے مناظر اور بڑھ جاتے جب حج کو آنے والے ننگے ھو کر خانہ کعبہ کا طواف کرتے.. بتوں کے آگے فال نکالنے والے پانسے پھینکے جاتے اور نذریں مانی جاتیں..

غرضیکہ شیطانیت سرزمین عرب پر اپنی انتہا کرچکی تھی اور عرب قوم شرک و گمراھی میں پستی کے جس مقام پر پہنچ چکی تھی اس سے آگے کوئی اور پست مقام نہ تھا.. اب اللہ کی شان رحمانیت کی باری تھی.. چنانچہ انہی مشرکین کے بیچ میں اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیدا کرکے شرک و کفر کے بت پر وہ کاری ضرب لگائی کہ روۓ زمین کے چپہ چپہ پر توحید و واحدانیت کے چراغ روشن ھوگئے.. 

کبھی نہ بجھنے کے لیے !!

اگلی قسط میں ولادت نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت سرزمین عرب میں رائج باقی مذاھب کا ایک مختصر تذکرہ کیا جاۓ گا..

===========>جاری ھے..