या ब्लॉगचा उद्देश एकाच ठिकाणी सर्व प्रकारच्या उपयुक्त आणि महत्वपूर्ण माहिती प्रदान करणे आहे.या ब्लॉगची सामग्री सोशल मीडियामधून घेतली आहे.
Showing posts with label Acchi Baten. Show all posts
Showing posts with label Acchi Baten. Show all posts

Monday, April 28, 2025

شیخ سعدی کی حکمت


شیخ سعدی نے کہا: "صرف ایک عورت نے مجھے زیر کیا،

جب اس نے پلیٹ کو ڈھانپ رکھا تھا، میں نے پوچھا، 'پلیٹ میں کیا ہے؟'

تو پھر اس نے کہا، 'ہم نے اسے کیوں ڈھانپا؟'

اس کے جواب نے مجھے شرمندہ کر دیا۔"


آج کی حکمت۔ 

کسی بھی چھپی ہوئی چیز کو بے نقاب کرنے کی کوشش نہ کریں۔

کسی انسان کا دوسرا رخ تلاش مت کریں، چاہے آپ کو یقین ہو کہ وہ غلط ہے۔

یہی کافی ہے کہ وہ آپ کی عزت کرے اور اپنے بہترین پہلو سے آپ کو ملائے۔


ہر انسان کے اندر کچھ کمی یا منفی پہلو ہوتا ہے، حتیٰ کہ ہمارے اپنے اندر بھی۔

لوگوں کے رازوں میں مشغول ہونا تعصب اور ناانصافی کی راہ ہموار کرتا ہے۔

زندگی سکون میں بہتر گزرتی ہے جب ہم دوسروں کے مثبت پہلوؤں کو دیکھتے ہیں۔


منقول

Sunday, April 27, 2025

آم The Mango ۔


 مرزا غالب کہتے ہیں آم میں دو خوبیاں ہونی چاہئیں


"اوّل وہ میٹھے ہوں،دوم بہ کثرت ہوں“


علامہ اقبال کو لنگڑا آم بہت پسند تھا۔ ایک بار مشہور شاعر اکبر الٰہ آبادی نے علامہ اقبال کو لنگڑے آموں کا تحفہ بذریعہ ڈاک بھجوایا، علامہ اقبال نے پارسل کی رسید پر یہ یادگارمصرع لکھ بھیجا۔


اثر یہ تیرے اعجازِ مسیحائی کا ہے اکبر

الٰہ آباد سے لنگڑا چلا، لاہور تک پہنچا


لہذا آم ہوں

ڈھیر سارے ہوں

مفت کے ہوں

اور ٹھنڈے ہوں۔۔۔


خالق کو ہے مقصود کہ مخلوق مزہ لے

وہ چیز بنا دی کہ بوڑھا بھی چبا لے


آم کا موسم آ رہا ہے لہذا اپنے ساتھ ہمارا بھی خیال رکھیں 😅

Wednesday, March 2, 2022

نعمتیں

 نعمتیں

ہمارے جسم کے اندر ایسے ایسے نظام موجود ہیں کہ ہم جب ان پر غور کرتے ہیں تو عقل حیران رہ جاتی ہے۔☆


ہم میں سے ہر شخص ساڑھے چار ہزار بیماریاں ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے۔ یہ بیماریاں ہر وقت سرگرم عمل رہتی ہیں‘ مگر ہماری قوت مدافعت‘ ہمارے جسم کے نظام بیماریاں پیدا نہیں ہونے دیتے ‘☆


 ہمارا منہ روزانہ ایسے جراثیم پیدا کرتا ہے جو ہمارےدل کو کمزور کر دیتے ہیں مگر ہم جب تیز چلتے ہیں‘ جاگنگ کرتے ہیں یا واک کرتے ہیں تو ہمارا منہ کھل جاتا ہے‘ ہم تیز تیز سانس لیتے ہیں‘ یہ تیز تیز سانسیں ان جراثیم کو مار دیتی ہیں اور یوں ہمارا دل ان جراثیموں سے بچ جاتا ہے‘☆


دنیا کا پہلا بائی پاس مئی 1960ء میں ہوا مگر قدرت نے اس بائی پاس میں استعمال ہونے والی نالی لاکھوں‘ کروڑوں سال قبل ہماری پنڈلی میں رکھ دی‘ یہ نالی نہ ہوتی تو شاید دل کا بائی پاس ممکن نہ ہوتا‘☆


 گردوں کی ٹرانسپلانٹیشن 17 جون 1950ء میں شروع ہوئی مگر قدرت نے کروڑوں سال قبل ہمارے دو گردوں کے درمیان ایسی جگہ رکھ دی جہاں تیسرا گردہ فٹ ہو جاتا ہے☆


ہماری پسلیوں میں چند انتہائی چھوٹی چھوٹی ہڈیاں ہیں۔یہ ہڈیاں ہمیشہ فالتو سمجھی جاتی تھیں مگر آج پتہ چلا دنیا میں چند ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں جن کے نرخرے جڑےہوتے ہیں- یہ بچے اس عارضے کی وجہ سے نه اپنی گردن سیدھی کر سکتے ہیں‘ نه نگل سکتے ہیں اور نہ ہی عام بچوں کی طرح بول سکتے ہیں☆


 سرجنوں نے جب ان بچوں کے نرخروں اور پسلی کی فالتو ہڈیوں کا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا پسلی کی یہ فالتو ہڈیاں اور نرخرے کی ہڈی ایک جیسی ہیں چنانچہ سرجنوں نے پسلی کی چھوٹی ہڈیاں کاٹ کر حلق میں فٹ کر دیں اور یوں یہ معذور بچے نارمل زندگی گزارنے لگے‘☆


ہمارا جگرجسم کا واحد عضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ پیدا ہو جاتا ہے‘ ہماری انگلی کٹ جائے‘ بازو الگ ہو جائے یا جسم کا کوئی دوسرا حصہ کٹ جائے تو یہ دوبارہ نہیں اگتا جب کہ جگر واحد عضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ اگ جاتا ہے‘☆


 سائنس دان حیران تھے قدرت نے جگر میں یہ اہلیت کیوں رکھی؟ آج پتہ چلا جگر عضو رئیس ہے‘ اس کے بغیر زندگی ممکن نہیں اور اس کی اس اہلیت کی وجہ سے یہ ٹرانسپلانٹ ہو سکتا ہے‘ آپ دوسروں کو جگر ڈونیٹ کر سکتے ہیں‘ یہ قدرت کے چند ایسے معجزے ہیں جو انسان کی عقل کو حیران کر دیتے ہیں ☆


جب کہ ہمارے بدن میں ایسےہزاروں معجزے چھپے پڑے ہیں اور یہ معجزے ہمیں صحت مند رکھتے ہیں۔☆


ہم روزانہ سوتے ہیں‘ ہماری نیند موت کا ٹریلر ہوتی ہے‘ انسان کی اونگھ‘ نیند‘ گہری نیند‘ بے ہوشی اور موت پانچوں ایک ہی سلسلے کے مختلف مراحل ہیں‘ ہم جب گہری نیند میں جاتے ہیں تو ہم اور موت کے درمیان صرف بے ہوشی کا ایک مرحلہ رہ جاتا ہے‘ ہم روز صبح موت کی دہلیز سے واپس آتے ہیں مگر ہمیں احساس تک نہیں ہوتا‘☆


 صحت دنیا کی ان چند نعمتوں میں شمار ہوتی ہے یہ جب تک قائم رہتی ہے ہمیں اس کی قدر نہیں ہوتی مگر جوں ہی یہ ہمارا ساتھ چھوڑتی ہے‘ ہمیں فوراً احساس ہوتا ہے یہ ہماری دیگر تمام نعمتوں سے کہیں زیادہ قیمتی تھی‘ ☆


ہم اگر کسی دن میز پر بیٹھ جائیں اور سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کی انگلیوں تک صحت کاتخمینہ لگائیں تو ہمیں معلوم ہو گا ہم میں سے ہر شخص ارب پتی ہے‘☆


 ہماری پلکوں میں چند مسل ہوتے ہیں۔یہ مسل ہماری پلکوں کو اٹھاتے اور گراتے ہیں‘ اگر یہ مسل جواب دے جائیں تو انسان پلکیں نہیں کھول سکتا‘ دنیا میں اس مرض کا کوئی علاج نہیں‘ ☆


دنیا کے 50 امیر ترین لوگ اس وقت اس مرض میں مبتلا ہیں اور یہ صرف اپنی پلک اٹھانے کے لیے دنیا بھر کے سرجنوں اور ڈاکٹروں کو کروڑوں ڈالر دینے کے لیےتیار ہیں‘☆


ہمارے کانوں میں کبوتر کے آنسوکے برابر مائع ہوتا ہے‘ یہ پارے کی قسم کا ایک لیکوڈ ہے‘ ہم اس مائع کی وجہ سے سیدھا چلتے ہیں‘ یہ اگر ضائع ہو جائے تو ہم سمت کا تعین نہیں کر پاتے‘ ہم چلتے ہوئے چیزوں سے الجھنا اور ٹکرانا شروع کر دیتے ہیں ‘☆


لوگ صحت مند گردے کے لیے تیس چالیس لاکھ روپے دینے کے لیے تیار ہیں‘☆


آنکھوں کاقرنیا لاکھوں روپے میں بکتا ہے‘ ☆


دل کی قیمت لاکھوں کروڑوں میں چلی جاتی ہے‘☆


 آپ کی ایڑی میں درد ہو تو آپ اس درد سے چھٹکارے کے لیے لاکھوں روپے دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں‘☆


 دنیا کے لاکھوں امیر لوگ کمر درد کا شکار ہیں۔گردن کے مہروں کی خرابی انسان کی زندگی کو اجیرن کر دیتی ہے‘ انگلیوں کے جوڑوں میں نمک جمع ہو جائے تو انسان موت کی دعائیں مانگنے لگتا ہے‘☆


قبض اور بواسیر نے لاکھوں کروڑوں لوگوں کی مت مار دی ہے‘☆


دانت اور داڑھ کا درد راتوں کو بے چین بنا دیتا ہے‘☆


آدھے سر کا درد ہزاروں لوگوں کو پاگل بنا رہا ہے‘ ☆


شوگر‘ کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کی ادویات بنانے والی کمپنیاں ہر سال اربوں ڈالر کماتی ہیں☆


 اور آپ اگر خدانخواستہ کسی جلدی مرض کا شکار ہو گئے ہیں تو آپ جیب میں لاکھوں روپے ڈال کر پھریں گے مگرآپ کو شفا نہیں ملے گی‘☆ 


منہ کی بدبو بظاہر معمولی مسئلہ ہے مگر لاکھوں لوگ ہر سال اس پر اربوں روپے خرچ کرتے ہیں‘ ہمارا معدہ بعض اوقات کوئی خاص تیزاب پیدا نہیں کرتا اور ہم نعمتوں سے بھری اس دنیا میں بے نعمت ہو کر رہ جاتے ہیں۔☆


ہماری صحت اللہ تعالیٰ کا خصوصی کرم ہے مگر ہم لوگ روز اس نعمت کی بے حرمتی کرتے ہیں‘ ☆


ہم اس عظیم مہربانی پراللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے‘ ہم اگر روز اپنے بستر سے اٹھتے ہیں‘ ہم جو چاہتے ہیں ہم وہ کھا لیتے ہیں اور یہ کھایا ہوا ہضم ہو جاتا ہے‘ ہم سیدھا چل سکتے ہیں‘ دوڑ لگا سکتے ہیں‘ جھک سکتے ہیں اور ہمارا دل‘ دماغ‘ جگر اور گردے ٹھیک کام کر رہے ہیں‘ ہم آنکھوں سے دیکھ‘ کانوں سے سن‘ ہاتھوں سے چھو‘ ناک سے سونگھ اور منہ سے چکھ سکتے ہیں ☆


تو پھر ہم سب اللہ تعالیٰ کے فضل‘ اس کے کرم کے قرض دار ہیں اور ہمیں اس عظیم مہربانی پر اپنے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ صحت وہ نعمت ہے جو اگر چھن جائے تو ہم پوری دنیا کے خزانے خرچ کر کے بھی یہ نعمت واپس نہیں لے سکتے‘


اسی لئیے ربِ کریم قرآن میں کہتے ہیں.....☆


 اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے.

(منقول پوسٹ )

Monday, June 22, 2020

شہد کی مکھی- ایک اُستاد



ایک طالبِ علم نے اپنے استاذ صاحب سے عرض کی :
استاذ محترم، آپ کے پیریڈ میں ہم بات اچھی طرح سمجھ جاتے ہیں، آپ کی باتوں کا لطف بھی اٹھاتے ہیں اور اس لیے آپ کے پیریڈ کا انتظار بھی رہتا ہے۔
لیکن
جب ہم کتاب پڑھتے ہیں تو ہمیں وہ لطف حاصل نہیں ہوتا جو آپ کے پیریڈ میں حاصل ہوتا ہے۔
استاذ صاحب نے فرمایا: شہد کی مکھی شہد کیسے بناتی ہے؟
ایک طالب علم نے جواب دیا : پھولوں کے رس سے۔۔۔
استاذ صاحب نے پوچھا : اگر تم پھولوں کو یونہی کھا لو تو ان کا ذائقہ کیسا ہو گا؟
طالب علم نے جواب دیا : کڑوا ہوگا۔۔۔
استاذ صاحب نے فرمایا : اے میرے بیٹے۔۔۔ درس وتدریس کا شعبہ بھی شہد کے مکھی کے کام کی طرح ہے۔ استاذ شہد کی مکھی کی طرح لاکھوں پھولوں (کتب، تجربات، مشاہدات) کا دورہ کرتا ہے اور پھر اپنے طلبہ کے سامنے ان پھولوں کے رس کا نچوڑ میٹھے شہد (خلاصے) کی صورت میں لا کر رکھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کی حفاظت فرمائے جو انبیاء کے اس کام سے تعلق رکھتا ہے۔
ہمارے ہر استاذ اور استانی کے لیے سلامتی ہو۔ 

اس حکایت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اگر کسی استاذ کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ میرے درس میں شہد کے جیسی چاشنی نہیں، یعنی طلبہ دلچسپی نہیں لیتے تو دو وجوہات ہو سکتی ہے :
پہلی وجہ یہ کہ اس استاذ نے شہد کی مکھی کی طرح پھول پھول کا دورہ نہیں کیا۔ یعنی تیاری کے لیے صرف ایک کتاب پر تکیہ کر لیا۔
دوسرا یہ کہ شہد کی مکھی کی طرح اس استاذ نے پھولوں کا رس نکال کر شہد بنانے کے بجائے طلبہ کے سامنے کڑوے پھول لا کر رکھ دیے۔ یعنی جیسا کتاب میں پڑھا تھا ویسا کا ویسا طلبہ کو سنا دیا۔
اگر اس میں طلبہ کے ذہنوں کے مطابق مثالیں شامل ہوتی، تختہ سیاہ یا دیگر تعلیمی آلات سے مدد لی جاتی، مناسب سرگرمیوں کا انتخاب کیا جاتا تو اس محنت کا نتیجہ میٹھے شہد کی صورت میں نکلتا۔
استاذ کا کام شہد کی مکھی کے کام کی طرح سخت اور تھکا دیتے والا ہے۔ لیکن اس کا نتیجہ بھی شہد جیسا لذیذ وشیریں ہے۔

Copied

Thursday, June 18, 2020

شرافت کا معیار


"میری شرٹ استری نہیں کی تم نے؟ "
"وقت ہی نہیں ملا. لائیں، اب کر دیتی ہوں"
"وقت کیوں نہیں ملتا؟ تم لوگوں کا گھر پر سارا دن کام ہی کیا ہوتا ہے بھلا؟ ٹی وی دیکھنا، فیس بک پر لگے رہو، فون پر سہیلیوں کے ساتھ گپیں لگاؤ، اور بس!"
"تو آپ کونسا ہل چلا کر آتے ہیں؟ صبح جا کر آفس میں بیٹھے رہو، شام کو آ کر گھر۔ کام تو سارا ہم کرتے ہیں. گھر سنبھالو، بچے سنبھالو، دن کا پتہ چلتا ہے نہ رات کا. "
۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری شرٹ استری نہیں کی تم نے؟ "
"وقت ہی نہیں ملا. لائیں، اب کر دیتی ہوں"
"آرام کر لو اب. گھر سنبھالتی ہو، بچوں کے سب کام، انہیں ہوم ورک کروانا، گھر والوں کا خیال رکھنا۔۔۔ تھک جاتی ہو. میں خود استری کر لیتا ہوں"
"آپ بھی تو صبح سے کام پر جاتے ہیں، ہمارے لیئے تھکتے ہیں، اپنی شرٹس کا رنگ خراب ہو گیا ہے لیکن سب کچھ ہم پر خرچ کر دیتے ہیں، تپتی دھوپ ہو یا برستی بارش، صبح کے گئے شام کو واپس آتے ہیں. رہنے دیں، میں فارغ ہوتے ہی استری کر دیتی ہوں. "
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بس اتنا سا فرق ہے! ایک طرف صرف اپنے حقوق کی بات ہے، دوسری طرف اپنے علاوہ دوسرے کا خیال بھی.
تھوڑا سا احساس، چند میٹھے بول، اور زندگی کتنی آسان ہو جائے۔۔۔

الفاظ


*"الفاظ"*

*"الفاظ" کی اپنی ہی ایک دنیا ہوتی ہے۔ ہر "لفظ" اپنی ذمہ داری نبھاتا ہے،*
*کچھ لفظ "حکومت" کرتے ہیں*

*کچھ "غلامی"*

*کچھ لفظ "حفاظت" کرتے ہیں*

*اور کچھ "وار"۔*

*ہر لفظ کا اپنا ایک مکمّل وجود ہوتا ہے ۔ جب سے میں نے لفظوں کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ سمجھنا شروع کیا،*

*تو سمجھ آیا ۔۔۔۔!!*

*لفظ صرف معنی نہیں رکھتے،*

*یہ تو دانت رکھتے ہیں۔ ۔ ۔ جو کاٹ لیتے ہیں*

*یہ ہاتھ رکھتے ہیں،*
*جو "گریبان" کو پھاڑ دیتے ہیں*

*یہ پاؤں رکھتے ہیں،*
*جو"ٹھوکر" لگا دیتے ہیں*

*اور ان لفظوں کے ہاتھوں میں "لہجہ" کا اسلحہ تھما دیا جائے،*
*تو یہ وجود کو "چھلنی" کرنے پر بھی قدرت رکھتے ہیں۔ ۔ ۔*

*اپنے لفظوں کے بارے میں "محتاط" ہو جاؤ،*
*انہیں ادا کرنے سے پہلے سوچ لو کہ یہ کسی کے "وجود' کو سمیٹیں گے*
*یا کرچی کرچی بکھیر دیں گے*

*کیونکہ*

*یہ تمہاری "ادائیگی" کے غلام ہیں اور تم ان کے بادشاہ*

*اور "بادشاہ" اپنی رعایا کا ذمہ دار ہوتا ہے*
*اور اپنے سے "بڑے بادشاہ" کو جواب دہ بھی ...*

Wednesday, June 17, 2020

डर के आगे जीत है


जंगल मे एक साँप अपने ज़हर की तारीफ़ कर रहा था कि मेरा डसा पानी भी नहीं माँगता! पास बैठे मेंढक उसका मज़ाक उड़ाते हुए कहा कि लोग तेरे खौफ से मरते हैं, ज़हर से नहीं....

दोनों की बहस मुकाबले में बदल गई अब यह तय हुआ कि किसी इंसान को साँप छुप कर काटेगा और मेंढक फुदककर सामने आएगा और दूसरा ये कि इंसान को मेंढक काटेगा और साँप फन उठाकर सामने आएगा...
तभी इतने में एक राहगीर आता दिखाई दिया उसको साँप ने छुप के काटा और टांगों के बीच से मेंढक फुदक के निकला, राहगीर मेंढक देख के ज़ख़्म को खुजाते हुए चला गया ये सोचकर कि मेंढक ही तो है और उसे कुछ नहीं हुआ.....

अब दुसरे राहगीर को मेंढक ने छुप के काटा और साँप फन फैलाकर सामने आ गया वह राहगीर दहशत के मारे जमीन पर गिर गया और उसने वहीं दम तोड़ दिया....

इसी तरह दुनिया में हर रोज़ हज़ारों इंसान मरते हैं, जिनको अलग-अलग बीमारियां होती हैं, कितने तो बगैर बीमारी के ही मर जाते हैं....

अब आप देखिए दूसरी मौत के मुक़ाबले कोरोना से मरने वालों की संख्या बहुत ही कम है, दोस्तों मेहरबानी करके सोशल मीडिया पर दहशत व मायूसी ना फैलाएं....

मौत एक सच है ,हर हाल में आनी है!

लेकिन एहतियात (Precaution)ज़रूरी है! खौफ को खुद से दुर रखें,खौफ और मायूसी से इंसान टूट जाता है! फिर उसका किसी भी बीमारी से लडना आसान नही !

कोरोना से बहुत से लोग ठीक हो चुके हैं और हो भी रहे हैं मौत उसकी आती है जिसके ज़िन्दगी के दिन पूरे हो चुके होते हैं!

 खौफ को दिमाग में बिठाकर मौत से पहले अपनी ज़िन्दगी को मौत से बदतर ना करें जीने की चाहत अपने आप में पैदा करेंगे तो कोई मुश्किल कोई परेशानी आपका कुछ नही बिगाड सकती.

*बस लापरवाही न करें.*

Friday, June 12, 2020

مرد کا ایک درجہ عورت سے زیادہ کیوں




*"مرد کا ایک درجہ عورت سے زیادہ کیوں؟ "*
ایک دفعہ راستے میں رات اور شدید بارش ۔ ساتھ ہی ٹائر پنکچر ہوگیا ۔ سناٹا اور نومبر کی سرد رات.
گاڑی ایک سائیڈ پر روکی.سات سالہ ارسل بھی بابا کے ساتھ ٹائر بدلنے اترا ۔اور برستی بارش میں ٹارچ تھامے کھڑا تھا ۔ آپی چھوٹو اور مما گاڑی کے اندر گرم ہیٹر آن کئیے بیٹھی تھیں ۔چھتری نہ ہونے کی وجہ سے ارسل بھی بابا کے ساتھ مکمل بھیگ چکا تھا ۔
ہم دھندلائے شیشوں سے ان دونوں کو سردی میں بھیگتا دیکھ رہے تھے ۔ آپی جو حفظ کے دوران جب بھی مردوں کے ایک درجہ آگے ہونے والی آیت پڑھتی تو سوال کیا کرتی .
مما اللہ نے ہمارا ایک درجہ کم کیوں رکھا ؟
مما کئی مثالوں سے سمجھاتیں مگر ننھا ذہن اٹکا ہوا تھا ۔
اسوقت بھائی کو بھیگتے دیکھ کر بولی مما اسے ٹھنڈ لگ جائے گی نا.
مما بولیں ۔۔۔ وہ جو آپ پوچھا کرتی ہیں نا کہ ۔۔ مما مردوں کو اللہ نے ایک درجہ کیوں زیادہ دیا ہے اور ہمیں کیوں ایک درجہ کم دیا ہے کیا عورت کمتر ہے ؟
تو دیکھو یہ ایک درجہ زیادہ ہی ہے جو ایک سات سالہ بھائی باہر برستی بارش میں تمہیں اندر بٹھا کر گیا کہ کہیں تمہیں سردی نہ لگ جائے ۔خود سردی میں بھیگ رہا ہے .
مگر نہ ہی اسنے آکر کہا کہ مما آپ باہر ائیں, نہ ہی آپی کو کہا کہ آپ بڑی ہو باہر آو ۔
یہ ایک درجہ کم ہی ہے کہ ہم اسوقت گرم ہیٹر چلائے اندر گاڑی میں بیٹھے ہیں اور ہمہارے حصے کی تکلیف بابا اور بھائی اٹھا رہے ہیں ۔
تو بس یاد رکھیں بیٹا کہ اللہ نے مرد کوایک درجہ بڑھا کر عورت کو نجانے کتنی تکالیف سے نجات دے دی ہے ۔ جب تک عورت اس ایک درجہ کو خوشی سے قبول کرتی رہے گی وہ ایسے ہی مرد کو اپنے سامنے باپ ، بھائی ، شوہر اور بیٹے کی صورت میں ڈھال بنا ہوا پائےگی 

🌹🌷

مشہور صحابہ اکرامؓ کا مختصر تعارف



*26 مشہور صحابہ اکرامؓ کا مختصر تعارف اور ان سے مروی احادیثِ نبوی کی تعداد*

بہت قیمتی دینی معلومات ہیں
 
*( 1 ) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ:* 

نام :         عبداللہ
کنیت :      ابو بکر
لقب :       صدیق و عتیق
ولادت :     50 قبل ھجری
والد :        عثمان
والدہ :       سلمی
پیشہ :       تجارت و سیاست
وفات :       سن 13 ھجری
مرویات :    142

*( 2 ) حضرت عمر رضی الله عنہ:* 

نام :           عمر
کنیت :        ابو عبداللہ
لقب :          فاروق
ولادت :       40 قبل ھجری
والد :          خطاب بن نفیل
والدہ :        ختمہ بنت ہشام
پیشہ :        جہاد و سیاست
وفات :       23 ھجری
مرویات :     537

*( 3 ) حضرت عثمان رضی الله عنہ:* 

نام :           عثمان
کنیت :        ابو عمرو و ابو عبداللہ
لقب :          ذوالنورین
ولادت :       47 قبل ھجری
والد :          عفان
والدہ :         اروی
پیشہ :          تجارت
وفات :         35 ھجری
مرویات :       146

*( 4) حضرت علی رضی الله عنہ:* 

نام :            علی رضی الله عنہ
کنیت :         ابوالحسن و ابواتراب
لقب :           اسداللہ و مرتضی
ولادت :        23 قبل نبوت
والد :            عمران , یعنی ابو طالب
والدہ :          فاطمہ
پیشہ :          جہاد
وفات :          40 ھجری
مرویات :       536

*( 5 ) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ:* 

نام :           عبداللہ
کنیت :        ابو عبدالرحمان
لقب :          خادم رسول
ولادت :       31 قبل ھجری
والد :           مسعود
والدہ :         ام عبد
پیشہ :         درس تدریس
وفات :        32 ھجری
مرویات :     848

*( 6 )حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہ:* 

نام :           عبداللہ
کنیت :        ابوالعباس
لقب :          حبرالامہ و ترجمان القرآن
ولادت :       3 قبل ھجری
والد :          عباس
والدہ :        ام الفضل
پیشہ :        درس و تدریس
وفات :        67 یا 68 ھجری
مرویات :     1660

*( 7 ) حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ:* 

نام :           عبداللہ
کنیت :        ابو عبدالرحمن
لقب :          فقیہ امت
ولادت :       11 قبل ھجری
والد :           عمر فاروق
والدہ :         زینب بنت مظعون
پیشہ :         تدریس و خطابت
وفات :        73 یا 74 ھجری
مرویات :     2630

*( 8 ) حضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ:* 

نام :           عبداللہ
کنیت :        ابو محمد و ابو عبدالرحمان
لقب :          کاتب حدیث و فاضل حدیث
ولادت :       7 قبل ھجری
والد :          عمرو بن عاص
والدہ :        ریطہ بنت منبہ
پیشہ :        دعوت و تبلیغ
وفات :       63 یا 65 ھجری
مرویات :    760

*( 9 ) حضرت جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ:* 

نام :          جابر
کنیت :       ابو عبداللہ
لقب :         صاحب الشجرہ
ولادت :      19 یا 20 قبل ھجری
والد :         عبداللہ بن عمرو
پیشہ :        درس و تدریس
وفات :        74 ھجری
مرویات :    1540

*( 10 ) حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ:* 

نام :            انس
کنیت :        ابو حمزہ و ابو ثمامہ
لقب :          خادم رسول
والد :          عاءل بن نضر
والدہ :        ام سلیم
پیشہ :        فتوی نویسی
وفات :        93 ھجری
مرویات :     2286

*( 11 ) حضرت ابو ھریرہ رضی الله عنہ:* 

نام :            عبدالرحمان
کنیت :        ابو ھریرہ
لقب :          فقیہ امت و حافظ حدیث
ولادت :       19 قبل ھجری
وفات :        59 ھجری
والد :          عامر بن عبدوی
پیشہ :        اشاعت حدیث
مرویات :     5374

*( 12 ) ابو سعید خدری رضی الله عنہ:* 

نام :            سعد
کنیت :        ابو سعید خدری
لقب :          صاحب الشجرہ
ولادت :       12 قبل ھجری
والد :          مالک بن سنان
والدہ :        انیسہ بنت ابو حارثہ
پیشہ :        درس و تدریس
وفات :       74 ھجری
مرویات :    1170

*( 13 ) حضرت عائشہ رضی الله عنہا:* 

نام :           عائشہ
کنیت :        ام عبداللہ
لقب :          صدیقہ
ولادت :       9 قبل ھجری
والد :          ابو بکر صديق
والدہ :        ام رومان بنت عامر
پیشہ :        دعوت و تبلیغ
وفات :       58  ھجری
مرویات :    2210

*( 14 ) حضرت ابو امامہ باھلی رضی الله عنہ:* 

نام :           صدی
کنیت :        ابو امامہ
لقب :          صاحب الشجرہ
ولادت :       21 قبل ھجری
والد :          عجلان بن وھب
پیشہ :        جہاد
وفات :        86 ھجری
مرویات :     250

*( 15 ) حضرت ابو موسی اشعری رضی الله عنہ:* 

نام :           عبداللہ
کنیت :       ابو موسی
لقب :         حافظ حدیث
والد :         قیس بن مسلیم
والدہ :       ظبیہ بنت وھب
پیشہ :       تجارت و جہاد
وفات :      44 ھجری
مرویات :   360

*( 16 ) حضرت سعد بن ابو وقاص رضی الله عنہ:* 

نام :          سعد
کنیت :      ابو اسحاق
لقب :        فاتح عراق
ولادت :     25 قبل ھجری
والد :        ابو وقاص
والدہ :       حمنہ بنت سفیان
پیشہ: جہاد
وفات :       55 ھجری
مرویات :     271

*( 17 ) حضرت عقبہ بن عامر رضی الله عنہ:* 

نام :           عقبہ
کنیت :        ابو حماد
لقب :          شاعر اسلام
والد :         عامر جھنی
پیشہ :        خطابت و شاعری
وفات :       58 ھجری
مرویات :     55

*( 18 ) حضرت میمونہ بنت حارث رضی الله عنہ:* 

نام :           میمونہ
کنیت :        ام عبداللہ
لقب :          ام المومنین
ولادت :       23 یا 29 قبل ھجری
والد :          حارث بن حزن
والدہ :        ھندہ بنت حزف
پیشہ :        دعوت و تبلیغ
وفات :       51 ھجری
مرویات :     10

*( 19 ) حضرت ابو قتادہ انصاری رضی الله عنہ:* 

نام :           حارث
کنیت :       ابو قتادہ
لقب :         فارس رسول الله
ولادت :      16 قبل ھجری
والد :        ربعی بن سلامہ
والدہ :       کبشہ بنت مظہر
پیشہ :       جہاد
وفات :      54 ھجری
مرویات :   170

*( 20 ) حضرت حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ:* 

نام :           حذیفہ
کنیت :       ابو عبداللہ
لقب :         صاحب سر رسول الله
والد :         حسیل یعنی یمان
والدہ :       رباب بنت کعب
پیشہ :       درس و تدریس
وفات :      36 ھجری
مرویات :   223

*( 21 ) حضرت سہل بن سعد رضی الله عنہ:* 

نام :         سہل
کنیت :      ابو عباس
لقب :        ساعدی
ولادت :     6 قبل ھجری تقریبا
والد :        سعد بن مالک
پیشہ :      درس و تدریس
وفات :      100 ھجری
مرویات :   10 تقریبا

*( 22 ) حضرت عبادہ بن صامت رضی الله عنہ:* 

نام :           عبادہ
کنیت :        ابوالولید
لقب :          قاری القرآن
ولادت :       39 قبل ھجری
والد :          صامت انصاری
والدہ :        قرةالعین بنت عبادہ
پیشہ :        دعوت و کتابت
وفات :        34 ھجری
مرویات :     181

*( 23 ) حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ:* 

کنیت :         ابو سلیمان
لقب :           بصری
ولادت :       8 قبل ھجری
والد :           جندب بن ھلال
پیشہ :         جہاد
وفات :        54 یا 58 ھجری
مرویات :     130

*( 24 ) حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ:* 

نام :          عباس
کنیت :       ابو الفضل
لقب :         ساقی حرمین
ولادت :      56  قبل ھجری
والد :        عبدالمطلب
والدہ :       نتیلہ بنت جناب
پیشہ :       دعوت و تبلیغ
وفات :      32 ھجری
مرویات :    35

*( 25 ) حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ:* 

نام :          زید
کنیت :       ابو خارجہ
لقب :         مفتی مدینہ
ولادت :      12 قبل ھجری
والد :         ثابت بن ضحاک
والدہ :        نوار بنت مالک
پیشہ :        قضاء و فیصلہ
وفات :       45 ھجری
مرویات :    92

*( 26 ) حضرت معاذ بن جبل رضی الله عنہ:* 

نام :           معاذ
کنیت :        ابو عبدالرحمان
لقب :          امام الفقہاء
ولادت :      18 قبل ھجری
والد :         جبل بن عمرو
والدہ :        ھندہ بنت سہل
پیشہ :        سیاست و یدرس
 و تدریس
وفات :       17 یا 18 ھجری
مرویات :     157

 *_یہ قیمتی انفارمیشن اپنے دوست احباب کے ساتھ ضرور شیئر کیجئے۔ جزاکم اللّہ_**_26 مشہور صحابہ اکرامؓ کا مختصر تعارف اور ان سے مروی احادیثِ نبوی کی تعداد- بہت قیمتی دینی معلومات:_*
 
*( 1 ) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ:* 

نام :         عبداللہ
کنیت :      ابو بکر
لقب :       صدیق و عتیق
ولادت :     50 قبل ھجری
والد :        عثمان
والدہ :       سلمی
پیشہ :       تجارت و سیاست
وفات :       سن 13 ھجری
مرویات :    142

*( 2 ) حضرت عمر رضی الله عنہ:* 

نام :           عمر
کنیت :        ابو عبداللہ
لقب :          فاروق
ولادت :       40 قبل ھجری
والد :          خطاب بن نفیل
والدہ :        ختمہ بنت ہشام
پیشہ :        جہاد و سیاست
وفات :       23 ھجری
مرویات :     537

*( 3 ) حضرت عثمان رضی الله عنہ:* 

نام :           عثمان
کنیت :        ابو عمرو و ابو عبداللہ
لقب :          ذوالنورین
ولادت :       47 قبل ھجری
والد :          عفان
والدہ :         اروی
پیشہ :          تجارت
وفات :         35 ھجری
مرویات :       146

*( 4) حضرت علی رضی الله عنہ:* 

نام :            علی رضی الله عنہ
کنیت :         ابوالحسن و ابواتراب
لقب :           اسداللہ و مرتضی
ولادت :        23 قبل نبوت
والد :            عمران , یعنی ابو طالب
والدہ :          فاطمہ
پیشہ :          جہاد
وفات :          40 ھجری
مرویات :       536

*( 5 ) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ:* 

نام :           عبداللہ
کنیت :        ابو عبدالرحمان
لقب :          خادم رسول
ولادت :       31 قبل ھجری
والد :           مسعود
والدہ :         ام عبد
پیشہ :         درس تدریس
وفات :        32 ھجری
مرویات :     848

*( 6 )حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہ:* 

نام :           عبداللہ
کنیت :        ابوالعباس
لقب :          حبرالامہ و ترجمان القرآن
ولادت :       3 قبل ھجری
والد :          عباس
والدہ :        ام الفضل
پیشہ :        درس و تدریس
وفات :        67 یا 68 ھجری
مرویات :     1660

*( 7 ) حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ:* 

نام :           عبداللہ
کنیت :        ابو عبدالرحمن
لقب :          فقیہ امت
ولادت :       11 قبل ھجری
والد :           عمر فاروق
والدہ :         زینب بنت مظعون
پیشہ :         تدریس و خطابت
وفات :        73 یا 74 ھجری
مرویات :     2630

*( 8 ) حضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ:* 

نام :           عبداللہ
کنیت :        ابو محمد و ابو عبدالرحمان
لقب :          کاتب حدیث و فاضل حدیث
ولادت :       7 قبل ھجری
والد :          عمرو بن عاص
والدہ :        ریطہ بنت منبہ
پیشہ :        دعوت و تبلیغ
وفات :       63 یا 65 ھجری
مرویات :    760

*( 9 ) حضرت جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ:* 

نام :          جابر
کنیت :       ابو عبداللہ
لقب :         صاحب الشجرہ
ولادت :      19 یا 20 قبل ھجری
والد :         عبداللہ بن عمرو
پیشہ :        درس و تدریس
وفات :        74 ھجری
مرویات :    1540

*( 10 ) حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ:* 

نام :            انس
کنیت :        ابو حمزہ و ابو ثمامہ
لقب :          خادم رسول
والد :          عاءل بن نضر
والدہ :        ام سلیم
پیشہ :        فتوی نویسی
وفات :        93 ھجری
مرویات :     2286

*( 11 ) حضرت ابو ھریرہ رضی الله عنہ:* 

نام :            عبدالرحمان
کنیت :        ابو ھریرہ
لقب :          فقیہ امت و حافظ حدیث
ولادت :       19 قبل ھجری
وفات :        59 ھجری
والد :          عامر بن عبدوی
پیشہ :        اشاعت حدیث
مرویات :     5374

*( 12 ) ابو سعید خدری رضی الله عنہ:* 

نام :            سعد
کنیت :        ابو سعید خدری
لقب :          صاحب الشجرہ
ولادت :       12 قبل ھجری
والد :          مالک بن سنان
والدہ :        انیسہ بنت ابو حارثہ
پیشہ :        درس و تدریس
وفات :       74 ھجری
مرویات :    1170

*( 13 ) حضرت عائشہ رضی الله عنہا:* 

نام :           عائشہ
کنیت :        ام عبداللہ
لقب :          صدیقہ
ولادت :       9 قبل ھجری
والد :          ابو بکر صديق
والدہ :        ام رومان بنت عامر
پیشہ :        دعوت و تبلیغ
وفات :       58  ھجری
مرویات :    2210

*( 14 ) حضرت ابو امامہ باھلی رضی الله عنہ:* 

نام :           صدی
کنیت :        ابو امامہ
لقب :          صاحب الشجرہ
ولادت :       21 قبل ھجری
والد :          عجلان بن وھب
پیشہ :        جہاد
وفات :        86 ھجری
مرویات :     250

*( 15 ) حضرت ابو موسی اشعری رضی الله عنہ:* 

نام :           عبداللہ
کنیت :       ابو موسی
لقب :         حافظ حدیث
والد :         قیس بن مسلیم
والدہ :       ظبیہ بنت وھب
پیشہ :       تجارت و جہاد
وفات :      44 ھجری
مرویات :   360

*( 16 ) حضرت سعد بن ابو وقاص رضی الله عنہ:* 

نام :          سعد
کنیت :      ابو اسحاق
لقب :        فاتح عراق
ولادت :     25 قبل ھجری
والد :        ابو وقاص
والدہ :       حمنہ بنت سفیان
پیشہ: جہاد
وفات :       55 ھجری
مرویات :     271

*( 17 ) حضرت عقبہ بن عامر رضی الله عنہ:* 

نام :           عقبہ
کنیت :        ابو حماد
لقب :          شاعر اسلام
والد :         عامر جھنی
پیشہ :        خطابت و شاعری
وفات :       58 ھجری
مرویات :     55

*( 18 ) حضرت میمونہ بنت حارث رضی الله عنہ:* 

نام :           میمونہ
کنیت :        ام عبداللہ
لقب :          ام المومنین
ولادت :       23 یا 29 قبل ھجری
والد :          حارث بن حزن
والدہ :        ھندہ بنت حزف
پیشہ :        دعوت و تبلیغ
وفات :       51 ھجری
مرویات :     10

*( 19 ) حضرت ابو قتادہ انصاری رضی الله عنہ:* 

نام :           حارث
کنیت :       ابو قتادہ
لقب :         فارس رسول الله
ولادت :      16 قبل ھجری
والد :        ربعی بن سلامہ
والدہ :       کبشہ بنت مظہر
پیشہ :       جہاد
وفات :      54 ھجری
مرویات :   170

*( 20 ) حضرت حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ:* 

نام :           حذیفہ
کنیت :       ابو عبداللہ
لقب :         صاحب سر رسول الله
والد :         حسیل یعنی یمان
والدہ :       رباب بنت کعب
پیشہ :       درس و تدریس
وفات :      36 ھجری
مرویات :   223

*( 21 ) حضرت سہل بن سعد رضی الله عنہ:* 

نام :         سہل
کنیت :      ابو عباس
لقب :        ساعدی
ولادت :     6 قبل ھجری تقریبا
والد :        سعد بن مالک
پیشہ :      درس و تدریس
وفات :      100 ھجری
مرویات :   10 تقریبا

*( 22 ) حضرت عبادہ بن صامت رضی الله عنہ:* 

نام :           عبادہ
کنیت :        ابوالولید
لقب :          قاری القرآن
ولادت :       39 قبل ھجری
والد :          صامت انصاری
والدہ :        قرةالعین بنت عبادہ
پیشہ :        دعوت و کتابت
وفات :        34 ھجری
مرویات :     181

*( 23 ) حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ:* 

کنیت :         ابو سلیمان
لقب :           بصری
ولادت :       8 قبل ھجری
والد :           جندب بن ھلال
پیشہ :         جہاد
وفات :        54 یا 58 ھجری
مرویات :     130

*( 24 ) حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ:* 

نام :          عباس
کنیت :       ابو الفضل
لقب :         ساقی حرمین
ولادت :      56  قبل ھجری
والد :        عبدالمطلب
والدہ :       نتیلہ بنت جناب
پیشہ :       دعوت و تبلیغ
وفات :      32 ھجری
مرویات :    35

*( 25 ) حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ:* 

نام :          زید
کنیت :       ابو خارجہ
لقب :         مفتی مدینہ
ولادت :      12 قبل ھجری
والد :         ثابت بن ضحاک
والدہ :        نوار بنت مالک
پیشہ :        قضاء و فیصلہ
وفات :       45 ھجری
مرویات :    92

*( 26 ) حضرت معاذ بن جبل رضی الله عنہ:* 

نام :           معاذ
کنیت :        ابو عبدالرحمان
لقب :          امام الفقہاء
ولادت :      18 قبل ھجری
والد :         جبل بن عمرو
والدہ :        ھندہ بنت سہل
پیشہ :        سیاست و یدرس
 و تدریس
وفات :       17 یا 18 ھجری
مرویات :     157


 یہ قیمتی معلومات اپنے دوست احباب کے ساتھ ضرور شیئر کیجئے۔ جزاکم اللّہ خیر

Wednesday, June 5, 2019

عید مبارک

      السلام علیکم و رحمته إله وبركاته

آپ کو آپ کی فیملی کو
میری اور میری فیملی کی طرف سے
 عید سعید کے پر مسرت موقع پر
قلب صافى سے

  *عید مبارک*

 اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ
  یہ عید آپ اور آپ کے اہل خانہ کیلئے
خوشیوں کا پیغام، رزق میں بیشی، صحت  تندرستگی، ترقی، دائمی خوشحالی، امن،
سکون ریز اور ایمان میں تقويت کا باعث بنے۔
آمین

Monday, October 1, 2018

ईश्वर कौन है?

★ईश्वर और उसका मार्गदर्शन
◆आज लोग ईश्वर का नाम अवश्य लेते हैं,
उसकी पूजा भी करते हैं, परन्तु बड़े खेद की बात है
कि उसे पहचानते बहुत कम लोग हैं।
ईश्वर कौन है?
ईश्वर समस्त सृष्टि का अकेला स्रष्टा, पालनहार और
शासक है। उसी ने पृथ्वी, आकाश, चन्द्रमा, सूर्य,
सितारे और पृथ्वी पर रहने वाले सारे इंसानों एवं
प्रत्येक जीव-जन्तुओं को पैदा किया। न उसे खाने-
पीने और सोने की आवश्यकता पड़ती है, न उसके पास
वंश है और न ही उसका कोई साझी।
क़ुरआन ईश्वर का इस प्रकार परिचय कराता है—
‘‘कहो वह अल्लाह है, यकता है, अल्लाह सब से
निस्पृह है और सब उसके मुहताज हैं, न उसकी कोई
संतान है और न वह किसी की संतान है और कोई
उसका समकक्ष नहीं है।’’ (क़ुरआन, 112:1-4)
इस सूरः में ईश्वर के पांच मूल गुण बताए गए हैं—
(1) ईश्वर केवल एक है, (2)
उसको किसी की आवश्यकता नहीं पड़ती, (3)
उसकी कोई संतान नहीं, (4) उसके माता-पिता नहीं एवं
(5) उसका कोई साझीदार नहीं।
अथर्ववेद (13-4-20) में है—
‘‘तमिदं निगतं सहः स एष एक एकवृदेक एव’’
किन्तु वह सदा एक अद्वितीय ही है। उससे भिन्न
दूसरा कोई भी नहीं। ...वह अपने काम में
किसी की सहायता नहीं लेता, क्योंकि वह
सर्वशक्तिमान है।
(स्वामी दयानन्द सरस्वती, दयानन्द ग्रंथमाला,
पृ॰-338)
और हिन्दू वेदांत का ब्रह्मसूत्र यह है—
एकम् ब्रह्म द्वितीय नास्तेः नहे ना नास्ते किंचन।
ईश्वर एक ही है दूसरा नहीं है, नहीं है, तनिक
भी नहीं है।
क्या ईश्वर अवतार लेता है?
बड़े दुख की बात है कि जिस ईश्वर की कल्पना हमारे
हृदय में स्थित है, अवतार की आस्था ने
उसकी महिमा को खंडित कर दिया। आप स्वयं सोचें
कि जब ईश्वर का कोई साझीदार नहीं और न उसे
किसी चीज़ की ज़रूरत पड़ती है, तो उसे मानव रूप धारण
करने की क्या आवश्यकता पड़ी? श्रीमद भागवत
गीता (7/24) में कहा गया है—
अव्यक्तं व्यक्तिमापन्नं मन्यन्ते मामबुद्धयः
परं भावमजानन्तो ममाव्ययमनुत्तमम् ।।
बुद्धिहीन पुरुष मेरे अनुत्तम अविनाशी परम भाव को न
जानते हुए मन-इन्द्रियों से परे मुझ सच्चिदानन्द
परमात्मा को मनुष्य की भांति जन्मकर व्यक्ति भाव
को प्राप्त हुआ मानते हैं। (गीता-तत्व विवेचनी टीका,
पृष्ठ-360)
और यजुर्वेद 32/3 में इस प्रकार है—
न तस्य प्रतिमा अस्ति यस्य नाम महदयश।
‘जिस प्रभु का बड़ा प्रसिद्ध यश है उसकी कोई
प्रतिमा नहीं’। धार्मिक पक्षपात से अलग होकर आप
स्वयं सोचें कि क्या ऐसे महान ईश्वर के संबंध में यह
कल्पना की जा सकती है कि वह जब इन्सानों के
मार्गदर्शन का संकल्प करे, तो स्वयं ही अपने बनाए
हुए किसी इन्सान का वीर्य बन जाए, अपने ही बनाए
हुए किसी महिला के गर्भाशय की अंधेरी कोठरी में
प्रवेश होकर 9 महीना तक वहां क़ैद रहे और
उत्पत्ति के विभिन्न चरणों से गुज़रता रहे, ख़ून और
गोश्त में मिलकर पलता-बढ़ता रहे फिर जन्म ले और
बाल्यावस्था से किशोरवस्था को पहुंचे। सच बताइए
क्या इससे उसके ईश्वरत्व में बट्टा न लगेगा?
ईश्वर मनुष्य नहीं हो सकता, क्योंकि ईश्वर एवं
मनुष्य के गुण भिन्न-भिन्न हैं। यद्यपि ईश्वर को हम
सर्वशक्तिमान मानकर चलते हैं, परन्तु इसका अर्थ
यह तो नहीं कि ईश्वर ईश्वरत्व से बदलकर
मनुष्यत्व में परिणीत हो जाए।
प्रश्न यह उठता है कि जब ईश्वर अवतार नहीं लेता,
तो उसने मानव का मार्गदर्शन कैसे किया?
इसका उत्तर जानने के लिए यदि आप अवतार
का सही अर्थ समझ लें, तो आपको स्वयं पता चल
जाएगा कि ईश्वर ने मानव का मार्गदर्शन कैसे किया।
अवतार का अर्थ—
श्री राम शर्मा जी कल्किपुराण के पृष्ठ 278 पर
अवतार की परिभाषा करते हैं—
‘‘समाज की गिरी हुई दशा में उन्नति की ओर ले जाने
वाला महामानव नेता।’’
अर्थात् मानव में से महान नेता जिनको ईश्वर मानव
मार्गदर्शन के लिए चुनता है।
डॉ॰ एम॰ ए॰ श्रीवास्तव लिखते हैं—
‘‘अवतार का अर्थ यह कदापि नहीं है कि ईश्वर स्वयं
धरती पर सशरीर आता है, बल्कि सच्चाई यह है
कि वह अपने पैग़म्बर और अवतार भेजता है।’’
(हज़रत मुहम्मद (सल्ल॰) और भारतीय धर्मग्रंथ,
पृष्ठ 5)
ज्ञात यह हुआ कि ईश्वर की ओर से ईश-ज्ञान लाने
वाला मनुष्य ही होता है, जिसे संस्कृत में अवतार,
अंग्रेज़ी में प्राफेट और अरबी में रसूल (ईश-दूत) कहते
हैं।
ईश्वर ने मानव-मार्गदर्शन के लिए हर देश और हर
युग में अनुमानतः 1,24,000 ईशदूतों को भेजा।
क़ुरआन उन्हें रसूल या नबी कहता है। वह मनुष्य
ही होते थे, उनमें ईश्वरीय गुण कदापि नहीं होता था,
उनके पास ईश्वर का संदेश आकाशीय दूतों के माध्यम
से आता था तथा उनको प्रमाण के रूप में
चमत्कारियां भी दी जाती थीं।
लेकिन जब इन्सानों ने उनमें असाधारण गुण देखकर उन
पर श्रद्धा भरी नज़र डाली, तो किसी समूह ने उन्हें
भगवान बना लिया, किसी ने अवतार का सिद्धांत
बना लिया, जबकि किसी ने उन्हें ईश्वर का पुत्र समझ
लिया, हालांकि उन्होंने उसी के खंडन और विरोध में
अपना पूरा जीवन बिताया था।
इस प्रकार हर युग में संदेष्टता आते रहे और लोग
अपने स्वार्थ के लिए उनकी शिक्षाओं में परिवर्तन
करते रहे, यहां तक कि जब सातवीं शताब्दी ईसवी में
सामाजिक, भौतिक और सांस्कृतिक उन्नति ने
सारी दुनिया को एक इकाई बना दिया, तो ईश्वर ने हर
देश में अलग-अलग संदेष्टा भेजने के क्रम को बन्द
करते हुए अरब में महामान्य हज़रत मुहम्मद (सल्ल॰)
को भेजा और उन पर ईश्वरीय संविधान के रूप में
क़ुरआन का अवतरण किया, यह ग्रंथ चैदह
सौ शताब्दी पूर्व अवतरित हुआ था, लेकिन आज तक
पूर्ण रूप में सुरक्षित है। एक ईसाई विद्वान सर
विलियम म्यूर कहते हैं—
‘‘संसार में क़ुरआन के अतिरिक्त कोई ऐसा ग्रंथ
नहीं पाया जाता, जिसका अक्षर एवं शैली बारह
शताब्दी गुज़रने के बावजूद पूर्ण रूप में सुरक्षित हो।’’
(लाइफ़ ऑफ़ मुहम्मद)
इस्लाम कब से?
आज अधिकांश लोगों में यह भ्रम प्रचलित है
कि इस्लाम के संस्थापक हज़रत मुहम्मद (सल्ल॰) हैं।
यद्यपि सत्य यह है कि हज़रत मुहम्मद (सल्ल॰) कोई
नया धर्म लेकर नहीं, बल्कि उसी धर्म के अन्तिम
संदेष्टा थे, जो धर्म ईश्वर ने समस्त मानवजाति के
लिए चुना था। हज़रत मुहम्मद (सल्ल॰) इस्लाम के
संस्थापक नहीं, बल्कि उसके अंतिम संदेष्टा हैं।
यही वह धर्म है जिसकी शिक्षा मनुष्य को दी गई
थी। सबसे पहले मानव आदम हैं जिनकी रचना ईश्वर ने
बिना माता-पिता के की थी और उनके बाद
उनकी पत्नी हव्वा को उत्पन्न किया था।
इन्हीं दोनों पति-पत्नी से मनुष्य के उत्पत्ति का आरंभ
हुआ, जिनको कुछ लोग मनु और सतरोपा कहते हैं,
तो कुछ लोग ऐडम और ईव। जिनका विस्तारपूर्वक
उल्लेख पवित्र क़ुरआन (2/30-38) तथा भविष्य
पुराण प्रतिसर्ग पर्व (खंड 1 अध्याय 4) और
बाइबल (उत्पत्ति 2/6-25) और दूसरे अनेक
ग्रंथों में किया गया है। ईश्वर ने हर युग में प्रत्येक
समुदाय को उनकी अपनी ही भाषा में शिक्षा प्रदान
किया, (सूरः इब्राहीम, 14:4)। उसी शिक्षा के
अनुसार जीवन-यापन का नाम इस्लाम था, जिसका नाम
प्रत्येक संदेष्टा अपनी-अपनी भाषा में रखते थे जैसे
संस्कृत में नाम था ‘सर्व समर्पण धर्म’
जिसका अरबी भाषा में अर्थ होता है ‘‘इस्लाम
धर्म’’।
ज्ञात यह हुआ कि मानव का धर्म आरंभ से एक
ही रहा है, परन्तु लोगों ने अपने-अपने गुरुओं के नाम से
अलग-अलग धर्म बना लिया और विभिन्न धर्मों में
विभाजित हो गए।
आज हमारी सबसे बड़ी आवश्यकता यही है कि हम
अपने वास्तविक ईश्वर की ओर पलटें, जिसका संबंध
किसी विशेष देश, जाति या वंश से नहीं, बल्कि वह
सम्पूर्ण संसार का स्रष्टा, अन्नदाता और
पालनकर्ता है। ईश्वर ही ने हम सबको पैदा किया,
वही हमारा पालन-पोषण कर रहा है, तो स्वाभाविक
तौर पर हमें केवल उसी की पूजा करनी चाहिए,
इसी तथ्य का समर्थन प्रत्येक धार्मिक ग्रंथों ने
भी किया है। इस्लाम भी यही आदेश देता है कि मात्र
एक ईश्वर की पूजा की जाए, इस्लाम की दृष्टि में
स्वयं मुहम्मद (सल्ल॰)
की पूजा करना अथवा आध्यात्मिक चिंतन के बहाने
किसी चित्र का सहारा लेना महापाप है। सुनो अपने
ईश्वर की—
‘‘लोगो! एक मिसाल दी जाती है, ध्यान से सुनो! जिन
पूज्यों को तुम अल्लाह को छोड़कर पुकारते हो वे सब
मिलकर एक मक्खी भी पैदा करना चाहें तो नहीं कर
सकते। बल्कि यदि मक्खी उनसे कोई चीज़ छीन ले जाए
तो वे उसे छुड़ा भी नहीं सकते। मदद चाहने वाले
भी कमज़ोर और जिनसे मदद चाही जाती है वह
भी कमज़ोर, इन लोगों ने अल्लाह की क़द्र
ही नहीं पहचानी जैसा कि उसके पहचानने का हक़
है।’’ (क़ुरआन, 22:73-