या ब्लॉगचा उद्देश एकाच ठिकाणी सर्व प्रकारच्या उपयुक्त आणि महत्वपूर्ण माहिती प्रदान करणे आहे.या ब्लॉगची सामग्री सोशल मीडियामधून घेतली आहे.
Showing posts with label Deeni Malumat. Show all posts
Showing posts with label Deeni Malumat. Show all posts

Monday, June 7, 2021

*رسولﷺ کی "۱۰ عاداتِ مُبارکہ"،


 *رسولﷺ  کی "۱۰ عاداتِ مُبارکہ"،  آپﷺ  پوری حیات طیبہ بیمار نہ ہوئے۔*


“۰۱”۔  *"صبح جلدی اٹھنا"*


رسول اللہﷺ  صبح بہت جلد اٹھ جایا کرتے تھے بلکہ ایسی کوئ روائت نہیں ملتی کہ آپﷺ کی تہجد بھی کبھی قضاء ہوئ ہو۔ 


☜  سورج نکلنے سے کچھ وقت قبل اور ایک گھنٹہ بعد تک کا وقت آکسیجن سے بھرپور وقت ہوتا ہے۔ 


☜  آج سائنسی تحقیق کی بنیاد پر بھی صحت کے اعتبار سے 24 گھنٹوں میں یہ بہترین وقت ہوتا ہے کہ جس میں آپکو زیادہ سے زیادہ آکسیجن لینے کا موقع ملتا ہے جو کہ آپکی صحتمند زندگی کیلئے ایک بہترین مفید عمل ہے۔


“۰۲”۔  *"آنکھوں کا مساج*


صبح نیند سے اٹھنے کے بعد رسول اللہﷺ آنکھوں کا مساج فرمایا کرتے تھے۔


☜  باڈی کا پورا نظام گیارہ سسٹم پر مشتمل ہوتا ہے۔


☜   نیند سے اٹھنے کے بعد یہ سسٹم بحال ہونے میں 11 سے 12 منٹ لیتا ہے ۔ 


☜   اگر آپ آنکھوں کا مساج کرتے ہیں تو یہ سسٹم 10 سے 15 سیکنڈ میں فوراً بحال ہو جاتا ہے۔


“۰۳”۔  *"بستر پر کچھ دیر بیٹھے رہنا"*


رسولﷺ بستر سے اٹھ کر کچھ دیر بیٹھے رہتے تھے اور معمول تھا کہ 3 دفعہ سورہ اخلاص پڑھتے تھے۔ کہ جس کو پڑھنے میں تقریباً 1 منٹ صرف ہوتا ہے۔ 


☜   آج میڈیکل سائنس بتاتی ہے کہ ہمارے دماغ میں ایک capillary  ہے  کہ جسکے ایک حصے سے دوسرے حصے کیلئے بلڈ کیلئے ایک پل بنتا ہے۔


☜   اس طرح اس پل کے ذریعے سے ہی ہمارے پورے دماغ  کو بلڈ کی سپلائی بحال ہوتی  ہے کہ جہاں سے ہمارے تمام تر اعصاب یعنی پورا جسم کو کنٹرول ہونا ہوتا ہے۔


☜   اگر کوئ شخص صبح بیدار ہونے پر اچانک آٹھ کر چل دے کہ جبکہ ابھی برین میں بلڈ کی سپلائی بحال نہیں ہوئ تو اس شخص کو یہاں برین ہیمریج ہو سکتا ہے یا وہ برین کے کئ دوسرے پیچیدہ  مسائل کا شکار ہو سکتا ہے کہ جس میں اچانک جسم کے کئی حصوں کا مفلوج ہونا (فالج) بھی شامل ہے۔


☜   جبکہ اگر وہ صرف ایک منٹ بیٹھا رہے کہ اسکے دماغ میں بلڈ کی سپلائی بحال ہو سکے تو بہت سے پیچیدہ مسائل سے بچ سکتا ہے۔ 


☜   یہ باقاعدہ ایک سائنس ہے اور اس ایک حدیثِ مبارکہ کے پیچھے بہت سے پروفیسر  ڈاکٹرز کی ریسرچ شامل ہے کہ جس میں غیر مسلم ریسرچرز نے بھی اتفاق کیا ہے کہ ہمیں محمدﷺ  کی اس سنت کے مطابق صبع اٹھنے کے بعد بیڈ پر کچھ دیر بیٹھے رہنا چاہیے۔ 


☜   اسکا فائدہ یہ ہے کہ دماغ پوری طرح سے ایکٹو ہو کر ہمارے جسم کی بھرپور راہنمائ کے قابل ہو جاتا۔


☜    یہ سنت مبارکہ جہاں بہت بڑا آجر و ثواب ہے وہاں صحت کا بہت بڑا راز بھی ہے۔


“۴” ۔  *"قیلولہ کرنا"*


آپﷺ کی عادتِ مبارکہ تھی کہ دوپہر کے کھانے کے بعد ایک گھڑی کیلئے  (20 سے 25 منٹ)  آپﷺ  لیٹ جایا کرتے تھے۔


☜   اسکا فائدہ یہ ہے کہ تقریبا 68% افراد میں جب وہ لنچ کرتے ہیں تو انکا معدہ  تھوڑی مقدار میں الکوحل پیدا کرتا ہے۔


  ☜   ایسے میں اگر انسان چل پھر رہا ہو تو وہ چکرا کر گر سکتا ہے، یا اس پر خمار کی سی کیفیت طاری ہو سکتی ہے۔


 ☜   یہی سبب ہے کہ آپ ہمیشہ دوپہر کے کھانے کے بعد آپنے آپ کو تھوڑا بوجھل سا محسوس کرتے ہیں۔


 ☜   اگر ہم کچھ دیر لیٹ جائیں تو  الکوحل سے پیدا ہونے والے خمار کا ذہن پر زیادہ دباو نہیں آئے گا اور وہ باڈی فنگشنز کیلئے زیادہ فعال رہے گا اور ہم کسی بھی طرح کے حادثے سے بچ سکیں گے۔


☜   اسکے علاوہ بھی اس سنتِ مبارکہ پر عمل نہ کرنے کی صورت میں بہت سے صحت کے مسائل کا خدشہ رہتا ہے۔


☜    چونکہ یہ بات آج تحقیقات سے ثابت شدہ ہے اسلئے دنیا بھر کے ممالک میں بیشر 1 سے 2 یا 3 بجے تک  دوپہر کا وقفہ کیا جاتا ہے تاکہ لوگ لنچ  کے بعد کچھ قیلولہ کر سکیں۔


☜    آج پورا یورپ رسول اللہﷺ کی سنت کو عملاً اپنائے ہوئے ہے اور پورے یورپ میں  دوپہر 1 سے 3 بجے تک کا وقفہ ہوتا ہے۔  انہوں نے سنتِ رسولﷺ  پر ریسرچ کی، اپنایا اور ہم سے کہیں بہتر صحت کا معیار رکھتے ہیں۔


“۵” ۔  *"کھانے سے پہلے پھل نوش فرمانا"*


رسول اللہﷺ  ہمیشہ کھانا کھانے سے پہلے فروٹ  نوش فرمایا کرتے تھے آپﷺ  کی عادتِ مبارکہ تھی کہ آپ کھانے کے بعد پھل نوش نہ فرما تے تھے۔


☜   مختلف پھلوں میں 90 سے 99 % تک  پانی کی مقدار ہوتی ہے آپﷺ نے چونکہ کھانا کھانے کے بعد پانی پینے سے منع فرمایا ہے جبکہ کھانے سے قبل پانی پینے کی ترغیب دلائی ہے۔


 ☜   اس لئے  مختلف پھل بھی چونکہ پانی کی بہت زیادہ مقدار رکھتے ہیں  اس لئے انکو کھانے سے پہلے کھانے سے جسم اور خاص طور پر معدہ اور آنتوں کو توانائی ملتی ہے۔


☜    کیونکہ کھانے کو ہضم کرنے میں معدہ  اور آنتوں  کا بہت اہم کردار ہوتا ہے اور یہ عمل انکی کارکردگی بڑھانے میں انکے لئے مددگار ثابت ہوتا ہے ۔ اور یہ بات بھی  سائنسی مشاہدات سے ثابت شدہ ہے۔ فروٹ میں موجود غزائیت سے خالی معدہ کو زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔ 


“۶” ۔ *"غذا کے بعد پانی نہ پینا"*


رسول اللہﷺ  کبھی بھی کھانے کے بعد پانی نہ پیتے تھے۔


☜    آج علم و تحقیق سے جو باتیں سامنے آئ ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ اس سنتِ مبارکہ پر عمل نہ کرنے کے اسقدر نقصانات ہیں کہ گمان بھی نہیں کیا جا سکتا۔ 


☜   جب ہم کھانے کے بعد پانی پیتے ہیں تو کھانے میں  جسقدر بھی فیٹس ہوتے  ہیں وہ کھانے سے نکل کر معدے کے اوپر والے حصے کی طرف آجاتے ہیں۔


☜     باقی کھانا ہاضمے کے دوسرے مرحلے کیلے چھوٹی آنت میں چلا جاتا ہے اور اس طرح معدے میں رہ جانے والا فیٹ اور پروٹین معدے کے اند انتہائ نقصان دہ گیسسز پیدا کرتے ہیں جبکہ ان سب کو کھانے کیساتھ مکس ہو کر نظام انہظام  کے اگلے مرحلے میں جانا تھا۔ ہم نے پانی پی لیا یا فروٹ کھا   لیا تو یہ ہماری صحت کی بربادی کیلئے معدے ہی میں رہ گئے۔


☜   ایک حدیث رسولﷺ  کا مفہوم ہے  کہ اگر کھانا کھا لینے کے بعد پانی کے حاجت ہو تو محض چند ایک گھونٹ لے لو اور اسکے بعد روٹی کا ایک لقمہ کھا لو۔


☜   جاپانی ریسرچ ہے کہ کھانے کے بعد پانی پینے سے جو فیٹ اوپر آ رہے تھے اور آپ نے جو بعد میں لقمہ کھا لیا تو فیٹس کے اوپر آنے کا سلسلہ نہ صرف وہیں رک جاتا ہے بلکہ وہ دوبارہ غذا کا حصہ بن جاتے ہیں۔


☜   اسلئے کھانا کھانے کے بعد پانی ہرگز نہیں پینا چاہیے کہ چو پیٹ میں نہ صرف گیسسز، تیزابیت، بدہضمی کا باعث بنتے ہیں بلکہ بہت سے دل کے امراض کا تعلق بھی اسی سنتِ مبارکہ پر عمل نہ کرنے کے سبب سے ہی ہے۔ 


“۷” ۔ *"وضو"*


☜   ہم دن میں پانچ فرض نمازوں  کیلے کم از کم پانچ بار وضو کرتے ہیں کیونکہ وضو کے بغیر نماز نہیں ہوتی اور  منہ، ناک ہاتھ، بازو،  سر  اور پاوں دھوئے بغیر وضو نہیں ہوتا۔ یعنی دن میں پانچ بار ہم جسم کے ان تمام اعضاء کو دھوتے ہیں۔  


☜   وضو میں ہم جسم کے تمام ظاہری اعضاء  دھوتے ہیں کہ جن پر مٹی اور کاربن لگ جاتی ہے۔ 


☜   آج سائنسی مشاہدات یہ بات ثابت کرتے ہیں کہ جسم کے جن اعضاء پر مٹی یا کاربن لگ جاتی ہے تو اگر ان کو صاف نہ کیا جائے اور وہ جسم کے اس حصے پر زیادہ دیر لگے رہیں تو ان اعضاء اور دماغ کا کنکشن کمزور ہو جاتا ہے۔  یعنی جسم کا اعصابی نظام کمزور ہو جاتا ہے۔


☜    چونکہ وہ مسلسل دماغ کو یہ پیغام بھیج رہے ہوتے ہیں کہ جسم پر کوئ چیز آ گئ ہے اور اسکی صاف کا اہتمام کیا جائے۔


☜   اگر  ایک شخص صبح منہ دھوتا ہے اور اسکے بعد شام میں  آکر دھوتا ہے تو اسکے اعضا اور دماغ کا تعلق کمزور پڑ جاتا ہے کہ جس سے بعد میں وہ بہت سے اعصابی مسائل کا شکار ہو سکتا ہے۔


 ☜   اسلام کم از کم دن میں پانچ بار آپکے اعضاء کی صفائی کا بند بسٹ کرتا ہے اور جمعہ کے روز ناخن، زیر ناف اور بغلوں کے غیر ضروری بال کاٹنے سمیت مکمل صفائی کا اہتمام کرتا ہے اسی لئے جمعہ کا غسل ہر مسلمان پر واجب ہے۔ 


☜   رسول اللہﷺ نے نہ صرف ایسا کرنے کا حکم فرمایا ہے بلکہ یہ سب آپﷺ کی سنت مبارکہ کا حصہ بھی ہے۔   


 


“۸”  *"جلد سونا"*


رسولﷺ کی ایک اور عادتِ مبارکہ یہ بھی تھی کہ آپﷺ رات جلد سو جایا کرتے تھے۔ عموما آپﷺ  نماز عشاء کے فورا بعد سو جاتے تھے۔ یعنی رات جلد سونا اور صبح جلد اٹھنا آپﷺ کے معمولات میں شامل تھا۔


☜   ہماری بایولاجیکل واچ جو کہ ہمارے پورے جسم کے نظام کو منظم کرتی ہے جب یہ باہر اندھیرا دیکھتی ہے تو یہ آپکے جسم کو سونے کا سگنل دے دیتی ہے جسم کو تیاری کیلئے یہ ڈیڑھ سے دو گھنٹے کا ٹائم دیتی ہے  کہ اس وقت تک آپکو لازمی سونا ہے۔ 


☜     نوٹ کیجئے کہ نماز مغرب اور نماز عشاء میں بھی تقریبا اتنا ہی دورانیہ ہوتا ہے ا


☜    اسکا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آپکے جسم کے اندر بایولاجیکل واچ کے تحت ایک ڈاکٹر جاگ جاتا ہے جو آپکے پورے جسم کی مینٹیننس کرتا ہے۔ اگر کہیں زخم آگیا ہے وہ اسکو ریپئر کر گا۔ اگر جگر یا کسی اور اعضاء میں کچھ مشکل ہے تو اس پر کام کرے گا۔


☜   بلکہ سونے کے بعد سب سے پہلے جگر پر ہی کام ہوتا ہے اور جو جگر کے مریض ہیں انکے لئے یہ رائے بھی ہے جہاں وہ اپنا علاج کر رہیں ہیں وہ اپنی جگہ لیکن اپنے نیند کے نظام کو بہتر کر کے اپنے جسم کے ڈاکٹر کو علاج کا موقع دیجئے اور پھر اسکے ثمرات دیکھیے۔ 


☜   رات 10 بجے سے بارہ بجے تک جگر اور اسکے ارد گرد کے اعضاء کی مینٹیننس ہوتی ہے اور اسکے بعد درجہ بدرجہ پورے جسم کی مینٹیننس ہوتی ہے اور یہ عمل روزانہ کی بنیاد پر ہوتا ہے۔


☜    اللہ ربالعزت نے آپکے جسم میں ایک آٹومیٹک نظام رکھا ہے اور یہ نظام تب کام کرتا ہے کہ جب آپ جلدی سونے کی عادت اپناتے ہیں۔ 


☜   عہد جہالت میں عربوں میں ایک رواج تھا کہ رات کے کھانے کے بعد انکے ہاں شعر و شاعری اور دیو مالائ کہانیوں کی محفلیں ہوتی تھیں جو رات گئے دو بجے تک چلتی رہتی تھیں اور اس ماحول میں رسولﷺ کا رات جلدی سونا بھی انکے نزدیک ایک قابل اعتراض عمل تھا۔


☜   یہ تو عہد جہالت تھا لیکن آج ماڈرن ایج کا دعوہ کرنے والے ہم مسلمانوں کے ہاں بھی دیر تک جاگنے کو نہ صرف قابل اعتراض نہیں سمجھا جاتا بلکہ کچھ حد تک تو قابل فخر بھی جانا جاتا ہے۔ عہد جہالت کی محفلوں کی جگہ آج ماڈرن انٹر نیٹ اور سیٹیلائٹ ٹیکنالوجی نے لے لی ہے۔


 ☜   لیکن جلدی سونا رسول اللہﷺ  کے معمولات میں تھا کیونکہ جسم کے اندرونی ڈاکٹر کی افادیت سے واقف تھے اور یہی وجہ ہے کہ پوری حیاتِ مبارکہ میں رسول اللہﷺ ایک لمحے کیلئے بھی بیمار نہیں ہوئے۔ 


“۹”۔  *"مسواک کرنا"*


رسول اللہﷺ مسواک کو بہت پسند فرما تے تھے اور خصوصا دن میں پانچ دفعہ ہر نماز میں وضو کیساتھ تو ضرور  اسکا اہتمام فرما تے تھے۔


☜   اسکے علاوہ بھی جب گھر تشریف لاتے، کسی محفل میں حاضری سے پہلے غرض موقع بے موقع مسواک کا اہتمام کرتے اور مسواک کو بہت محبوب رکھتےﷺ ۔


☜   ہوتا یہ ہے کہ جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو دانتوں کے درمیان کھانے کے کچھ نہ کچھ ذرات ضرور رہ جاتے ہیں اور کھانے کے ایک گھنٹے بعد ان میں بیکٹیریا پیدا ہو جاتے ہیں۔ 


☜   محسوس کیجئے گا کہ دانتوں میں رہ جانے والے ذرات دو گھنٹوں پر نرم ہو جاتے ہیں اور اسکی وجہ یہ بیکٹیریا ہی ہیں۔


☜    اس لئے ہمیں کہا گیا کہ کھانے سے پہلے، بعد، سونے سے پہلے، بعد مسواک کا اہتمام کیا جائے۔ ورنہ یہ آپکے ہارٹ اٹیک کا بھی سبب بن سکتی ہے۔


 ☜   آج امریکہ اور مغربی ممالک میں صبح اٹھتے بغیر دانت منہ صاف کیے کھانے پینے کا رواج عام ہے جو ان میں طرح طرح کی بیماریوں کا سبب بن رہا ہے۔


 ☜   آسٹریلیا کی ایک یونیورسٹی نے ہارٹ اٹیک کے پانچ سو مریضوں پر ریسرچ کی انہوں نے جہاں اور بہت سی وجوہات بیان کیں وہاں ایک کامن وجہ یہ بھی سامنے آئ کہ یہ لوگ ٹوتھ برش کرنے کے عادی نہ تھے جسکے سبب انکے دانتوں میں جما میل پیٹ میں جا کر اسقدر ملٹی پلائ ہوا کہ وہ ہارٹ کی آرٹریز کو بلاک کرنے کا سبب بنا۔


 ☜   انکو ہارٹ اٹیک کا اصل سبب انکے دانتوں کا میل تھا جبکہ ہمیں رسول اللہﷺ مسواک کی اس حد تک تلقین فرمائ کہ ایک موقع پر فرمایا کہ اگر امت پر بھاری نہ ہوتا تو میں امت پر مسواک کو فرض قرار دے دیتا۔


☜   آج کی ماڈرن سائنس یہ ثابت کر چکی ہے کہ جن لوگوں کو ٹوتھ برش زیادہ کرنے کی عادت ہوتی ہے انکو غصہ کم آتا ہے اور وہ اکثر ٹھنڈے مزاج، پرسکون رہتے ہیں۔


☜    جس شخص کو زیادہ غصہ آتا ہو، بلڈ پریشر اکثر ہائی رہتا ہو، طبیعت میں بےچینی،  تو وہ زیادہ سے زیادہ مسواک کیا کرے دو تین ماہ ہی میں وہ اسکے حیران کن معجزاتی اثرات پائے گا۔


“۱۰”۔    *"ہفتے میں دو روزے"*


رسول اللہﷺ کے معمولات میں پیر اور جمعرات کا روزہ بھی شامل تھا اور آپﷺ نے ان روزوں کو رکھنے کی ترغیب بھی دلائ۔  یعنی کہ ہفتے میں دو روزے۔ 


☜   رسول اللہﷺ کا قولِ مبارک ہے کہ مسلمان ایک آنت میں کھانا کھاتا ہے جبکہ کافر تین آنت میں۔ اور ہمیں نصیحت فرمائ کہ جب خوب بھوک لگے تو کھانا کھاو اور ابھی بھوک باقی ہو تو چھوڑ دو۔ 


قولِ۔  *یہ عمل آج جدید میڈیکل کی زبان میں۔  "آٹو فیجیا"  (Autophagia) کہلاتا ہے۔*


☜   یہ انسانی جسم کو صحتمند رکھے کا بہت عظیم راز ہے۔ 


☜   ہوتا یہ ہے کہ جب ہم معمول کے مطابق اپنی ضرورت سے زیادہ کھانا کھاتے رہتے ہیں تو جسم میں ایکسٹرا پروٹین، فیٹس اکٹھے ہو جاتے ہیں جو کہ جسم کی ضرورت سے زائد ہونے کے سبب حسم میں زہر کا کردار ادا کرتے ہیں اور مختلف بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔


☜   آج کی عام بیماریاں شوگر، کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کا بنیادی سبب یہی ایکسٹرا فیٹس ہی بنتے ہیں۔


☜    جب آپکو بھوک لگتی ہے تو جسم کے "ہنگر جوسز" (hunger juices) یعنی جسم میں کھانا ہضم کرنے کا خود کار نظام پوری طرح سے تیار ہو جاتا ہے۔ 


☜    اگر ہم نے سو لقمے کھانے تھے مگر ستر پر ہاتھ روک لیا تو باقی تیس لقمے کہ جنکی جسم کو ضرورت تھی جسم وہ ضروت ان ایکسٹرا پروٹین اور فیٹس کو کھا کر پورا کرتا ہے۔


☜   جسم اپنے خودکار نظام کے تحت اکٹھے ہونے والے زہر کو ختم کرتا رہتا ہے اور آپ صحتمند رہتے ہیں۔


☜   اب جب تین روز کچھ کوتاہی ہو گئی اور آپ نے پیر کو روزہ رکھ لیا تو دن بھر کے طویل روزے کے باعث *آٹو فیجیا* کے عمل کو ایکٹو ہونے کا بھرپور موقع ملتا ہے اور تین روز کی کوتاہی کو وہ ریپئر کر دیتا ہے پھر دو روز کے معمولات اور جمعرات کا پھر روزہ۔ 


☜  جب یہ سنتِ رسولﷺ آپکے معمولات کا حصہ بن جاتی ہے تو  بیماری پیدا کرنے والے سیل *آٹو فیجیا* کا عمل ہفتے میں دو بار دھرائے جانے کے باعث اکٹھے ہی نہیں ہو پاتے اور آپ سدا صحتمند رہتے ہیں۔


*آج ہم سائنسی تحقیقات پر بہت یقین رکھتے ہیں، کیا ہم اس انتظار میں ہیں کہ سائنس رسول اللہﷺ کی سنتِ مبارکہ کو پروف کرے تو ہم اللہ کے رسولﷺ  سنتوں پر عمل کرنا شروع کریں گے۔* 


حقیقت یہ ہے کہ سائنس رسول اللہﷺ کی سنتوں سے بہت پیچھے ہے اور آپﷺ  کی ساری حیاتِ طیبہ، سنتیں ہمارے لئے مشعل راہ ہیں اور انہی میں ہمارے لئے دنیا و آخرت کی کامیابیاں اور راحتیں ہیں۔  


*لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِىۡ رَسُوۡلِ اللّٰهِ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ*


(اے مسلمانو ! ) تمہارے لیے اللہ کے رسولﷺ (کی زندگی) میں ایک بہترین نمونہ ہے الأحزاب۔21"*

Wednesday, July 15, 2020

دھوکے کا گھر



دھوکے کا گھر

امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ ایک بادشاہ تھا. اس کا ایک باغ تھا. اس کے کئی حصے تھے.
 بادشاہ نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ میرے لئے اس ٹوکری میں بہترین اور عمدہ قسم کے پھل لے آؤ.مگر شرط یہ ہے کہ جس حصے میں جاؤ اور وہاں تمہیں کوئی پھل پسند نہ آئے تو دوبارہ اس حصے میں نہ آنا. وہ آدمی باغ کے ایک حصے میں داخل ہوا تو وہاں اسے کوئی پھل پسند نہ آیا. اسی طرح وہ ایک ایک کر کے تمام حصوں میں گیا، لیکن کوئی ایک بھی پھل اسکے دل کو نہ بھایا. جب وہ آخری حصے میں پہنچا تو حیرت ذدہ ہوا کیونکہ وہاں کچھ بھی نہ تھا اور وہ شرط کے مطابق واپس ان حصوں میں جا بھی نہیں سکتا تھا جہاں پھل تھے. مجبوراً وہ خالی ٹوکری لے کر بادشاہ کے سامنے حاضر ہوا. بادشاہ نے پوچھا میرے لئے کیا لائے ہو؟ اس نے جواب دیا .. کچھ بھی نہیں لایا...
امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بادشاہ سے مراد اللہ تعالی کی ذات ہے . باغ سے مراد انسان کی زندگی ہے اور ان حصوں سے مراد انسان کی زندگی کے ایام ہیں. ٹوکری سے مراد انسان کا نامہ اعمال ہے ... انسان کہتا ہے کہ میں کل سے نیک اعمال شروع کروں گا اور کل سے نماز پڑھوں گا لیکن کل کل کرتے ایک دن موت اسے اپنی آغوش میں لے لیتی ہے اور جو دن گزر جاتے ہیں وہ واپس نہیں آتے.. تو یہ اللہ کے پاس خالی دامن چلا جاتا ہے ..اس سے معلوم ہوا کہ دنیا دھوکے کا گھر ہے...

Friday, June 19, 2020

حج


ایک بہت هی گنہگار شخص حج ادا کرنے گیا وهاں کعبہ کا غلاف پکڑ کر بولا الٰہی اس گھر کی زیارت کو حج کہتے ہیں اور کلمہ حج میں دو حرف ہیں، “ح” سے تیرا حکم اور “ج” سے میرے جرم مراد ہیں۔ تو اپنے حکم سے میرے جرم معاف فرما دے ۔ آواز آئی ! اے میرے بندے تو نے کتنی عمدہ مناجات کی پھر کہو ! وہ دوبارہ نئے انداز سے یوں بولا : اے میرے بخشن ہار! اے غفار! تیری مغفرت کا دریا گنہگاروں کی مغفرت و بخشش کیلئے پرجوش ہے اور تیری رحمت کا خزانہ ہر ایک کیلئے کھلا ہے۔ الٰہی ! اس گھر کی زیارت کو حج کہتے ہیں اور حج دو حرف پر مشتمل ہے ح” اور “ج۔ ح” سے میری حاجت اور ج” سے تیرا جُود و کرم ہے۔ تو اپنے جُود و کرم سے اس مسکین کی حاجت پوری فرما دے.آواز آئی اے میرے بندے تو نے کیا خوب حمد کی، پھر کہو۔ وہ پھر عرض کرنے لگا اے خالق کائنات ! تیری ذات ہر عیب و نقص اور کمزوری سے پاک ہے تو نے اپنی عافیت کا پردہ مسلمانوں پر ڈال رکھا ہے۔ میرے رب اس گھر کی زیارت کو حج کہتے ہیں حج کے دو حرف ہیں ح” اور “ج ح” سے اگر میری حلاوت ایمانی اور ج” سے تیرا جلال مراد ہے تو تو اپنے جلال کی برکت سے اس ناتواں ضعیف بندے کے ایمان کی حلاوت کو شیطان سے محفوظ رکھناآواز آئی “اے میرے مخلص ترین عاشق و صادق بندے ! تو نے میرے حکم میرے جودو کرم اور میرے جلال کے توسل سے جو کچھ طلب کیا ہے تجھے عطا فرمایا ہمارا تو کام ہی مانگنے والے کا دامن بھر دینا ہے ، مگر بات تو یہ ہے کوئی مانگے تو سہی، کسی کو مانگنے کا سلیقہ تو آتا ہو۔ ﺍﮮ الله هم جیسے گنہگاروں کو بهی مانگے کا سلیقه اور توفیق عطا فرما.. آمین ثم آمین

نفاق


عبد المعید مدنی صاحب (علیگڑھ) کی " نفاق" پر ایک تحریر.
انسان کے قلب و ذہن پر جب نفاق کی حکمرانی قائم ہو جاتی ہے تووہ امتیاز حق وباطل کی صلاحیت یکسر کھودیتا ہے ۔عالم فاضل ہو کربھی اس‌لایق نہیں رہتا کہ وہ عملی وفکری کسی بھی سطح پرحق وباطل کے درمیان امتیاز قایم رکھ سکے۔ 

نفاق دلی روگ ہے۔متعدد ‌الجہات روگ ہے۔ پہلے  وہ انسان کو خبیث النفس بناتا ہے ۔جتنا گاڑھا نفاق ‌ہوتا ہے 
اتنا ہی انسان خبیث النفس بنتا ہے ۔بدباطن خبیث النفس انسان کے اندرلالچ ‌کمینگی‌،مکر‌،فساد خودغرضی نقطہ عروج پر ھوتی ہے ۔اسے ہر خیر شر نظر آتا ہے ۔وہ مطلب برآری میں اتنا آکے نکل جاتا ہے کہ انسان اور
سماج کا غیرشعوری یا شعوری دشمن بن جاتا ہے ۔خبیث
النفس انسان کی سرگرمیاں مفاد ذات اور مضرت غیر پر منحصر ہوتی ہیں ۔ اس کی مفاد پرستانہ منافقانہ سرگرمیاں اسے جھوٹا بے ایمان فریبی سازشی بیوفا،دل ونگآہ کا اندھا بنا‌دیتی ہیں اس کی منافقت اس کے ہر تصرف اور قول وفعل میں جھلکتی ہے 

منافقت نہ قرآن کی عظمت کو سمجھتی ہے،نہ نبی کی نبوت کو سمجھتی ہے۔وہ صدیق کی صداقت کا بھی ادراک نہیں کرسکتی۔اسے ام المومنین صدیقہ بنت الصدیق کی عصمت کا بھی پاس لحاظ نہیں رہتا۔اسے فاروق کے رعب و جلال اور ‌ذوالنورین کی حیا بھی متاثر نہیں کرتی۔نفاق بوڑھے نبی باپ کی گریہ وزاری پر‌رحم نہیں کھاتا،نہ معصوم نبی بھایی کیخلاف قاتلانہ سازش سے باز رکھتا ہے ۔

نفاق کو انسان کی‌بدنیتی اورخباثت‌نفس برابر‌ کھاد پانی دیتی رہتی ہے اور اس کا یہ زہریلا جہنمی 
درخت  تناور ہوتا رھتا ہے ۔اور منافق کو‌ اس سے 
کذب افتراء تہمت طرازی میں انرجی ملتی رہتی ہے۔

منافق کا ٹار گٹ ہمیشہ ‌سچایی‌اور سچے،شرافت اور
شرفاء ہوتے ہیں۔کیوں‌کہ یہان کے دشمن ہوتے ہیں ۔اوران کو ٹھگنا آسان ہوتاہے اور ان کو ستا کر اس کی اذیت پسندی کی طبیعت‌کو‌ مزا ملتا ہے ۔

نفاق دل کی وحشت اور‌حسد کانام ہے۔جس دل میں نفاق بیٹھ جاتا ہے وہ شر ،تفسیر شر،اور تخلیق شر کے پیچھے ایسے بھاگتا ہے جیسے بلی چھیچھڑے،اور کتا
ہڈی کی طرف بھاگتا ہے۔منافق‌شرو فساد میں مجتھد بن جاتا ہے ۔وہ اخلاص سے شر برآمد کرتا ہے۔وہ اچھی
سیرت وکردار کو گندگی کا ڈھیر بنا دیتا ہے۔اور ساری
مکاریوں ریاکاریوں بےوفاییوں‌خیانتوں اور اکاذیب کو 
فضائل وکمالات بنا دیتا ہے ۔اس کی زندگی کا مشن بن جاتا ہے اچھے برے ،خیروشر ،حق وباطل ،یقین ووہم 
اور تاریکی واجالے کے درمیان خلط ملط کرنا۔ 

منافق ایک بےرحم شکاری ہوتاہے۔اسے شکار کے ان گنت طریقے آتے ہیں۔ اسے چرب زبانی آتی ہے، وہ جھوٹ ایسی فنکاری سے بولتاہے کہ سچایی  عش عش کرے۔وہ عذر خواہی اورمعذرت ایسے کرےگا کہ اس کی  خطاکاریاں فضایل ومحامد بن جاییں ۔اس کی باریک 
چالیں ایسی ہوتی ہیں کہ شریف انسان اس پر فدا ہو‌
جاے ۔شکار جب اسکی دسترس میں ہو تو وہ قصایی بن جاتاہے ہے ۔اوردسترس سے باہر ہو تو پجاری بن جاتا ہے منافق کو رونا بھی آتا ہے بھڑکانا وبھرمانا بھی آتا ہے۔منافق کا سب سے بڑا ہتھیار ہے کردار کشی ،تہمت 
طرازی،جعلسازی‌اور کذب سازی۔برادارن یوسف سے لےکراب تک منافق کی فساد انگیزی کا سب سے بڑا ہتھیار یہی ہے 

منافق‌ تنگ دل کینہ‌پرور ذلیل وخسیس‌بے  کرداراور ڈھیٹ بن جاتا ہے۔ اس کی ذات شرو فساد کی آماجگاہ
بن جاتی ہے ۔وہ رسوا ہوکر بھی خوش رھتا ہے ۔کیوں کہ دوسروں کو رسوا کرنااس کی عین حیات ہے۔منافق بہت ہانکو اور پھینکو بھی ہوتاہے۔یہ‌اسکے لب و لہجے
کی خاص پہچان ہوتی ہے۔منافق مسکین رسوائیوں میں جیتا ہے لیکن اکڑ ومظاھر اکڑ میں اس کا کویی ثانی نہیں ہوتا۔منافق اپنا الو سیدھا کرنے کے  لیےموافق مخالف،اچھے برے سب سے پینگیں بڑھاتا ہے
دونوں پارٹیوں سے ساز باز رکھتا ہے چاپلوسی کرتا ہے 
منافق لوگوں‌کو ‌لڑانے اور‌آگ‌لگانے میں ماہر ہوتا ہے ۔
اس کا کویی دین مذھب اصول عقیدہ اور مسلک نہیں 
ہوتا جو ہوتاہے دکھاوا ہوتا ہے۔اس کے لیے سب کچھ 
اس کی اکڑ ،اس کی ذاتی مصلحتتیں اورذاتی فوائد
ہوتے ہیں ۔وہ اپنے فائدے کے لئے دین اخلاق رشتے
محبتیں اچھے تعلقات سب کو چند سکنڈ میں قربان کر سکتا ہے ۔

نفاق ذاتی بھی ہوتا ہے اور اجتماعی بھی ہوتا ہے ۔نفاق رویہ اور نظریہ بھی بن جاتا ہے ۔آج صلحاء واتقیا ء کی
مختصر جماعت کو چھوڑ کرہر انسان چھوٹا یا بڑ ا
منافق‌ہے۔نفاق فی العقیدہ بھی ہے اورنفاق فی الاخلاق اور عمل بھی ۔اور اتنا مستحکم ہے کہ سالار کارواں بنا ہوا ہے ۔اور سارے نفاق آج سماجی رویہ‌بن چکے ہیں ۔

منافق کافر بنے یا مسلمان ، جب وہ نقاق میں پختہ ہو‌جاتا ہےتو‌دونوں کی سرگرمیاں یکساں ہںو جاتی ہیں
نفاق کا کویی مذہب و مسلک ‌نہیں ہوتا۔اس کی بس ایک پہچان ہوتی ہے۔ذات‌ومفاد ذات۔

آج نفاق زندگی کی ہر شے میں حکمراں ہے ۔ مذہب سیاست تجارت حکومت تعلیم تربیت اخلاق عادات 
عبادات رویے سوچ معاشرت۔۔۔۔۔۔ اور ہر شے میں دورخا پن ۔ظاہر کچھ باطن کچھ ۔پردہ داریاں مکاریاں دوغلہ پن۔،مکر فریب ‌دکھاوا ۔حقیقت مستور جھوٹ بہ‌شکل
حقیفت۔

مساجد مدارس،رکوع سجود  ا لتجاییں دعائیں،تقریریں تحریریں،فقر‌ وغنا،جبے  قبے  عمامے  ٹوپیاں  ڈارھی اورتسابیح بھی نفاق کی یلغار سے محفوظ نہیں ۔
 

آج نفاق غلیظ سے‌سارا عالم تباہ‌ھے۔ نفرتیں دوریاں 
شکوہ سنجیاں لڑاییاں‌،تباہ کاریاں سب نفاق کا نتیجہ 
ہیں سب سے بدبودار نفاق مولوی کا ہوتا ہے اور ان کا جو دین سے لگاو‌رکھنے کے دعوی دارر ہںتے ہیں۔

Tuesday, November 19, 2019

30 Pare




*तीस पारे तरजुम्मे के साथ*
*नोट आप को जो पारा पढ़ना या सुन्नना हो उस नंबर पर जाकर हल्के से क्लिक करे*

پارہ نمبر 1 http://bit.ly/2qpLHGY  
پارہ نمبر2 http://bit.ly/2qnS2Ha
پارہ نمبر3 http://bit.ly/2sbSqoq
پارہ نمبر4 http://bit.ly/2r6TOeq
پارہ نمبر5 http://bit.ly/2qzzsYk
پارہ نمبر6 http://bit.ly/2qI4EE2
پارہ نمبر7 http://bit.ly/2rW88HS
پارہ نمبر8 http://bit.ly/2qK0aO4
پارہ نمبر9 http://bit.ly/2rBqzB0
پارہ نمبر10 http://bit.ly/2s3dkdd
پارہ نمبر11 http://bit.ly/2so5po5
پارہ نمبر12 http://bit.ly/2rzgVP9
پارہ نمبر13 http://bit.ly/2rSIJ1l
پارہ نمبر14 http://bit.ly/2sk5Lid
پارہ نمبر15 http://bit.ly/2rKJHw3
پارہ نمبر16 http://bit.ly/2sMTr7y
پارہ نمبر17 http://bit.ly/2r9opp2
پارہ نمبر18 http://bit.ly/2rpK4c8
پارہ نمبر19 http://bit.ly/2rpq1iW
پارہ نمبر20 http://bit.ly/2rAX4Mc
پارہ نمبر21 http://bit.ly/2rBv2Aa
پارہ نمبر22 http://bit.ly/2sbmkft
پارہ نمبر23 http://bit.ly/2rtPXpH
پارہ نمبر24 http://bit.ly/2sfUCOE
پارہ نمبر25 http://bit.ly/2smfZxF
پارہ نمبر26 http://bit.ly/2tLUEvC
پارہ نمبر27 http://bit.ly/2tru5wz
پارہ نمبر28 http://bit.ly/2rXeW98
پارہ نمبر29 http://bit.ly/2s5NLEk
پارہ نمبر30 http://bit.ly/2s1BBB4

Sunday, February 17, 2019

دعائیں

تمام قران میں موجود دعاووں کو اس نے بہترین انداز میں جمع کر دیا اسے یاد کریں اور دوسروں کو بھی بھیجیں*                                                           

✅  رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ

✅ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

✅  رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ

✅ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ ۖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا ۚ أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ

✅ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ

✅ رَبَّنَا إِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمٍ لَا رَيْبَ فِيهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ

✅ رَبَّنَا إِنَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

✅ رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً ۖ إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ

✅ رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ

✅ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ

✅رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

 ✅ رَبَّنَا إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ ۖ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ

✅ رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِلْإِيمَانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَآمَنَّا ۚ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ

✅ رَبَّنَا وَآتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَىٰ رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ

✅ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ نَصِيرًا

✅ قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ

✅ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ

✅ رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ

✅ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلَّذِينَ كَفَرُوا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

✅ رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ ۖ وَإِلَّا تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُنْ مِنَ الْخَاسِرِينَ

 ✅ رَبِّ أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۖ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ

✅ رَبَّنَا إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِي وَمَا نُعْلِنُ ۗ وَمَا يَخْفَىٰ عَلَى اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ

✅ رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي ۚ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ، رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ

✅ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا

 ✅ رَبَّنَا آتِنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا

 ✅  قَالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا وَلَمْ أَكُنْ بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا

✅ قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي, وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي, وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسَانِي, يَفْقَهُوا قَوْلِي، رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا

✅ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ

✅ رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَأَنْتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ

✅ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ

✅  رَبِّ أَنْزِلْنِي مُنْزَلًا مُبَارَكًا وَأَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِينَ

✅ رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ، وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ

✅ رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنْتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ

✅ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ ۖ إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا

✅ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا

✅ رَبِّ هَبْ لِي حُكْمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ، وَاجْعَلْ لِي لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْآخِرِينَ، وَاجْعَلْنِي مِنْ وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيمِ، وَلَا تُخْزِنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ، يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ، إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ.

✅ رَبِّ نَجِّنِي وَأَهْلِي مِمَّا يَعْمَلُونَ

✅  رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ

✅ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي، رَبِّ انْصُرْنِي عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِينَ

✅ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ

✅ رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِي وَعَدْتَهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

✅ رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ

✅ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي ۖ إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ

✅ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ

✅ رَبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْكَ أَنَبْنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ، رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلَّذِينَ كَفَرُوا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

✅ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

✅ رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ... وَنَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ

✅ رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا، إِنَّكَ إِنْ تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا

✅ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَلَا تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلَّا تَبَارًا

✅  رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ

✅ اللَّهُمَّ رَبَّنَا... ارْزُقْنَا وَأَنْتَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ

✅ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ

*ﺃﺭﺳﻠﻬﺎ ﻭﺍﺣﺘﺴﺐ ﺍﻷﺟﺮ ﻋﻨﺪ ﺍلله  والله ولي التوفيق*

Wednesday, May 23, 2018

روزے کے دوران ہمارے جسم کا ردعمل

روزے کے دوران ہمارے جسم کا ردعمل کیا ہوتا ہے اس بارے  کچھ دلچسپ معلومات :-

پہلے دو روزے :-
پہلے ہی دن بلڈ شگر لیول گرتا ہے یعنی خون سے چینی کے مضر اثرات کا درجہ کم ہو جاتا ہے۔ دل کی دھڑکن سست ہو جاتی ہے اور خون کا دباؤ کم ہو جاتا یعنی بی پی گر جاتا ہے ۔اعصاب جمع شدہ گلائ کوجن کو آزاد کر دیتے ہیں جس کی وجہ جسمانی کمزوری کا احساس اجاگر ہو جاتا ہے ۔ زہریلے مادوں کی صفائ کے پہلے مرحلہ میں نتیجتا سر درد ۔ چکر آنا ۔ منہ کا بد بودار ہونا اور زبان پر مواد کےجمع ہوتا ہے 

تیسرے سے ساتویں روزے تک :-

جسم کی چربی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی ہے اور پہلے مرحلہ میں گلوکوز میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔ بعض لوگوں کی جلد ملائم اور چکنا ہو جاتی ہے ۔جسم بھوک کا عادی ہونا شروع کرتا ہے اور اس طرح سال بھر مصرف رہنے والا نظام ہاضمہ رخصت مناتا ہے جس کی اسے اشد ضرورت تھی ۔خون کے سفید جرسومے اور قوت مدافعت میں اضافہ شروع ہو جا تا ہے ۔ ہو سکتا ہے روزے دار کے پھیپڑوں میں معمولی تکلیف ہو اس لیے کہ زہریلے مادوں کی صفائ کا عمل شروع ہو چکا ہے ۔ انتڑیوں اور کولون کی مرمت کا کام شروع ہو جاتا ہے ۔ انتڑیوں کی دیواروں پر جمع مواد ڈھیلا ہو نا شروع ہو جاتا ہے ۔

آتھویں سے پندھدریویں  روزے تک :-
.
آپ پہلے سے توانا محسوس کرتے ہیں ۔ دماغی طور پر چست اور ہلکا محسوس کرتے ہیں ۔ہو سکتا ہے پرانی چوٹ اور زخم محسوس ہو نا شروع ہوں ۔ اس لیے کہ اب آپ کا جسم اپنے دفاع کے لیےپہلے سے زیادہ فعال اور مضبوط ہو چکا ہے ۔ جسم اپنے مردہ یا کینسر شدہ سیل کو کھانا شروع کر دیتا ہے جسے عمومی حالات میں کیموتھراپی کے ساتھ مارنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔  اسی وجہ سے خلیات سے پرانی تکالیف اور درد کا احساس نسبتا بڑھ جاتا ہے ۔اعصاب اور ٹانگوں میں تناؤ اس عمل کا قدرتی نتیجہ ہوتا ہے ۔ یہ قوت مدافعت کے جاری عمل کی نشانی ہے ۔روزانہ نمک کے غرارے اعصابی اکڑاؤکا بہترین علاج ہے ۔

سولویں سے تیسویں روزے تک :-

جسم پوری طرح بھوک اور پیاس کو برداشت کا عادی ہو چکا ہے ۔ آپ اپنے آپ کو چست ۔ چاک و چو بند محسوس کرتے ہیں ۔ان دنوں آپ کی زبان بالکل صاف اور سرخی مائل ہو جاتی ہے ۔ سانس میں بھی تازگی آجاتی ہے ۔ جسم کے سارے زہریلے مادوں کا خاتمہ ہو چکا ہے ۔ نظام ہاضمہ کی مرمت ہو چکی ہے ۔ جسم سے فالتو چربی اور فاسد مادوں کا اخراج ہو چکا ہے۔بدن اپنی پوری طاقت کے ساتھ اپنے فرائض ادا کرنا شروع کر دیتا ہے ۔ بیس روزوں کے بعد دماغ اور یاد داشت تیز ہو جاتے ہے ۔ توجہ اور سوچ کو مرکوز کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے ۔ بلا شک بدن اور روح تیسرے عشرے کی برکات کو بھر پور انداز سے ادا کرنے کے قابل ہو جاتا ہے ۔
یہ تو دنیا کا فائدہ رہا جو بے شک ہمارے خالق ہماری ہی بھلائ کے لیے ہم پر فرض کیا ۔ مگر دیکھیے اس کی رحمت کا انداز کریمانہ کہ اس کے احکام ماننے سے دنیا کے ساتھ ساتھ ہماری آخرت بھی سنوارنے کا بہترین بندوبست کر دیا ۔ 
سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم.

Made me cry


وفات سے 3 روز قبل جبکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے گھر تشریف فرما تھے، ارشاد فرمایا کہ 
"میری بیویوں کو جمع کرو۔"
تمام ازواج مطہرات جمع ہو گئیں۔
تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: 
"کیا تم سب مجھے اجازت دیتی ہو کہ بیماری کے دن میں عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے ہاں گزار لوں؟"
سب نے کہا اے اللہ کے رسول آپ کو اجازت ہے۔
پھر اٹھنا چاہا لیکن اٹھہ نہ پائے تو حضرت علی ابن ابی طالب اور حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما آگے بڑھے اور نبی علیہ الصلوة والسلام کو سہارے سے اٹھا کر سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے کی طرف لے جانے لگے۔
اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس (بیماری اور کمزوری کے) حال میں پہلی بار دیکھا تو گھبرا کر ایک دوسرے سے پوچھنے لگے 
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟
چنانچہ صحابہ مسجد میں جمع ہونا شروع ہو گئے اور مسجد شریف میں ایک رش لگ ہوگیا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا پسینہ شدت سے بہہ رہا تھا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں کسی کا اتنا پسینہ بہتے نہیں دیکھا۔
اور فرماتی ہیں: 
"میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے دست مبارک کو پکڑتی اور اسی کو چہرہ اقدس پر پھیرتی کیونکہ نبی علیہ الصلوة والسلام کا ہاتھ میرے ہاتھ سے کہیں زیادہ محترم اور پاکیزہ تھا۔"
مزید فرماتی ہیں کہ حبیب خدا علیہ الصلوات والتسلیم
سے بس یہی ورد سنائی دے رہا تھا کہ
"لا إله إلا الله، بیشک موت کی بھی اپنی سختیاں ہیں۔"
اسی اثناء میں مسجد کے اندر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں خوف کی وجہ سے لوگوں کا شور بڑھنے لگا۔
نبی علیہ السلام نے دریافت فرمایا:
"یہ کیسی آوازیں ہیں؟
عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! یہ لوگ آپ کی حالت سے خوف زدہ ہیں۔
ارشاد فرمایا کہ مجھے ان پاس لے چلو۔
پھر اٹھنے کا ارادہ فرمایا لیکن اٹھہ نہ سکے تو آپ علیہ الصلوة و السلام پر 7 مشکیزے پانی کے بہائے گئے، تب کہیں جا کر کچھ افاقہ ہوا تو سہارے سے اٹھا کر ممبر پر لایا گیا۔
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا آخری خطبہ تھا اور آپ علیہ السلام کے آخری کلمات تھے۔
فرمایا:
" اے لوگو۔۔۔! شاید تمہیں میری موت کا خوف ہے؟"
سب نے کہا:
"جی ہاں اے اللہ کے رسول"
ارشاد فرمایا:
"اے لوگو۔۔!
تم سے میری ملاقات کی جگہ دنیا نہیں، تم سے میری ملاقات کی جگہ حوض (کوثر) ہے، خدا کی قسم گویا کہ میں یہیں سے اسے (حوض کوثر کو) دیکھ رہا ہوں،
اے لوگو۔۔۔!
مجھے تم پر تنگدستی کا خوف نہیں بلکہ مجھے تم پر دنیا (کی فراوانی) کا خوف ہے، کہ تم اس (کے معاملے) میں ایک دوسرے سے مقابلے میں لگ جاؤ جیسا کہ تم سے پہلے (پچھلی امتوں) والے لگ گئے، اور یہ (دنیا) تمہیں بھی ہلاک کر دے جیسا کہ انہیں ہلاک کر دیا۔"
پھر مزید ارشاد فرمایا:
"اے لوگو۔۔! نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سےڈرو۔ نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو۔"
(یعنی عہد کرو کہ نماز کی پابندی کرو گے، اور یہی بات بار بار دہراتے رہے۔)
پھر فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔! عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، میں تمہیں عورتوں سے نیک سلوک کی وصیت کرتا ہوں۔"
مزید فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔! ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا کہ دنیا کو چن لے یا اسے چن لے جو اللہ کے پاس ہے، تو اس نے اسے پسند کیا جو اللہ کے پاس ہے"
اس جملے سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا مقصد کوئی نہ سمجھا حالانکہ انکی اپنی ذات مراد تھی۔
جبکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ وہ تنہا شخص تھے جو اس جملے کو سمجھے اور زارو قطار رونے لگے اور بلند آواز سے گریہ کرتے ہوئے اٹھہ کھڑے ہوئے اور نبی علیہ السلام کی بات قطع کر کے پکارنے لگے۔۔۔۔
"ہمارے باپ دادا آپ پر قربان، ہماری مائیں آپ پر قربان، ہمارے بچے آپ پر قربان، ہمارے مال و دولت آپ پر قربان....."
روتے جاتے ہیں اور یہی الفاظ کہتے جاتے ہیں۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم (ناگواری سے) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھنے لگے کہ انہوں نے نبی علیہ السلام کی بات کیسے قطع کردی؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دفاع ان الفاظ میں فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔! ابوبکر کو چھوڑ دو کہ تم میں سے ایسا کوئی نہیں کہ جس نے ہمارے ساتھ کوئی بھلائی کی ہو اور ہم نے اس کا بدلہ نہ دے دیا ہو، سوائے ابوبکر کے کہ اس کا بدلہ میں نہیں دے سکا۔ اس کا بدلہ میں نے اللہ جل شانہ پر چھوڑ دیا۔ مسجد (نبوی) میں کھلنے والے تمام دروازے بند کر دیے جائیں، سوائے ابوبکر کے دروازے کے کہ جو کبھی بند نہ ہوگا۔"
آخر میں اپنی وفات سے قبل مسلمانوں کے لیے آخری دعا کے طور پر ارشاد فرمایا:
"اللہ تمہیں ٹھکانہ دے، تمہاری حفاظت کرے، تمہاری مدد کرے، تمہاری تائید کرے۔
اور آخری بات جو ممبر سے اترنے سے پہلے امت کو مخاطب کر کے ارشاد فرمائی وہ یہ کہ:
"اے لوگو۔۔۔! قیامت تک آنے والے میرے ہر ایک امتی کو میرا سلام پہنچا دینا۔"
پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ سہارے سے اٹھا کر گھر لے جایا گیا۔
اسی اثناء میں حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور ان کے ہاتھ میں مسواک تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کو دیکھنے لگے لیکن شدت مرض کی وجہ سے طلب نہ کر پائے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھنے سے سمجھ گئیں اور انہوں نے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے مسواک لے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے دہن مبارک میں رکھ دی، لیکن حضور صلی اللہ علیہ و سلم اسے استعمال نہ کر پائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسواک لے کر اپنے منہ سے نرم کی اور پھر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو لوٹا دی تاکہ دہن مبارک اس سے تر رہے۔
فرماتی ہیں:
" آخری چیز جو نبی کریم علیہ الصلوة والسلام کے پیٹ میں گئی وہ میرا لعاب تھا، اور یہ اللہ تبارک و تعالٰی کا مجھ پر فضل ہی تھا کہ اس نے وصال سے قبل میرا اور نبی کریم علیہ السلام کا لعاب دہن یکجا کر دیا۔"
أم المؤمنين حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا مزید ارشاد فرماتی ہیں:
"پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بیٹی فاطمہ تشریف لائیں اور آتے ہی رو پڑیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھہ نہ سکے، کیونکہ نبی کریم علیہ السلام کا معمول تھا کہ جب بھی فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا تشریف لاتیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم انکے ماتھے پر بوسہ دیتےتھے۔
حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے فاطمہ! "قریب آجاؤ۔۔۔"
پھر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے کان میں کوئی بات کہی تو حضرت فاطمہ اور زیادہ رونے لگیں، انہیں اس طرح روتا دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا اے فاطمہ! "قریب آؤ۔۔۔"
دوبارہ انکے کان میں کوئی بات ارشاد فرمائی تو وہ خوش ہونے لگیں۔ 
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا سے پوچھا تھا کہ وہ کیا بات تھی جس پر روئیں اور پھر خوشی اظہار کیا تھا؟
سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کہنے لگیں کہ 
پہلی بار (جب میں قریب ہوئی) تو فرمایا:
"فاطمہ! میں آج رات (اس دنیاسے) کوچ کرنے والا ہوں۔
جس پر میں رو دی۔۔۔۔"
جب انہوں نے مجھے بےتحاشا روتے دیکھا تو فرمانے لگے:
"فاطمہ! میرے اہلِ خانہ میں سب سے پہلے تم مجھ سے آ ملو گی۔۔۔"
جس پر میں خوش ہوگئی۔۔۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں:
پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو گھر سے باھر جانے کا حکم دیکر مجھے فرمایا:
"عائشہ! میرے قریب آجاؤ۔۔۔"
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زوجۂ مطہرہ کے سینے پر ٹیک لگائی اور ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے فرمانے لگے:
مجھے وہ اعلیٰ و عمدہ رفاقت پسند ہے۔ (میں الله کی، انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی رفاقت کو اختیار کرتا ہوں۔)
صدیقہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں:
"میں سمجھ گئی کہ انہوں نے آخرت کو چن لیا ہے۔"
جبرئیل علیہ السلام خدمت اقدس میں حاضر ہو کر گویا ہوئے:
"یارسول الله! ملَکُ الموت دروازے پر کھڑے شرف باریابی چاہتے ہیں۔ آپ سے پہلے انہوں نے کسی سے اجازت نہیں مانگی۔"
آپ علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا:
"جبریل! اسے آنے دو۔۔۔"
ملَکُ الموت نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوئے، اور کہا:
"السلام علیک یارسول الله! مجھے اللہ نے آپ کی چاہت جاننے کیلئےبھیجا ہے کہ آپ دنیا میں ہی رہنا چاہتے ہیں یا الله سبحانہ وتعالی کے پاس جانا پسند کرتے ہیں؟"
فرمایا:
"مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے، مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے۔"
ملَکُ الموت آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے سرہانے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے:
"اے پاکیزہ روح۔۔۔!
اے محمد بن عبدالله کی روح۔۔۔!
الله کی رضا و خوشنودی کی طرف روانہ ہو۔۔۔!
راضی ہوجانے والے پروردگار کی طرف جو غضبناک نہیں۔۔۔!"
سیدہ عائشہ رضی الله تعالی عنہا فرماتی ہیں:
پھر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ہاتھ نیچے آن رہا، اور سر مبارک میرے سینے پر بھاری ہونے لگا، میں سمجھ گئی کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔۔۔ مجھے اور تو کچھ سمجھ نہیں آیا سو میں اپنے حجرے سے نکلی اور مسجد کی طرف کا دروازہ کھول کر کہا۔۔
"رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔! رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔!"
مسجد آہوں اور نالوں سے گونجنے لگی۔ 
ادھر علی کرم الله وجہہ جہاں کھڑے تھے وہیں بیٹھ گئے پھر ہلنے کی طاقت تک نہ رہی۔
ادھر عثمان بن عفان رضی الله تعالی عنہ معصوم بچوں کی طرح ہاتھ ملنے لگے۔
اور سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ تلوار بلند کرکے کہنے لگے:
"خبردار! جو کسی نے کہا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں، میں ایسے شخص کی گردن اڑا دوں گا۔۔۔! میرے آقا تو الله تعالی سے ملاقات کرنے گئے ہیں جیسے موسی علیہ السلام اپنے رب سے ملاقات کوگئے تھے، وہ لوٹ آئیں گے، بہت جلد لوٹ آئیں گے۔۔۔۔! اب جو وفات کی خبر اڑائے گا، میں اسے قتل کرڈالوں گا۔۔۔"
اس موقع پر سب زیادہ ضبط، برداشت اور صبر کرنے والی شخصیت سیدنا ابوبکر صدیق رضی الله تعالی عنہ کی تھی۔۔۔ آپ حجرۂ نبوی میں داخل ہوئے، رحمت دوعالَم صلی الله علیہ وسلم کے سینۂ مبارک پر سر رکھہ کر رو دیئے۔۔۔
کہہ رہے تھے:
وآآآ خليلاه، وآآآ صفياه، وآآآ حبيباه، وآآآ نبياه
(ہائے میرا پیارا دوست۔۔۔! ہائے میرا مخلص ساتھی۔۔۔!ہائے میرا محبوب۔۔۔! ہائے میرا نبی۔۔۔!)
پھر آنحضرت صلی علیہ وسلم کے ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا:
"یا رسول الله! آپ پاکیزہ جئے اور پاکیزہ ہی دنیا سے رخصت ہوگئے۔"
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ باہر آئے اور خطبہ دیا:
"جو شخص محمد صلی الله علیہ وسلم کی عبادت کرتا ہے سن رکھے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور جو الله کی عبادت کرتا ہے وہ جان لے کہ الله تعالی شانہ کی ذات ھمیشہ زندگی والی ہے جسے موت نہیں۔"
سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔۔۔
عمر رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
پھر میں کوئی تنہائی کی جگہ تلاش کرنے لگا جہاں اکیلا بیٹھ کر روؤں۔۔۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی تدفین کر دی گئی۔۔۔
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
"تم نے کیسے گوارا کر لیا کہ نبی علیہ السلام کے چہرہ انور پر مٹی ڈالو۔۔۔؟"
پھر کہنے لگیں:
"يا أبتاه، أجاب ربا دعاه، يا أبتاه، جنة الفردوس مأواه، يا أبتاه، الى جبريل ننعاه."
(ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ اپنے رب کے بلاوے پر چل دیے، ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ جنت الفردوس میں اپنے ٹھکانے کو پہنچ گئے، ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ ہم جبریل کو ان کے آنے کی خبر دیتے ہیں۔)
اللھم صل علی محمد کما تحب وترضی
Main aaj tak iss se achha messege send nahe kr saka.
JazakAllah.

Saturday, May 5, 2018

تلاوت ترتیل کل قرآن ، ایک ایک پارہ کی صورت میں

ماہ مبارک رمضان میں جو لوگ ختم قرآن کا ارادہ رکھتے ھیں ان کے لئے میری طرف سے ایک ھدیہ  ....
تلاوت ترتیل کل قرآن ، ایک ایک پارہ کی صورت میں ، قاری عبد الباسط کی دلنشین آواز میں :

پھلا پاره 1
http://www.sibtayn.com/sound/ar/quran/3abdolbasi6/01.mp3

دوسرا پاره 2
http://www.sibtayn.com/sound/ar/quran/3abdolbasi6/02.mp3

تیسرا پاره 3
http://www.sibtayn.com/sound/ar/quran/3abdolbasi6/03.mp3

چوتھا پاره 4
http://www.sibtayn.com/sound/ar/quran/3abdolbasi6/04.mp3

پانچواں پاره 5
http://www.sibtayn.com/sound/ar/quran/3abdolbasi6/05.mp3

چھٹا پاره 6
http://www.sibtayn.com/sound/ar/quran/3abdolbasi6/06.mp3

ساتواں پاره 7
http://www.sibtayn.com/sound/ar/quran/3abdolbasi6/07.mp3

آٹھواں پاره 8
http://www.sibtayn.com/sound/ar/quran/3abdolbasi6/08.mp3

نواں پاره 9
http://www.sibtayn.com/sound/ar/quran/3abdolbasi6/09.mp3

دسواں پاره 10
http://www.sibtayn.com/sound/ar/quran/3abdolbasi6/10.mp3

گیارھواں پاره 11
http://www.sibtayn.com/sound/ar/quran/3abdolbasi6/11.mp3

بارھواں پاره 12
http://www.sibtayn.com/sound/ar/quran/3abdolbasi6/12.mp3

تیرھواں پارہ 13
http://www.sibtayn.com/sound/ar/quran/3abdolbasi6/13.mp3

چودھواں پارہ 14
http://www.sibtayn.com/sound/ar/quran/3abdolbasi6/14.mp3

پندرھواں پارہ 15
http://www.sibtayn.com/sound/ar/quran/3abdolbasi6/15.mp3

سولھواں پارہ 16
http://www.sibtayn.com/sound/ar/quran/3abdolbasi6/16.mp3

سترھواں پارہ 17
http://www.sibtayn.com/sound/ar/quran/3abdolbasi6/17.mp3

اٹھارھواں پارہ 18
http://www.sibtayn.com/sound/ar/quran/3abdolbasi6/18.mp3

انیسواں پارہ 19
http://www.sibtayn.com/sound/ar/quran/3abdolbasi6/19.mp3

بیسواں پارہ 20
http://www.sibtayn.com/sound/ar/quran/3abdolbasi6/20.mp3

اکیسواں پارہ 21
http://www.sibtayn.com/sound/ar/quran/3abdolbasi6/21.mp3

بائیسواں پارہ 22
http://www.sibtayn.com/sound/ar/quran/3abdolbasi6/22.mp3

تئیسواں پارہ 23
http://www.sibtayn.com/sound/ar/quran/3abdolbasi6/23.mp3

چوبیسواں پارہ 24
http://www.sibtayn.com/sound/ar/quran/3abdolbasi6/24.mp3

پچیسواں پارہ 25
http://www.sibtayn.com/sound/ar/quran/3abdolbasi6/25.mp3

چھبیسواں پارہ 26
http://www.sibtayn.com/sound/ar/quran/3abdolbasi6/26.mp3

ستائیسواں پارہ 27
http://www.sibtayn.com/sound/ar/quran/3abdolbasi6/27.mp3

اٹھائیسواں پارہ 28
http://www.sibtayn.com/sound/ar/quran/3abdolbasi6/28.mp3

انتیسواں پارہ 29
http://www.sibtayn.com/sound/ar/quran/3abdolbasi6/29.mp3

تیسواں پارہ 30
http://www.sibtayn.com/sound/ar/quran/3abdolbasi6/30.mp3

اس پوسٹ کو دوسروں تک پھنچائے ، جو لوگ کسی بھی طرح راہ قرآن پر گامزن ھیں اور اس کتاب آسمانی کی خدمت کرتے ھیں ، بالخصوص ماہ ضیافت الله میں تو بارگاه احدیت میں مأجور ھیں اور یہ چیز ان کے لئے قرب الھی کا سبب ھے ، انشاء الله خداوند ھم سب کو اس کار خیر کی اور قرآن کریم سے مستفید ھونے کی  توفیق عطا فرمائے ، اور ھمیں قرآن کے ساتھ محشور فرمائے آمین .

Sunday, March 4, 2018

مُلکِ شام کے حالات

👈 مُلکِ شام کے حالات
👈 امام مہدی كا ظہور 
اور 
👈نبی صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَسَلَّم كی پیشن گوئیاں .!

اللّٰه کے رَسُول  صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے قیامت کے نشانات بتلاتے ہوئے فرمایا کہ :
" اُونٹوں اور بَکریوں کے چَروَاہے جو بَرہَنَہ بَدَن اور ننگے پاؤں ہونگے وه ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہوئے لمبی لمبی عمارتیں بنوائیں گے اور فخر کریں گے ... "
(صحیح مسلم 8)

ریاض شہر میں عمارتوں کا یہ مقابلہ آج اپنے عُروج پر پہنچ گیا،
 دبئی میں ’’برج خلیفہ‘‘ کی عمارت دنیا کی سب سے اُونچی عمارت بن گئی تو ساتھ ہی شہزاده  ولید بن طلال نے جَدَّه میں اس سے بھی بڑی عمارت بنانے کا اعلان کر دیا ہے جو دھڑا دھڑ بنتی چلی جا رہی ہے، 
عرب کی عمارتیں سارے جہان سے اونچی ہو چکی ہیں ...!

عرض کرنے کا مقصد صرف یہ کہ
میرے پیارے رسول حضرت مُحمَّد صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے جو فرمایا وه پُورا ہو چکا ہے
اور پیشگوئی پُوری ہو کر اپنے نُکتۂ کمال کو پہنچ چکی ہے ...!

عرب کا سب سے زیاده تیل خریداری کرنے والے امریکہ نے صَدَّام کو ختم کر کے تیل کی دولت سے سَیراب مُلک عِرَاق کے کنوؤں پر قبضہ جما لیا ہے
اور لاکھوں بیرل مُفت وصول کر رہا ہے
تو پھر تیل کی گِرتی مانگ نے تیل کی قیمتوں کو نچلی سطح پر پہنچا دیا
جس سے عرب ممالک کا سُنہرا دَور خاتمے کے قریب ہے ...!

■ سوال پیدا ہوتا ہے اس زوال کے بعد کیا ہے ...؟

اللّٰه کے رَسُول صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم کی ایک اور حدیث ہے کہ :
" قیامت سے پہلے سَرزَمینِ عرب دوباره سَرسَبز ہو جائیگی"
(صحیح مسلم)

سعودی عرب اور امارات میں بارشیں شروع ہو چکی ہیں،
مَکَّہ اور جَدَّه میں سَیلاب آ چکے ہیں۔ 

عرب سرزمین جسے پہلے ہی جدید ٹیکنالوجی کو کام میں لا کر سرسبز بنانے کی کوشش کی گئی ہے 
وه قدرتی موسم کی وجہ سے بھی سرسبز بننے جا رہی ہے۔
سعودی عرب گندم میں پہلے ہی خودکفیل ہو چکا ہے،
اب وہاں خشک پہاڑوں پر بارشوں کی وجہ سے سبزه اُگنا شروع ہو چکا ہے،
 پہاڑ سرسبز ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
بارشوں کی وجہ سے آخرکار حکومت کو ڈیم بنانا ہوں گے
جس سے پانی کی نہریں نکلیں گی،
 ہریالی ہو گی،
 سبزه مزید ہو گا،
 فصلیں لہلہائیں گی،
 یُوں یہ پیشگوئی بھی اپنے تکمیلی مَرَاحِل سے گزرنے جا رہی ہے
 اور جو میرے حضور صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے فرمایا اسے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے جا رہے ہیں ...!

اگر احادیث پر غور کریں تو مَشرقِ وُسطیٰ کے زوال کا آغاز مُلکِ شام سے شروع ہوا لیکن شاید عرب حُکمران یا تو یہود و نصاریٰ کی چال سمجھ نہ سکے
یا بے رخی اختیار کی لیکن وجہ جو بھی ہو یا نہ ہو،
سرکار صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَسَلَّم کی بتائی ہوئی علامات کو تو ظاہر ہونا ہی تھا
حدیث کے مطابق ...!

چُنانچہ
حدیث پاک میں ارشاد ہے 
ﺭﺳﻮﻝ اللّٰه صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
" ﺟﺐ ﺍﮨﻞِ ﺷﺎﻡ ﺗﺒﺎﮨﯽ ﻭ ﺑﺮﺑﺎﺩﯼ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﯿﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﻧﮧ ﺭﮨﮯ ﮔﯽ "
(ﺳﻨﻦ ﺍﻟﺘﺮﻣﺬﯼ 2192: ﺑﺎﺏ ﻣﺎﺟﺎﺀ ﻓﯽ ﺍﻟﺸﺎﻡ، ﺣﺪﯾﺚ ﺻﺤﯿﺢ)

میرے محترم و مکرم قارئین کرام یاد ﺭﮐﮭﯿﮟ ...! 
ﺍَﺣﺎﺩﯾﺚِ ﻣُﺒَﺎﺭﮐﮧ ﮐﯽ ﺭُﻭ ﺳﮯ ﺷﺎﻡ ﻭ ﺍﮨﻞِ ﺷﺎﻡ ﺳﮯ ﺍُﻣَّﺖِ ﻣُﺴﻠﻤﮧ ﮐﺎ ﻣُﺴﺘﻘﺒﻞ ﻭَﺍﺑﺴﺘﮧ ﮨﮯ،
ﺍﮔﺮ مُلکِ شام ایسے ہی ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮨﻮتے رہا ﺗﻮ
ﭘُﻮﺭﯼ ﺍُﻣَّﺖِ ﻣُﺴﻠﻤﮧ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺧﯿﺮ ﻧﮩﯿﮟ،
ویسے تو 90 فیصد برباد ہو چکا .........!

اب جبکہ پانچ سالہ خُونریزی میں 8 لاکھ  بےگناه بَچّے، بُوڑھے، عَورتیں شہید اور لاتعداد دُوسرے مُلک کی سرحدوں پر زندگی کی بھیک مانگتے ہوئے شہید ہو رہے ہیں اور اتنے ہی تعداد میں زخمی یا معذور ہو چکے،
لہٰذا شام مُکمَّل تباہی کے بعد اب نزع کی حالت میں ہے ...!

اس حدیث کے حساب سے عرب ممالک کے سُنہرے دَور کے خاتمہ کی اہم وجہ مُلکِ شام کے مَوجُودَہ حالات ہيں،
گویا نبی صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَسَلَّم  کی ایک اور  پیشگوئی کی عَلامَت ظاہر ہو رہی ہے یا ہوچکی ........!

یاد رکھیں ...! 
کہ مُلکِ شام کے مُتعلّق اِسرائیل، رُوس و امریکہ جو بھی جھوٹے بہانے بنائے،
لیکن ان سب کا اَصل ہَدَف جَزیرَة ُالعَرَب ہے
 کیونکہ
کُفَّار کا عقیدہ ہے کہ
 دَجَّال مَسِیحَا ہے
اس وجہ سے یہ لوگ دَجَّال کے اِنتظامات مُکمَّل کر رہے ہیں 
جس کے لیے عرب ممالک میں عَدمِ اِستحکام پیدا کرنا ہے
کیونکہ
مُلکِ شام پر یہود و نصاریٰ قبضہ کرنا چاہتے ہیں
 اور یہ ہو کر رہیگا 
حضرت مہدی عَلیهِ السَّلام کے ظہور سے قبل .....!

چُنانچہ کتابِ فِتَن میں ہے کہ :
" آخری زمانے میں جب مُسلمان ہر طرف سے مَغلوب ہوجائیں گے،
 مُسلسل جَنگیں ہوں گی،
 شام میں بھی عیسائیوں کی حکومت قائم ہو جائے گی،
عُلماء کرام سے سُنا ہےکہ
 سَعُودیہ، مِصر، ترکی بهى باقى نہ رہیگا
ہر جگہ کُفَّار کے مظالم بڑھ جائیں گے،
اُمَّت آپسی خَانہ جَنگی کا شِکار رہےگی.
عرب (خلیجی ممالک سعودی عرب وغیره) میں بھی مسلمانوں کی باقاعدہ پُرشوکت حکومت نہیں رہےگی،
 خَیبَر/ الخبر (سعودی عرب کا چھوٹا شہر مَدینةُ المُنَوَّره سے 170 ک م كے فاصلے پر ہے) کے قریب تک یہود و نصاریٰ پہنچ جائیں گے، 
اور اس جگہ تک ان کی حکومت قائم ہوجائے گی، بچے کھچے مسلمان مَدِینة ُالمُنَوَّرَه پہنچ جائیں گے، 
اس وقت حضرت امام مہدی عَليهِ السَّلام مدینہ منوره میں ہوں گے "

دُوسری طرف دریائے طبریہ بھی تیزی سے خُشک ہو رہا ہے جو کہ مہدی عَلیہِ السَّلام کے ظہور سے قبل خُشک ہوگا ...!

اسلئے جب مَشرقِ وُسطیٰ کے حالات کو خُصُوصاً مُسَلمانوں اور ساری دُنیا کے حالات کو دیکھتے ہیں تو صاف نظر آتا ہے کہ دُنیا ہولناکیوں کی جانب بڑھ رہی ہے،
 فرانس میں حَملوں کے بعد فرانس اور پوپ بھی عالمی جنگ کی بات کر چکے ہیں۔
سوال پیدا ہوتا ہے كه
 اس عالمی جنگ کا مرکز کون سا خطہ ہو گا ...؟ 
وَاضِح نظر آ رہا ہے، مَشرقِ وُسطیٰ ہی مُتَوَقّع ہے ....!

یہاں بھی ہند و پاک کی رَنجِشیں اور کشمکش کے بڑھتے حالات سے بھی لگتا ہے کہ
غَزوه ہند کی طرف رُخ کر رہے ہیں 
کیونکہ حضرت ابو ہریره رَضِىَ اللّٰهُ تَعَالىٰ عَنه سے روایت ہے کہ رَسُولُ اللّٰه
 صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے ارشاد فرمایا :
" میری قوم کا ایک لشکر وَقتِ آخِر کے نزدیک ہند پر چَڑھائی کرے گا
اور اللّٰه اس لشکر کو فتح نصیب کرے گا،
یہاں تک کہ وه ہند کے حُکمرانوں کو بیڑیوں میں جَکڑ کر لائیں گے۔
اللّٰه اس لشکر کے تمام گناہ معاف کر دے گا۔
پھر وه لشکر وَاپس رُخ کرے گا
اور شام میں موجود عیسیٰ ابنِ مَریم عَليهِ السَّلام کے ساتھ جا کر مِل جائے گا "

حضرت ابوہریره رَضِىَ اللّٰه تعالىٰ عَنه نے فرمایا :
" اگر میں اُس وقت تک زندہ رہا تو میں اپنا سب کچھ بیچ کر بھی اُس لشکر کا حِصَّہ بَنُوں گا،
 اور پھر جب اللّٰه ہمیں فتح نصیب کرے گا تو میں ابوہریره (جہنم کی آگ سے) آزاد کہلاؤں گا۔ پھر جب میں شام پہنچوں گا
تو عیسیٰ ابنِ مَریم عَليهِ السَّلام کو تلاش کر کے انہیں بتاؤں گا کہ
 میں مُحَمَّد صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم كا ساتھی رہا ہوں "

رسول پاک صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے تَبَسُّم فرمایا اور کہا : 
"بہت مشکل،
بہت مشکل"
(کتاب الفتن۔ صفحہ ۴۰۹)

(واللہ تعالٰی اعلم)

آنے والے اَدوَار بڑے پُرفِتن نظر آتے ہیں اور اس کے مُتعلّق بھی سَرکار صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے فرمایا تھا کہ میری اُمَّت پر ایک دَور ایسے آئیگا
جس میں فِتنے ایسے تیزی سے آئیں گے 
جیسے تسبیح ٹوٹ جانے سے تسبیح کے دانے تیزی سے زمین کی طرف آتے ہیں،
 لہٰذا اپنی نَسلوں کی ابھی سے تربیت اور ایمان کی فِکر فرمایئے،
موبائل كے بےجا استعمال سے،
 دیر رات تک جاگنے، فیشن اور یہودی انداز اپنانے سے،
نمازوں کو تَرک کرنے سے روكئے ... 
ورنہ آزمائش کا مقابلہ  دُشوار ہو گا .....!

دوستوں چلتے، چلتے ایک آخری بات عرض کرتا چلوں کے
 اگر کوئی ایسی نایاب ویڈیو، قول، واقعہ، کہانی یا تحریر وغیره اچھی لگے، 
تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے،
یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا
لیکن
ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کرده تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو ....!   
جزاک اللہ خیرا کثیرا ...
✴✳*⃣🔵🔴